يَسْأَلُكَ النَّاسُ عَنِ السَّاعَةِ قُلْ إِنَّمَا عِلْمُهَا عِندَ اللَّهِ وَمَا يُدْرِيكَ لَعَلَّ السَّاعَةَ تَكُونُ قَرِيبًا
The people question you concerning the Hour. Say, ‘Its knowledge is only with Allah.’ What do you know, maybe the Hour is near.
Agha Ali Puya Commentary
Commentary on Quran 33:63
[Pooya/Ali Commentary 33:63] Refer to the commentary of Araf: 187.
تفسیر نمونہ - آیت اللہ مکارم شیرازی Commentary
Commentary on Quran 33:63-68
سوره احزاب / آیه 63 - 68
(63) يَسْاَلُكَ النَّاسُ عَنِ السَّاعَةِ ۖ قُلْ اِنَّمَا عِلْمُهَا عِنْدَ اللّـٰهِ ۚ وَمَا يُدْرِيْكَ لَعَلَّ السَّاعَةَ تَكُـوْنُ قَرِيْبًا (64) اِنَّ اللّـٰهَ لَعَنَ الْكَافِـرِيْنَ وَاَعَدَّ لَـهُـمْ سَعِيْـرًا (65) خَالِـدِيْنَ فِـيْهَآ اَبَدًا ۚ لَّا يَجِدُوْنَ وَلِيًّا وَّلَا نَصِيْـرًا (66) يَوْمَ تُقَلَّبُ وُجُوْهُهُـمْ فِى النَّارِ يَقُوْلُوْنَ يَا لَيْتَنَـآ اَطَعْنَا اللّـٰهَ وَاَطَعْنَا الرَّسُوْلَا (67) وَقَالُوْا رَبَّنَـآ اِنَّـآ اَطَعْنَا سَادَتَنَا وَكُبَـرَآءَنَا فَاَضَلُّوْنَا السَّبِيْلَا (68) رَبَّنَـآ اٰتِـهِـمْ ضِعْفَيْنِ مِنَ الْعَذَابِ وَالْعَنْهُـمْ لَعْنًا كَبِيْـرًا ترجمہ (63) لوگ آپ سے قیامت (کے وقت) کے بارے میں سوال کرتے ہیں ، کہہ دیجیئے : اس کا علم صرف خداوند عالم کے پاس ہے ۔ اور آپ کو کیا معلوم کہ شاید قیامت نزدیک ہو۔ (64) خدا نے کافروں پرلعنت کی ہے (اور انھیں اپنی رحمت سے دور رکھا ہے) اور ان کے لیے جلانے والی آگ تیار کر رکھی ہے۔ (65) وہ اس میں ابدتک رہیں گے اور وہاں ان کا نہ کوئی سر پرست ہوگا اور نہ کوئی مدد گار ۔ (66) وہ دن جس میں ان کے چہرے (جہنم کی آگ کے باعث) تبدیل ہو جائیں گے (اور وہ اپنے کیے پر پچھتائیں گے اور) کہیں گے اے کاش ہم نے خدا اور پیغمبر کی اطاعت کی ہوتی۔ (67) اورکہیں گے خدا وندا ! ہم نے اپنے بڑوں اور وڈیروں کی اطاعت کی اور انہوں نے ہمیں گمراہ کیا۔ (68) پروردگارا! تو انھیں دوگنا عذاب دے اور ان پر بڑی لعنت فرما۔
تفسیر نمونہ - آیت اللہ مکارم شیرازی Commentary
Commentary on Quran 33:63-68
قیامت کب آئے گی
تفسیر قیامت کب آئے گی؟ گذشتہ آیات اشرار اور منافقین کے بارے میں گفتگر کررہی تھیں ان آیات میں ان کے تخریبی منصوبوں کی طرف اشارہ ہوا ہے کبھی تو وہ استہزاء اور مسخرہ پن کے طور پر اور کبھی سادہ دل لوگوں کے دلوں میں شکوک وشہبات پیدا کرکے یہ سوال پیش کرتے تھے کہ قیامت ان اوصاف کے ساتھ جو محمدؐ بیان کرتے ہیں ، کب برپا ہوگی ؟ ارشاد ہوتا ہے۔ "لوگ آپ سے قیام قیامت کے بارے میں سوال کرتے ہیں"۔ (يسئلک الناس عن الساعة - یہ احتمال بھی ہے کہ بعض مومنین بھی تحقیق اور جستجو کی غرض سے یا معلومات میں آضافہ کے لیے آنحضرت صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے اس قسم کا سوال کرتے ہوں ، لیکن بعد والی آیات کی طرف توجہ کرنے سے معلوم ہوجائے گا کہ پہلی تفسیرآیت کے معنی سے زیادہ قریب ہے۔ اس بات کی گواہ ایک اور آیت ہے جو اس بارے میں سورہ شوریٰ میں آئی ہے: "وما یدرياک لعل الساعة قریب يستعجل بها الذين لا يؤمنون بها والذين امنو مشفقون منها و یعلمون انها الحق" " آپ کو کیا معلوم شاید قیامت قریب ہو ، لیکن جو لوگ اس پر ایمان نہیں رکھتے اس کے لیے جلدی کرتے ہیں البتہ مومنین اس سے ڈرتے ہیں اور جانتے ہیں کہ وہ حق ہے۔ (شوریٰ 17 ، 18)۔ اس کے بعد موجودہ آیت میں انھیں اس طرح جواب دیا گیا ہے۔ "اے پیغمبر! کہہ دیجیئے اس بات کا علم صرف خدا کے پاس ہے اور خدا کے علاوہ دوسرا کوئی بھی اس سے آگاہ نہیں"۔ (اقل انما علمها عند الله)۔ خواہ وہ انبیاء مرسل ہوں یا ملک مقرب کوئی بھی یہاں باخبر ہونے کا دعوٰی نہیں کرسکتا۔ پھرفرمایا گیا ہے۔" آپ کو کیا معلوم شاید قیامت نزدیک ہو"۔ (ومايدريك لعل الساعة تكون قریبًا)۔ اسی بنا پر ہمیشہ قیامت کے انتظار میں رہنا چاہیئے اور اصولی طور پر اس کے مخفی رہنے کا فلسفہ بھی یہی ہے کہ کوئی شخص اپنے آپ کو امان میں نہ سمجھے اور قیامت کو دور خیال نہ کرے اور خود کو عذاب اور خدائی سزا سے محفوفا تصور نہ کرے ۔ اس کے بعد کفارکو تنبیہ اوراس کے دردناک عذاب کی نوعیت کا ایک گوشہ پیش کرتے ہوئے فرمایا گیا ہے۔" خدا نے کافروں کو اپنی رحمت سے دور کردیا ہے اور ان کے لیے جلانے والی آگ فراہم کر رکھی ہے"۔ (ان الله لعن الكفرين واعدلهم سعيرا)۔ "وہ ہمیشہ ہمیشہ کے لیے اس جلانے والی آگ میں رہیں گے اور اپنے لیے کوئی سرپرست اور مددگارنہ پائیں گے": (خالدين فیها ابدًا لایجدون ولیًا ولانصیرا)۔ خدا ہی تو ہے جوکسی کی مدد کرتا ہے تاکہ وہ اپنے مقصد تک پہنچ جائے ، لیکن قیامت کے دن کفار کا نہ تو کوئی ولی ہوگا اور نہ ہی کوئی نصیر۔ اس کے بعد قیامت میں ان کے دردناک عذاب کے ایک حصے کو بیان کرتے ہوئے فرمایا گیا ہے ۔ "اس دن کو یاد کرو ، جب ان کے چہرے جہنم کی آگ کے سبب بدل جائیں گے": (یوم تقلب وجوههم فی النار). یہ تفسیر یاچہرے کے رنگ کے لحاظ سے ہو کہ کبھی وہ سرخ اور نیلے ہوجائیں گے اور کبھی زرد اور پژمردہ یا آگ کے شعلوں پر ہونے کے لحاظ سے ، یعنی کبھی ان کی ایک سمت آگ پر ہوگی اور کبھی دوسری سمت۔ (اعاذنا اللہ) یہ وہ مقام ہے ، جہاں ان کی حسرت بھری آہیں بلند ہوں گی "اور وہ فریاد کرکے کہیں گے اے کاش ہم نے خدا اور اس کے رسول کی اطاعت کی ہوتی": (یقولون یا لیتنا اطعنا الله واطعنا الرسولًا)۔ اگر ہم اطاعت کرتے تواس قبر کے درد ناک انجام سے دوچار نہ ہوتے۔ اور کہیں گے "پروردگارا! ہم نے اپنے سرداروں اور بڑوں کی اطاعت کی تھی ، انھوں نے ہمیں گمراہ کیاہے": (وقالواربنا انا اطعنا ساد تنا وكبراء ونافا ضلونا السبیلا)۔ ؎1 "ساده" "سید" کی جمع ہے جو بڑے مالک کے معنی میں ہے ، جس کے ذمہ اہم شہروں یا ملک کا نظم ونسق ہوتا ہے، اور "كبراء" "كبير" کی جمع ہے اور بڑے لوگوں کے معنی میں ہے ، خواه یہ بزرگی عمر کے لحاظ سے ہو یا علم کی وجہ سے یا معاشرتی طورپر۔ اس لحاظ سے لفظ "سادہ" معاشرے کے اہم افراد اور سرداروں کی طرف اشارہ ہے اور "كبراء" وہ لوگ ہوتےہیں جو ان کے ماتحت رہ کر ان کے معاون اور مشیر کی حیثیت سے کام کرتے ہیں ، وہ کہیں گے کہ حقیقت میں ہم نے خدا کی اطاعت کے کی بجائے سرداروں اور وڈیروں کی اطاعت کی تھی اور انبیاء کی اطاعت کے بجائے "کبراء" کی اطاعت کی تھی اسی لیے مختلف لغزشوں اور بدبختیوں کا شکار ہوگئے۔ واضح رہے کہ ان کے نزدیک "سیادت" اور "بزرگی" کا معیارصرف طاقت ، لاٹھی، غیرشرعی مال و ثروت اور مکروفریب تھا اور یہاں پر دو تعبیروں کا انتخاب اس لیے ہے کہ وہ کسی حد تک اپنے عذر کی توجہیہ کریں گے اورکہیں گے کہ ہم ان کے ظاہری جاہ و جلال اور رعب و دبدبہ سے مرعوب ہو گئے تھے۔ اس موقع پر گمراہ جہنمی غصے میں پاگل ہوجائیں گے اور خدا سے اپنے گمراہ کرنے والوں کے لیے سخت عذاب کا مطابہ کریں گے اور کہیں گے ۔" خداوندا ! انھیں دوگنا عذاب دے (ایک تو ان کی اپنی گمراہی پر اور دوسرا ہمیں گمرا کرنے پر: (ربنا اتهم ضعفين من العذاب ). " اور ان پر بہت بڑیص لعنت بھیج": (والعنھم لعنا كبيرًا)" یقینا وه عذاب اورلعنت کےمستحق ہیں ، لیکن "عذاب مضاعف" اور" لعن کبیر" کا استحقاق دوسروں کو گمراہ کرنے کی کوشش کی وجہ سے رکھتے تھے۔ یہ بات قابل توجہ ہے کہ سورہ اعراف میں ہے کہ جس وقت یہ گمراه پیروکار اپنے سرداروں اور پیشواؤں کے لیے کئی گنا عذاب کا تقاضا کریں گے تو ان سے کہا جائے گا: "لكل ضعف ولكن لا تعلمون"۔ (اعراف آیت 38)۔ "ان کے لیے بھی کئی گنا عذاب ہے اور تمھارے لیے بھی ، لیکن تم جانتے نہیں ہو۔ ؎2 ۔------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------- ؎1 "الرسولا" اور "السبيلا" کے آخر میں جو الف ہے "الف اطلاق" ( چونکہ الف لام ہے اور تنوین اکٹھے نہیں ہوسکتے) اور یہ آیتوں کے اواخر کی ہم آہنگی کے لیے ہے۔ ؎2 قابل توجہ یہ ہے کہ زیر بحث کی آیات میں "ضعنین" اور سورۂ اعراف کی آیت "ضعف" آیا ہے۔ لیکن "ضعف" کے مفہوم میں غورکرنے سےمعلوم ہوجائے گا کہ دونوں ایک ہی معنی کے حامل ہیں۔ ۔--------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------- سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ ائمہ کفر وضلال کے عذاب کا کئی گنا ہونا واضح ہے ۔ لیکن ان گمراہ پیروکاروں کے عذاب کا کئی گنا ہونا کس بناء پر ہے؟ اس کی وجہ یہ ہے کہ ان کا ایک گناہ تو گمراہی کی وجہ سے ہوگا اور دوسرا گناہ ظالموں کو تقویت پہنچانے اور ان کی کمک کرنے کی وجہ سے ہوگا ۔ کیونکہ ظالم لوگ اکیلے کسی کام کو آگے نہیں بڑھا سکتے ، بلکہ ان کے یارومددگار ان کے میدان کی آگ کو بھڑ کانے اور ان کے ظلم و کفر کے تنورکو مزید گرم کرنے کے لیے کیا کرتے ہیں ۔ پھر بھی باہمی تناسب سے پیشواؤں اور سرداروں کو عذاب زیادہ سخت اور دردناک تر ہوگا۔ اس بارے میں ہم اس سورہ کی آیت 30 کی تفسیر میں زیادہ تفصیل کے ساتھ گفتگو کرچکے ہیں۔