إِذْ قَالَتِ امْرَأَتُ عِمْرَانَ رَبِّ إِنِّي نَذَرْتُ لَكَ مَا فِي بَطْنِي مُحَرَّرًا فَتَقَبَّلْ مِنِّي إِنَّكَ أَنتَ السَّمِيعُ الْعَلِيمُ
When the wife of Imran said, ‘My Lord, I dedicate to You in consecration what is in my belly. Accept it from me; indeed You are the All-hearing, the All-knowing.’
Agha Ali Puya Commentary
Commentary on Quran 3:35
[Pooya/Ali Commentary 3:35] An extract from Burckhardt's lectures on Syrian church is quoted below: Devotees to the temple in the Jewish creed remained as recluses, cut off from worldly life, and practised celibacy. Imran the father of Mary (the mother of Jesus) seems evidently to be of priestly descent. This factor is borne out from the vow which his wife makes about her issue in her womb to dedicate it to the service of God. It is reasonably considered that it is possible that because of the vowful will of his grandmother that her issue be dedicated to God's service, i.e., as a devotee to the temple, Jesus adopted the ascetic mode of life. Otherwise he had great respect for married life. Aqa Mahdi Puya says: The word imra-at means wife when related to a personal noun, but alone it means a woman. In this verse it is related to Imran, therefore, means wife of Imran. As usual, to create confusion and deny miracles associated with the prophets of Allah, the Ahmadi commentator has translated imra-at as "woman" in order to twist and obscure the meanings of the words of this verse. There are three persons named Imran: (1) The father of Musa and Harun. (2) The father of Maryam (grandfather of Isa). (3) The father of Ali, the paternal uncle of the Holy Prophet, known as Abu Talib. Imran, the father of Maryam, is referred to in this verse, not Imran, the father of Musa and Harun. There is a long period of time between Musa and Isa, therefore, some of the Christian scholars wrongly conclude that the Quran and the Holy Prophet (God forbid) made a mistake by stating that the mother of Maryam is the sister of Musa. The Holy Prophet knew well that between Musa and Isa there were several prophets of Allah- Dawud, Sulayman, Yunus, Zakariyya, Yahya. Isa was the last prophet of the children of Israil, after whom none was sent as a prophet of Allah save Ahmad, the Holy Prophet himself, a fact recorded in Deuteronomy 18: 18, 19;John 4: 16; 15: 26; 16: 7, 8, 12, 13. Muharraran means freed or liberated. Here it means freed from worldly attachments, and therefore devoted to Allah's service.
تفسیر نمونہ - آیت اللہ مکارم شیرازی Commentary
Commentary on Quran 3:35-36
حضرت مریم کی ولادت
حضرت مریم کی ولادت گذشتہ آیت میں آل عمران کا ذکر تھا اور ان آیات میں عمران (ع) کی بیٹی مریم (ع) کے بارے میں گفتگو شروع ہوئی ہے ۔ ان آیات میں اس عظیم خاتون کی ولادت ، پرورش اور زندگی کے دیگر اہم واقعات پر تفصیل سے روشنی ڈالی گئی ہے ۔ تاریخ اسلامی روایات اور مفسرین کے اقوال سے معلوم ہوتا ہے کہ حسنہ اوراشیاع دو بہنیں تھیں ۔ پہلی حضرت عمران کے نکاح میں آئیں حضرت عمران بنی اسرائیل کی بہت اہم شخصیت تھے ۔ دوسری کو اللہ کے ایک نبی زکریا (ع) نے اپنی زوجیت کے لئے منتخب فرمایالیا ۔۱ کئی سال گزرگئے ، حسنہ کے ہاں کوئی بچہ پیدا نہیں ہوا ۔ ایک روز وہ ایک درخت کے نیچے بیٹھی تھیں دیکھا کہ ایک پرندہ اپنے بچوں کو غذا دے رہا ہے ، یہ منظر دیکھا تو اولاد کی خواہش ان کے دن میں آگ کی طرح بھڑک اٹھی ۔ انہوں نے خلوص ِ دل سے بار گاہ خداوندی میں بیٹے کی درخواست کی ۔ تھوڑا ہی عرصہ گزرا تھا یہ مخلصانہ دُعا ہدف اجابت کو پہنچی اور وہ حاملہ ہوگئیں ۔بعض روایات سے معلوم ہوتا ہے کہ اللہ نے حسنہ کے شوہر حضرت عمران کی طرف وحی کی تھی کہ انھیں ایک بابرکت لڑکا عطا کیا جائے گا ۔ جو علاج مریضوں کو شفا دے گا ۔ حکم خدا سے مردوں کو زندہ کرے گا اور بنی اسرائل کے لئے پیغمبری کے فرائض بھی سر انجام دے گا ۔ انھوں نے یہ واقعہ اپنی بیوی حسنہ سے بیان کیا وہ حاملہ ہوئیں تو ان کا خیال تھا یہی وہ لڑکا ہے جو اس وقت ان کے رحم میں ہے ۔ وہ بے خبر تھی کہ ان کے رحم میں تو اس لڑکے کی والدہ جناب مریم ہیں اسی لئے انہوں نے نذر کی تھی کہ بیٹے کو خانہ خدا بیت المقدس کا خدمت گذار بنائیں گی ، پیدا ئش ہوئی تو انہوں نے دیکھا کہ وہ لڑکی تھی ۔ اب وہ پریشان ہوئیں ۔ سوچنے لگیں کہ کیا کروں کیونکہ بیت المقدس کی خدمت تو لڑکے کیا کرتے ہیں ۔ قبل از ین کبھی کسی لڑکی کو بیت المقدس کی خدمت گزاری کے لئے منتخب نہیں کیاگیا تھا ۔ اب ہم آیات کی تفسیرکی طرف لوٹتے ہیں اور دیکھتے ہیں کہ اس واقعے کے آخری حصے کو قرآن نے کیسے بیان کیا ہے ۔ ” اذ قالت امرات عمران.......“ اس آیت میں زوجہ عمران کی نذر کا تذکرہ ہے ۔ ( وہ حاملہ ہوئیں تو انہوں نذر کی کہ اپنے بچے کو بیت المقدس کا خدمت گزار بنائیں گی کیونکہ اللہ نے ان کے شوہر عمران کو جو اطلاع دی تھی اس سے وہ یہ سمجھے بیٹھی تھیں کہ ان ہاں لڑکا ہوگا ، اس لئے انہوں لفظ ” محرّراً“ استعمال کیا ۔ اور ” محرّرة“ نہیں کہا انہوں خدا سے درخواست کی کہ وہ ان کی نذر قبول کرے ” فتقبل منّی انّک انت السمیع العلیم “۔ ” محرّر“ ” تحریر “ کے مادہ سے لیا گیا ہے جس کا معنی ہے ” آزاد کرنا “ اس زمانہ میں یہ لفظ ایسی اولاد کے لئے بولاجاتا تھا جو عبادت خانے کی خدمت کے لئے معین کی جائے تاکہ وہ عبادت خانے کی صفائی اور دوسری خدمات سر انجام دیں اور فراغت کے وقت پروردگار کی عبادت میں مشغول رہیں ۔” محرّر “ ان خدمت گزاروں کو اس لئے کہتے تھے وہ ماں باپ کی ہر قسم کی خدمت سے آزاد ہوتے تھے اور عبادت خانہ کی خدمت کو اپنے لئے باعث افتخار سمجھتے تھے ۔ بعض کہتے ہیں جب بچے خدمت کے کچھ قابل ہوجاتے بالغ ہونے تک ماں باپ کی نگرانی میں خدمت سر انجام دیتے تھے اور بعد ازاں خود سے کام کرنے لگتے ۔ چاہتے تو عبادت خانہ میں اپنا کام ختم کرکے باہر چلے جاتے اور چاہتے تو کام جاری رکھتے ۔ ”فَلَمَّا وَضَعَتْہَا قَالَتْ رَبِّ إِنِّی وَضَعْتُہَا اٴُنْثَی“۔ اس آیت میں بچی کی ولادت کے بعد حضرت مریم کی کیفیت کو بیان کیا گیا ہے ۔ انہوں نے پریشان ہوکر کہا : خدا وندا !میں نے بچی کو جنم دیا ہے اور تو جانتا ہے کہ جو نذر میں نے کی ہے اس کے لئے لڑکی لڑکے کی طرح نہیں ہوسکتی اور لڑکی لڑکے کی طرح ان فرایض کو انجام نہیں دے سکتی ۔ ” ولیس الذکر کالا نثیٰ “ ۔ اس آیت میں موجود قرائن اور آیت کی تفسیر میں وارد ہونے والی رویات سے معلوم ہوتا ہے کہ ” الیس الذکر کالانثیٰ “ ۔( لڑکا لڑکی کی طرح نہیں )یہ جملہ حضرت مریم کی والدہ کا ہے نہ کہ کلام خدا ہے لیکن قاعدةً حضرت مریم کی والدہ کو کہنا چاہئیے تھا ” لیس الانثیٰ کالذکر “ لڑکی لڑکے کی طرح نہیں ہے ” کیونکہ انہوں نے تو لڑکی کو جنم دیا تھا نہ کہ لڑکے کو ۔ اس لفظ سے ممکن ہے کہ اس جملے میں تقدیم و تاخیر ہو ۔ جیساکہ اہل عرب غیر اہل عرب کے کلام میں ہوتا ہے ہوسکتا ہے وضع حمل کے وقت پیش آنے والی اچانک پریشانی کے سبب بے سمجھے یوں کہہ دیا ہو کیونکہ وہ تو لڑکے کی آس لگائے بیٹھی تھیں تاکہ وہ بیت المقدس کا خدمت گزار بنے ۔ اسی رجحان کے پیش نظر ممکن ہے بے ساختہ انہوں نے پہلے بیٹے کا ذکر کیا ہو حالانکہ جملہ بندی اور مولود کا تقاضا تھا کہ وہ بیٹی کا نام پہلے لیتیں ۔ آیت میں ” واللہ اعلم بما وضعت“۔ ( خد ابہتر جانتا ہے کہ عمران کی بیوی نے کیا جنم دیا ہے ) اصطلاح میں جملہ معترضہ ہے ۔ یعنی ضرورت نہ تھی کہ مریم کی والدہ کہتی کہ خدا یا! میں نے تولڑکی کو جنم دیا ہے کیونکہ خدا تو جانتا ہی تھا کہ اس نے کیا جنم دیا ہے وہ شروع سے انعقاد نطفہ اور رحم مادر کے تمام مرحلوں سے آگاہ ہے ۔ ” و انّی سمّیتھا مریم “۔ اس جملہ سے معلوم ہوتا ہے کہ حضرت مریم کا یہ نام ان کی والدہ کے ذریعے سے وضع حمل کے وقت ہی رکھ دیا گیا تھا ، یاد رہے کہ مریم لغت میں ” عبادت گذار خاتون “ کو کہتے تھے ۔ یہ نام حضرت مریم (ع) کی پاکباز والدہ کے اس انتہائی عشق اور لگاوٴ کامظہر ہے جو انہوں نے اپنے بچے کو عبادت الٰہی کے لئے وقف کرنے کے لئے تھا لہٰذا انہوں نے نام رکھنے کے ساتھ ہی خدا سے درخواست کی کہ وہ اس نومولود بچی اور اس کی آئندہ اولاد کو شیطانی وسوسوں سے بچائے رکھے اور انہیں اپنے لطف و کرم کی پناہ میں رکھے ۔ ” ”وَإِنِّی اٴُعِیذُہَا بِکَ وَذُرِّیَّتَہَا مِنْ الشَّیْطَانِ الرَّجِیمِ ۔“ ۳۷۔فَتَقَبَّلَہَا رَبُّہَا بِقَبُولٍ حَسَنٍ وَاٴَنْبَتَہَا نَبَاتًا حَسَنًا وَکَفَّلَہَا زَکَرِیَّا کُلَّمَا دَخَلَ عَلَیْہَا زَکَرِیَّا الْمِحْرَابَ وَجَدَ عِنْدَہَا رِزْقًا قَالَ یَامَرْیَمُ اٴَنَّی لَکِ ہَذَا قَالَتْ ہُوَ مِنْ عِنْدِ اللهِ إِنَّ اللهَ یَرْزُقُ مَنْ یَشَاءُ بِغَیْرِ حِسَابٍ۔ ترجمہ ۳۷۔ اس کے پروردگار نے اس ( مریم ) کو خوشی سے قبول فرمالیا اور اس کے وجود ( کے پودے) کو خوب اچھی طرح پروان چڑھا یا ، زکریا کو ان کا کفیل بنایا جب زکریا وہاں داخل ہوتے خاص غذا وہاں موجود پاتے ۔ اس سے پوچھتے: یہ کہاں سے لائی ہو ۔ وہ کہتی : یہ خد اکی طرف سے ہے ، خدا جسے چاہتا ہے بے غیر حساب رزق دیتا ہے ۔ ۱ کچھ روایات سے معلوم ہوتا ہے کہ عمران بھی پیغمبر تھے اور ان پر بھی وحی نازل ہوتی تھی ۔توجہ رہے کہ یہ عمران حضرت موسیٰ کے والد نہیں ۔ان دونوں میں کوئی اٹھارہ سال کا فاصلہ ہے ۔