يَوْمَ تَبْيَضُّ وُجُوهٌ وَتَسْوَدُّ وُجُوهٌ فَأَمَّا الَّذِينَ اسْوَدَّتْ وُجُوهُهُمْ أَكَفَرْتُم بَعْدَ إِيمَانِكُمْ فَذُوقُوا الْعَذَابَ بِمَا كُنتُمْ تَكْفُرُونَ
on the day when [some] faces will turn white and [some] faces will turn black. As for those whose faces turn black [it will be said to them], ‘Did you disbelieve after your faith? So taste the punishment because of what you used to disbelieve.’
Agha Ali Puya Commentary
Commentary on Quran 3:106
[Pooya/Ali Commentary 3:106] On the day of judgement the face of the believers (who followed the teachings of the Holy Prophet in letter and spirit) will shine bright with the radiance of joy. And (as Hasan al Basari has also said) the faces of those turncoats who went back to infidelity after their profession of faith (by rejecting the teachings of the Holy Prophet and his Ahl ul Bayt and introducing their own theories) shall turn black with gloom of fear, because they had disobeyed the instructions of the Holy Prophet to obey his Ahl ul Bayt and follow their guidance. They did so in order to fulfil their ambition to rule over vast lands and multitude of people, as they desired. They shall be thrown into the fire with contempt. Also refer to Yunus: 27 and Zumar: 60. The believers (mentioned above) shall be in Allah's mercy, therein (in its eternal bliss) they shall abide for ever.
تفسیر نمونہ - آیت اللہ مکارم شیرازی Commentary
Commentary on Quran 3:106-109
نورانی اور تاریک چہرے
۔یَوْمَ تَبْیَضُّ وُجُوہٌ وَ تَسْوَدُّ وُجُوہ اس تنبیہ کے بعد کہ جو گذشتہ آیات میں تفرقہ بازی،اور کفر و جاہلیت کے زمانہ کے آثارکی طرف پلٹ جانے کے بارے میںکی گئی تھی ، ان دو آیات میں ان کے آخری نتائج کی طرف اشارہ کیا گیا ہے کہ کسی طرح کفر ،نفاق و جاہلیت کی طرف پلٹ جانا روسیا ہی کا سبب ہے اور کسی طرح اسلام و ایمان اور اتحاد و خلوص سفید روئی کا سب ہےں۔ مندرجہ بالا آیات تصریح کر رہی ہیں کہ روز قیامت کچھ چہرے نورانی ہوں گے اور کچھ تاریک جن کے چہرے سیاہ ہوں گے ،ان سے کہا جائے گا کہ تم نے ایمان لاننے کے بعدکفر کیوں اختیار کیا اور اسلام کے زیر سایہ اتحاد واخوت کی راہ اپنانے کے بعد نفاق و جاہلیت کہ راہ کیوں اختیار کی ۔ان کے مقابلہ میں وہ مومنین جو متحد و متفق رہے ہوں گےدریائے رحمت الہی میں ڈوب جائیں گے اور ہمیشہ کے لئے وہاں راحت و آرام کی زندگی بسر کریں گے۔ کئی دفعہ یہ یاد دہانی کرائی جا چکی ہے کہ دوسرے جہان میں انسان کی زندگی کے حالات و کیفیات اور جزا و سزااس جہان کے اعمال اور افکار کے مجسمے ہوں گے ۔دوسرے لفظوں میں اس جہان میں جو کام بھی انسان سے سر زد ہوتا ہے وہ روح کی گہرائیوں میں وسیع اثرات مرتب کرتا ہے۔ممکن ہے اس دنیا میں اسے نہ سمجھا جا سکے ،لیکن قیامت میں یہ حقیقی صورت میں جلوہ گر ہوں گے اور کیوںکہ وہاں پر روح کی حاکمیت و تجلی زیادہ ہوگی اس لئے اس کے آثار جسم پر بھی مرتب ہوںگے ۔جیسا کہ اس جہان کا ایمان و اتحادسفید روئی کا سب ہے اور اس کے برعکس بے ایمان لوگوں کے چہرے سیاہ ہوں گے ۔ اگلے جہان میں یہ مجازی سفیدی اور سیاہی حقیقی شکل اختیار کرے گی اور لوگ روشن یا سیاہ محشور ہوں گے ۔ قرآن کی دیگر آیات بھی اس حقیقت کو بیان کرتی ہیں ۔مثلاً جولوگ بار بار گناہ کا ارتکاب کرتے ہیں ان کے بارے میں قرآن ارشاد فرماتا ہے: کاَنمآ اُغشیتُ وجوھھم قطعاً مّن الّلیلِ مُظلماً (یونس:۲۷ ) گویا ان کے چہروں کو اندھیری رات کے تاریک ٹکڑوں نے ڈھانپ رکھا ہے۔ ویومَ القِیٰمة ترَی الّذینَ کذبوا علیٰ اللّہ وجوھھم مُسوَدٌّ (زمر:۶۰) قیامت کے دن تو ان لوگوں کو دیکھے گاجو خدا پر جھوٹ باندھتے ہیں کہ ان کے چہرے سیاہ ہیںاور یہ سب کچھ ان کے کئے ہوئے اعمال کی پاداش ہے۔ ۱۰۸۔ تِلْکَ آیاتُ اللَّہِ نَتْلُوہا عَلَیْکَ بِالْحَقِّ وَ مَا اللَّہُ یُریدُ ظُلْماً لِلْعالَمینَ ۱۰۹۔ وَ لِلَّہِ ما فِی السَّماواتِ وَ ما فِی الْاٴَرْضِ وَ إِلَی اللَّہِ تُرْجَعُ الْاٴُمُورُ ترجمہ ۱۰۸۔کتاب کی یہ بر حق آیات ہیںجنھیں ہم تیرے سامنے پڑھ کر سناتے ہیںاور خدا ہر گز عالمیں کے لئے ظلم و ستم کا ارادہ نہیں رکھتا۔ ۱۰۹۔اور( کس طرح ممکن ہے کہ خدا ظلم چاہے جبکہ)جو کچھ آسمانوں اور زمینوں میں ہے وہ ا کی ملکیت میں ہے اور تمام کاموں کی بازگشت اسی کی طرف ہے )۔ تفسیر تِلْکَ آیاتُ اللَّہِ نَتْلُوہا عَلَیْکَ بِالْحَقِّ وَ مَا اللَّہُ یُریدُ ظُلْماً لِلْعالَمینَ مندرجہ بالا آیت گذشتہ مطالب اتحاد و اتفاق ،ایمان و کفر ،امر بالمعروف ونہی عن المنکر او ران کے نتائج کی طرف اشارہ کرتی ہے کہ یہ خدا کی بر حق آیات ہیں جو ہم تیرے سامنے پڑھتے ہیں اور ان احکام کی خلاف ورزی کی وجہ سے جو کچھ لوگوں کو بھگتنا پڑتا ہے ان کے اعمال کی پاداش ہے اور خدا وند تعالیٰ کسی پر کسی قسم کا ظلم نہیں کرتا ۔ بلکہ یہ وہی برے اثرات ہیں جو انھوں نے اپنے ہاتھ سے فراہم کئے ہیں۔ وَ لِلَّہِ ما فِی السَّماواتِ وَ ما فِی الْاٴَرْضِ وَ إِلَی اللَّہِ تُرْجَعُ الْاٴُمُورُ یہ آیت خدا کے ظالمنہ ہونے پر دلیل پیش کرتی ہے : پہلی یہ کہ وہ خدا جو ا ن تمام کا خالق و مالک ہے ، اس کے بارے میں طلم کا تصور نہیں ہو سکتا کیون کہ ظلم و زیادتی تو وہ کرتا ہے ج سکے پاس وہ چیز نہ ہو جو دوسروں کے پاس موجود ہے ۔ لہٰذا اسے حاصل کرنے کے لئے وہ ظلم کرتا ہے ۔ دوسری دلیل یہ کہ ظلم و ستم کا تصور اس کے بارے میں ہو سکتا ہے جس کی خشنودی حاصل کئے بغیر کوئی کام وقوع پذیر ہو سکتا ہو لیکن اس ذات کے بارے میں ظلم و ستم چہ معنیٰ کہ جس کی اجازت کے بغیر کوئی کام وقوع پذیر ہو سکتا اور تمام امور کائنات کا آغاز و انجام اسی کی ذات سے وابستہ ہے۔ ۱۱۰۔ کُنْتُمْ خَیْرَ اٴُمَّةٍ اٴُخْرِجَتْ لِلنَّاسِ تَاٴْمُرُونَ بِالْمَعْرُوفِ وَ تَنْہَوْنَ عَنِ الْمُنْکَرِ وَ تُؤْمِنُونَ بِاللَّہِ وَ لَوْ آمَنَ اٴَہْلُ الْکِتابِ لَکانَ خَیْراً لَہُمْ مِنْہُمُ الْمُؤْمِنُونَ وَ اٴَکْثَرُہُمُ الْفاسِقُونَ ترجمہ ۱۱۰۔ تم وہ بہترین قوم تھے جسے لوگوں کے فائدہ کے لئے پیدا کیا گیا ہے تا کہ تم امر بالمعروف و نہی عن المنکر کرو اور خدا پر ایمان لے آئیں تو ان کے لئے فائدہ ہے لیکن ان میں سے تھوڑے ہی صاحب ایمان ہیں ورنہ اکثر فاسق (اور پرور دگار کی اطاعت سے خارج ) ہیں۔ تفسیر