قُلْ مَا يَعْبَأُ بِكُمْ رَبِّي لَوْلَا دُعَاؤُكُمْ فَقَدْ كَذَّبْتُمْ فَسَوْفَ يَكُونُ لِزَامًا
Say, ‘Were it not for the sake of summoning you [to faith], what store my Lord would have set by you? But you impugned [me and my summons], so it will soon follow as a result.’
Agha Ali Puya Commentary
Commentary on Quran 25:77
[Pooya/Ali Commentary 25:77] Allah turns in mercy to those who pray to Him or call on Him. So the excellence of a man depends on the degree of sincerity and devotedness in his supplication unto Allah. Aqa Mahdi Puya says: The Quran clearly points the fact that the created beings in order to satisfy and fulfill their needs and demands have to turn to their Lord who bestows His grace, blessings and bounties on them corresponding to their sincerity and devotedness.
تفسیر نمونہ - آیت اللہ مکارم شیرازی Commentary
Commentary on Quran 25:77
دعا کی اہمیّت
یہ آیت سورہ فرقان کی آخری آیت ہے جودر حقیقت تمام سورت کا خلاصہ اور نتیجہ ہے ۔ساتھ ہی «عباد رحمن“ کی صفات کا خلاصہ بھی ہے پیغمبر اکرمکو خطاب کرتے ہوئے فرمایا گیا ہے : ان سے کہہ دو کہ میرا پر وردگار تمہیں کوئی وزن اور اہمیت نہ دیتا اگر تم دعا نہیں کرتے (قُلْ مَا یَعْبَاٴُ بِکُمْ رَبِّی لَوْلاَدُعَاؤُکُمْ ) ۔ «یعبوٴا“ کا صیغہ «عباٴ“(بر وزن «عبد“) سے مشتق ہے جس کا معنی وزن اور بوجھ ہے بنابریں«لا یعبوٴا“ کا معنی بنے گا « کسی قسم کا وزن نہیں دیتا “جسے دوسرے لفظوں میں کہیں گے «پر واہ نہیں کرتا، اہمیت نہیں دیتا “۔ اگر چہ دعا کے معنیٰ کے سلسلے میں یہاں پر بہت سے احتمالات پائے جاتے ہیں لیکن ان کی بنیاد ایک ہی بنتی ہے ۔ بعض کہتے ہیں کہ دعا کا معنیٰ وہی مشہور دعا ہے جو مانگی جاتی ہے بعض نے اسے ایمان کے معنی میںلیا ہے اور بعض نے عبادت ،بعض نے توحید، بعض نے شکر اور بعض نے مشکلات میں خدا کو پکا رنے کے معنی میں لیا ہے لیکن ان سب کی بنیاد وہی خدا پر ایمان اور اس کی طرف توجہ ہے ۔ بنابریں آیت کامفہوم کچھ یوں ہوگا کہ جوچیز تمہیں وزن دے رہی ہے اور اللہ رب العزت کی بارگاہ میں تمہاری قدر و قیمت بنارہی ہے وہ خدا پر ایمان،اس کی ذات کی طرف توجہ اور ا س کی بندگی ہے ۔ اس کے بعد فرمایا گیا ہے :تم نے خدا کی آیات اور اس کے پیغمبروں کی تکذیب کی یہی تکذیب تمہارا دامن پکڑے گی اور تمہیں کبھی نہیں چھوڑے گی(فَقَدْ کَذَّبْتُمْ فَسَوْفَ یَکُونُ لِزَامًا)۔ ممکن ہے یہ سوال کیا جائے کہ اس آیت کے آغاز اور اختتام میں تضاد پایا جاتا ہے یا کم از کم ابتداء اور انتہاء میں کوئی باہمی رابطہ دکھائی نہیں دیتا لیکن اگر ذرا سا بھی غور کیا جائے تو معلوم ہو گا کہ اصل مقصد یہ ہے کہ تم گزشتہ زمانے میں آیات الہٰی کی تکذیب کر چکے ہو اور انبیاء کو جھٹلا چکے ہو ۔اگر اب تم خد اکی طرف لوٹ کے نہیں آوٴگے اور ایمان اور بندگی کا راستہ اختیار نہیں کروگے تو خدا کے نزدیک تمہاری کوئی وقعت اور حیثیت نہیں ہوگی اور تمہارے جھٹلانے کی سزا تمہیں دامن گیر ہو گی(1) ۔ یہاں پر ایک تیسری تفسیر بھی بیان کی گئی ہے اور وہ یہ ہے کہ اس بیان کا مقصد یہ ہے کہ تم بنی نوعِ انسان نے غالب طور پر تکذیب کا راستہ اختیار کررکھا ہے لہٰذا خدا کے نزدیک تمہاری کوئی قدر و قیمت نہیں ہے سوائے عباد الرحمن کی ایک مخصوص اقلیت کہ جو خدا کی طرف متوجہ ہیں اور اسے خلوص ِ دل سے پکارتے ہیں (اگر چہ یہ تفسیر معنی اور مطلب کے لحاظ سے توصحیح ہے لیکن آیت کے ظاہر کے ساتھ قطعاًہم آہنگ نہیں ہے کیونکہ « دعاوٴ کم و کذبتم“ میں ضمیر ظاہراً ایک گروہ کی طرف لوٹتی ہے نہ کہ دو گروہوں کی طرف ۔(غور کیجئے گا )۔ ان واضح شواہد میں سے ایک شاہد جو اس تفسیرکی تائید کررہا ہے حضرت امام محمد باقر علیہ السلام کی ایک حدیث ہے کہ جب آنجناب علیہ اسلام سے سوال کیا گیا کہ : کثرة القرائة فضل اوکثرة الدعائ قرآن مجید کی کثرت سے تلاوت افضل ہے یا کثرت سے دعا مانگنا ؟ تو آپعلیہ اسلام نے ارشاد فرمایا : کثرة الدعاء افضل کثرت سے دعا مانگنا فضیلت زیادہ رکھتا ہے ۔ پھر آپعلیہ اسلام نے یہی آیت تلاوت فرمائی(2) ۔ 1 مندرجہ بالا آیت ان آیات میں شمار ہو تی ہے جن کے بارے میں مفسرین نے بہت کچھ گفتگو کی ہے اور ہم نے جو تفسیر اوپر بیان کی ہے وہ واضح ترین تفسیر ہے لیکن کچھ دوسرے مشہور مفسرین نے اس کی اور بھی تفسیریں بیان کی ہیں جن کاخلاصہ کچھ اس طرح بنتا ہے :۔ خدا کو تمہاری کوئی پرواہ نہیں ہے کیونکہ تم نے اس کی آیات کو جھٹلا یا ہے مگر یہ کہ وہ انہیں ایمان کی طرف بلاتا ہے ( اس تفسیرکے مطابق مصدر کو مفعول کی طرف مضاف کیا گیا ہے اور اس کا فاعل ایک ضمیر ہے جو «ربی“ کی طرف لوٹ رہی ہے لیکن جس تفسیر کو ہم نے منتخب کیا ہے اس کے مطابق مصدر کو فاعل کی طرف مضاف کیا گیا ہے اور مصدر کو سہل کی ضمیر کی طرف بظاہر مضاف کیا جاتا ہے مگر یہ کہ اس کے خلاف کوئی قرینہ پایا جائے ۔ 2 ۔«تفسیر صافی “اسی آیت کے ذیل میں ۔ اس روایت کو تھوڑے سے اختلاف کے ساتھ دوسری تفسیروں نے بھی نقل کیا ہے اس کے علاوہ اور روایات بھی ملتی ہیں جن میں سے بعض کو شیخ نے امالی میں اور بعض کو علی بن ابراہیم نے اپنی تفسیر میں اس آیت کے ذیل میں لکھا ہے ۔
تفسیر نمونہ - آیت اللہ مکارم شیرازی Commentary
Commentary on Quran 25:77
دعا ، خود سازی اور خدا شناسی کا راستہ
ہر کوئی جانتا ہے کہ مسئلہ دعا کو قرآنی آیات اور اسلامی روایات میں بہت زیادہ اہمیت دی گئی ہے جس کا ایک نمونہ یہی مندرجہ بالا آیت ہے ۔ہوسکتا ہے ابتداء میں یہ بات بعض لوگوں کے لئے قابل ِ قبول نہ ہو اور وہ کہیں کہ دعا کرنا تو آسان سی بات ہے اور اسے ہر شخص انجام دے سکتا ہے یا اس سے بھی آگے بڑھ جائیں اور کہیں کہ دعا تو بے بس اور بیکار لوگوں کا کام ہے اس کی کیا اہمیت ہے ۔ لیکن یہ غلط فہمی اس وقت پیدا ہوتی ہے جب دعا کو اس کی شرائط سے ہٹ کر دیکھیں لیکن اگر اس کی شرائط کو پیش نظر رکھا جائے تو یہ حقیقت واضح ہو کر سامنے آجاتی ہے کہ دعا انسان کی خود سازی کا ایک موٴثر ذریعہ اور انسان اورخد اکے درمیان ایک مضبوط رابطہ ہے۔ سب سے پہلی شرط تو یہ ہے کہ انسان جو کو پکار رہا ہے اور جس نے دعا مانگ رہا ہے اس کی معرفت رکھتا ہو۔ دوسری شرط یہ ہے کہ انسان اپنے دل و دماغ کو ہر قسم کی آلائشوں سے پاک صاف کرے اور اس سے مانگنے کے لئے اپنی روح کو آمادہ کرے کیونکہ جب انسان کسی کو ملنے جاتا ہے تو اس کی ملاقات کے لئے تیار بھی ہونا چاہئیے ۔ دعا کی تیسری شرط یہ ہے کہ انسان جس سے مانگ رہا ہے اس کی رضا اور خوشنودی حاصل کرنے کی ہر ممکن کو شش کرے کیونکہ اس کے بغیر دعا کی قبولیت کے آثار بہت کم نظر آتے ہیں ۔ دعا کی قبولیت کی چوتھی اور آخری شرط یہ ہے کہ اس کام کے لئے انسان اپنی تمام توانائیاں صرف کردے اور اس کے لئے تا حدِ امکان سعی و کوشش کرے اور اس کے ماوراء کے لئے ہاتھوں کو دعا کے واسطہ اٹھائے اور اپنی تمام قلبی توجہ اپنے خالق کی طرف مبذول کردے ۔ اسلامی روایات میں بڑی صراحت کے ساتھ آیا ہے کہ جو کام انسان خود انجام دے سکتا ہے اسے انجام دینے میں کوتاہی کرے اور دعا کے ذریعے اسے پورا ہونے کی خواہش کرے تو اس کی دعا قبول نہیں ہو گی ۔ اس لحاظ سے دعا ، خدا وند عالم کی معرفت اور اس کی صفات و جلال وجمال کی پہچان کا ایک ذریعہ ہے اسی طر ح گناہوں سے توبہ اور روح کی پاکیزگی کا بھی ایک ذریعہ ہے اور نیکیوں کی بجا آوری کے لئے ایک اہم موٴثر عامل ہے اور آخری حد تک تلاش و کوشش اور جد و جہد کا ایک سبب ہے ۔ یہی وجہ ہے کہ دعا کے بارے میں ایسی اہم تعبیرات وارد ہوئی ہیں جو مندرجہ بالا تصریحات کو مد نظر رکھ کر ہی سمجھ میں آسکتی ہیں مثلا ًحضرت پیغمبر اکرم کا ارشاد ہے :۔ الدعا ء سلاح الموٴمن ، وعمود الدین ، ونور السمٰوٰت و الارض دعا مومن کا ہتھیار ، دین کا ستون اور آسمانوں اور زمین کا نور ہے(1) ۔ ایک او رمقام پر حضرت امیر علیہ السلام فرماتے ہیں :۔ الدعاء مفاتیح النجاح، ومقالید الفلاح و خیر الدعاء ما صدر عن صدر نقی و قلب تقی دعا کامیابیوں کی دلیل ہے ، فلاح اور کامرانیوں کی چابی ہے اور بہترین دعا وہ ہے جو پاک سینے اور پر ہیز گار دل سے بلند ہو (۲) ۔ ایک اور حدیث میں امام جعفر صادق علیہ السلام فرماتے ہیں : الدعا ء انفذ من السنان دعا نوک ، نیزہ سے بھی زیادہ تیز ہے (۳) ۔ ان سب باتوں سے ہٹ کر اصولی طور پر ہر انسان کی زندگی میں حوادث رونما ہوتے رہتے ہیں اور ظاہری اسباب کے لحاظ سے اسے ناامیدی کی گہرائیوں میں لے جاتے ہیں لیکن یہ دعا ہی ہے جو اس کی کامیابی کی امید کا دریچہ کھول سکتی ہے اور ناامیدی اور مایوسی سے نبرد آزمائی کا موٴثر ذریعہ بن سکتی ہے اسی وجہ سے سخت ترین اور طاقت فرسا حوادث کے درمیان دعا ہی انسان کی ڈھارس بندھا سکتی ہے اورر اسے قلبی تسکین مہیا کرسکتی ہے اور نفسیاتی اعتبار سے ناقابل ِ تردید اثر رکھتی ہے ۔ مسئلہ دعا ، اس کے فلسفہ ، اس کی شرائط اور نتائج کے بارے میں ہم نے تفسیر نمونہ کی جلد اول سورہ بقرہ کی آیت ۱۸۶ کے ضمن میں تفصیل سے گفتگو کی ہے مزید تشریح اور وضاحت کے لئے وہاں رجوع فرمائیں ۔ پر وردگارا ! ہمیں خاص بندوں میں قرار دے اور توفیق عنایت فرماکہ ہم «عباد الرحمن “ کی صفات کو اپنا سکیں۔ خدا وند ا ! دعا کے دروازے ہم پر کھول دے اور اسے ہمارے وجود کی قدر وقیمت کا سبب بنا دے۔ خدا یا ! ہمیں ایسی دعا کی توفیق عطا فرماجو تیری پاک ذات کو مطلوب ہے اور اس کی قبولیت سے ہمیں محروم نہ فرما۔ انک علی کل شیء قدیر ، وبالاجابة جدیر۔ 1۔ اصول کافی جلد ۲ ابواب الدعا ( باب ان الدعا ء سلاح الموٴمن)۔ 2 ۔اصول کافی جلد ۲ ابواب الدعاء ( باب الدعاء سلاح الموٴمن)۔ 3۔ اصول کافی جلد ۲ ابواب الدعاء ( باب الدعاء سلاح الموٴمن)۔
تفسیر نمونہ - آیت اللہ مکارم شیرازی Commentary
Commentary on Quran 25:77
سوره فرقان / آیه 77
۷۷۔ قُلْ مَا یَعْبَاٴُ بِکُمْ رَبِّی لَوْلاَدُعَاؤُکُمْ فَقَدْ کَذَّبْتُمْ فَسَوْفَ یَکُونُ لِزَامًا۔ ترجمہ ۷۷۔کہہ دو! اگر تمہاری دعا نہ ہوتی تو میرا پر وردگار تمہیں کوئی اہمیت نہ دیتا ۔تم نے( خدا اور انبیاء کی) تکذیب کی اور یہ ( تکذیب) تمہارا دامن پکڑے گی اور تمہیں ہر گز نہ چھوڑ ے گی ۔