أَلَمْ تَرَ إِلَى رَبِّكَ كَيْفَ مَدَّ الظِّلَّ وَلَوْ شَاءَ لَجَعَلَهُ سَاكِنًا ثُمَّ جَعَلْنَا الشَّمْسَ عَلَيْهِ دَلِيلًا
Have you not regarded how your Lord spreads the twilight? (Had He wished He would have made it stand still.) Then We made the sun a beacon for it.
Agha Ali Puya Commentary
Commentary on Quran 25:45
[Pooya/Ali Commentary 25:45] Shadow of everything is lengthened out at sunrise, and as the sun rises higher and higher it contracts. "If Allah willed, He could make it stationary" implies that it is Allah who effects all the physical changes; none of them are brought about on their own, independent of the divine will which governs the working of nature. Aqa Mahdi Puya says: The shadow is not darkness nor negation of light. It is weakened light caused by an opaque object facing the source of light. The shadow changes length and direction due to the movement of the light-giving object, otherwise it would retain its length for ever as described in verses 71 and 72 of al Qasas. The shadow follows the light in reverse. The relation between light and shadow is so geometrically fixed that many astronomical calculations are based upon it. According to the theosophical interpretation the whole dimensional sphere is a shadow of the non-physical sphere about it, and this non-physical sphere is the shadow of another spiritual sphere above it, and like that it continues upto the last sphere of finite being. The length of the shadow increases and decreases in proportion to the extent it turns towards the infinite or absolute light. It is mentioned in Minhaj al Sadiqin and Umdah al Bayan that the withdrawal of light refers to the period between Isa and the Holy Prophet, in which there was a temporary suspension of the heavenly guidance. Another interpretation refers to the miraculous event of the return of the sunlight after the sun had set when the Holy Prophet invoked Allah so that Imam Ali could pray his afternoon salat which he missed because the Holy Prophet, in the state of receiving revelation, was reposing in his lap. This event has been reported in Tarikh al Khamis, Rawzat al Ahbab, Habib al Siyar and Rawdzat al Safa.
Ali Muhammad Fazil Chinoy Commentary
Commentary on Quran 25:45-60
1. God reminds of His bounty in which a long period which elapsed between Jesus and Mohammad could have been extended by Him, but His Mercy intervened after five centuries, thus eliminating the dark ages in which the world was drowned. 2. It is not His intention to send the Prophets in every corner of the country but with the reason endowed upon them, they have to solve the trials of the world by following in the footsteps of the Divine Lights, His authorized agents. 3. He then describes His special favours to our Prophet and the assistance of Ali, marrying him his daughter, Fatima, whose dowry fixed by God was Paradise for those attached to her and her family and Perdition for her enemies. History of persecution of Sadats by Bani Omayya fully bears out the text, even until today, it is not extinct.
تفسیر نمونہ - آیت اللہ مکارم شیرازی Commentary
Commentary on Quran 25:45-50
۱۔ بہت سے چوپائے اور انسان
یہاں چوپایوں اور بہت سے انسانوں کا ذکر آیا ہے ہر چند کہ تمام حیوان اور انسان بارش کے پانی سے استفادہ کرتے ہیں ۔ یہ اس لئے کہ یہاں پر ان خانہ بدوش لوگوں کی طرف اشارہ ہے جو جنگلوں اور بیابانوں میں رہتے ہیں جن کے پاس مطلقاً کوئی بھی پانی نہیں ہوتا اور وہ براہ راست بارش کے پانی سے استفادہ کرتے ہیں ۔ خدا کی یہ عظیم نعمت انھیں سب سے زیادہ محسوس ہوتی ہے جبکہ آسمان پر کوئی بادل ظاہر ہوتا ہے ، موسلا دھار بارش برسا تا ہے ،گڑھے اور چشمے بارش کے آب ِ زلال سے بھر جاتے ہیں ان کے جانوور اور خودہ وہ اس پانی سے سیراب ہوتے ہیں زندگی کی روانی اپنے اور اپنے جانوروں کے اندر بخوبی محسوس کرتے ہیں ۔
تفسیر نمونہ - آیت اللہ مکارم شیرازی Commentary
Commentary on Quran 25:45-50
۴۔ پانی کا پہلا فائدہ
پانی کے زندگی بخش ہونے کو اس کے پاک کرنے کے مسئلہ کے بعد ذکر کیا گیا ہے اور شاید اس طرف اشارہ ہو کہ ان دونوں کا نزدیکی تعلق ہے (پانی کے زندگی بخش ہونے کے بارے میں ہم تفسیر نمونہ جلد ۱۳میں سورہٴ انبیاء کی آیت ۳۰ کے ذیل میںتفصیل سے بحث کرچکے ہیں )۔ زیر بحث آخری آیت میں قرآن کی طرف اشارہ کرتے ہوئے فرمایا گیا ہے : ہم نے ان آیات کو گونا گوں صورتوں میں ان سے بیان کیا ہے تاکہ وہ نصیحت حاصل کریں لیکن اکثر لوگوں نے انکار اور کفر کے سوا کچھ نہیں کیا( وَلَقَدْ صَرَّفْنَاہُ بَیْنَہُمْ لِیَذَّکَّرُوا فَاٴَبَی اٴَکْثَرُ النَّاسِ إِلاَّ کُفُورًا) ۔ اگر چہ بہت سے مفسرین جیسے مرحوم شیخ طوسی نے تفسیر تبیان میں ، علامہ طبا طبائی نے تفسیر المیزان میں اور بعض دوسرے مفسرین نے ” صرفناہ“ میں ”ہ“ کی ضمیر کو بارش کی طرف پلٹا یا ہے جس کا مفہوم یہ ہوگا ” ہم بارش کے قطروں کو زمین کی مختلف سمتوں اور علاقوں میں بھیجتے ہیں اور اسے لوگوں کے درمیان تقسیم کردیتے ہیں تاکہ وہ خدا کی اس عظیم نعمت کو یاد رکھیں “۔ لیکن حق یہ ہے کہ یہ ضمیر قرآن اور قرآنی آیات کی طرف لوٹ رہی ہے کیونکہ یہ تعبیر ( فعل ماضی اور مضارع کی صورت میں ) قرآن مجید کے دس مقامات پر آئی ہے جن میں سے نو جگہوں پر تو واضح طور پر قرآنی آیات اور بیانات کی طرف لوٹ رہی ہے اور بہت سے مقامات پر” لیذکروا“ یا اس قسم کا لفظ اس کے فوراً بعد آیا ہے ۔ بنابر یں یہ بعید معلوم ہوتا ہے کہ اس مقام پر اس تعبیر کا دوسرا مفہوم ہے ۔ اصولی طور پر ”تصرف“ کا مادہ تبدیل کرنے اور لاٹ پھیر کرنے کے معنی میں آتا ہے جس کی بارش کے پانی سے چنداںمناسبت نہیں ہے جبکہ آیاتِ قرآنی سے یہ زیادہ مناسبت رکھتا ہے کیونکہ یہ مختلف انداز میں بیان ہوئی ہیں ،کبھی وعدے کی صورت میں ، کہیں وعید کی حالت میں ،کہیں پر امر ہے کہیں پر نہی ہے اور کسی مقام پر گزشتہ دنوں کی سر گزشت کی صورت میں ۔
تفسیر نمونہ - آیت اللہ مکارم شیرازی Commentary
Commentary on Quran 25:45-50
۲۔”نسقیہ“کامفہوم
یہ ”اسقاء“ کے مادہ سے ہے ”اسقاء“ اور ”سقی“ میں فرق ہے ۔ جیسا کہ راغب نے مفردات میں اور کچھ دوسرے مفسرین نے لکھا ہے کہ ”ا سقاء“کا پانی تیار رکھنا اور اسے کسی کے اختیار میں دے دینا ہے کہ جب بھی انسان چاہے اس سے پی لے ۔ جبکہ”سقی“ کا معنی ہے کہ پانی کا بر تن کسی ہاتھ میں دیا جائے تاکہ وہ اسے پئے ۔ دوسرے لفظوں میں ”اسقاء“ کا ایک وسیع اور عام معنی ہے ۔
تفسیر نمونہ - آیت اللہ مکارم شیرازی Commentary
Commentary on Quran 25:45-50
۳۔ پہلے زمینوں کا ذکر
اس آیت میں پہلے مردہ زمینوں کا ذکر آیاہے پھر جانوروں کااور آخر میں انسانوں کا۔شاید یہ اس لئے ہے کہ جب تک زمینیں بارش کی وجہ سے زندہ نہ ہوں جانوروں کو خوراک نہیں ملے گی اور جب تک جاانوروں میں جان نہیں آئے گی انسان اس سے خوراک حاصل نہیں کرسکے گا۔
تفسیر نمونہ - آیت اللہ مکارم شیرازی Commentary
Commentary on Quran 25:45-50
سوره فرقان / آیه 45 - 50
۴۵۔ اٴَلَمْ تَرَی إِلَی رَبِّکَ کَیْفَ مَدَّ الظِّلَّ وَلَوْ شَاءَ لَجَعَلَہُ سَاکِنًا ثُمَّ جَعَلْنَا الشَّمْسَ عَلَیْہِ دَلِیلًا ۔ ۴۶۔ ثُمَّ قَبَضْنَاہُ إِلَیْنَا قَبْضًا یَسِیرًا ۔ ۴۷۔ وَھُوَ الَّذِی جَعَلَ لَکُمْ اللَّیْلَ لِبَاسًا وَالنَّوْمَ سُبَاتًا وَجَعَلَ النَّھَارَ نُشُورًا۔ ۴۸۔ وَھُوَ الَّذِی اٴَرْسَلَ الرِّیَاحَ بُشْرًا بَیْنَ یَدَیْ رَحْمَتِہِ وَاٴَنزَلْنَا مِنْ السَّمَاءِ مَاءً طَھُورًا۔ ۴۹۔ لِنُحْیِیَ بِہِ بَلْدَةً مَیْتًا وَنُسْقِیَہُ مِمَّا خَلَقْنَا اٴَنْعَامًا وَاٴَنَاسِیَّ کَثِیرًا ۔ ۵۰۔ وَلَقَدْ صَرَّفْنَاہُ بَیْنَہُمْ لِیَذَّکَّرُوا فَاٴَبَی اٴَکْثَرُ النَّاسِ إِلاَّ کُفُورًا ۔ ترجمہ ۴۵۔آیا تونے نہیں دیکھا کہ تیرے پر وردگار نے کس طرح سائے کو پھیلا یا ہے ؟ گار چاہتا تو اسے ساکن بنادیتا ۔پھر ہم نے سورج کو اس پر دلیل بنایا ہے ۔ ۴۶۔پھر ہم اسے آہستہ آہستہ سمیٹ لیتے ہیں ۔ ۴۷۔اور خدا تو وہ ہے جس نے رات کو تمہارے لئے لباس بنایا ہے او ردن کو تمہاری حرکت اور زندگی کا سبب۔ ۴۸۔اور وہ وہی ہے جس نے ہواوٴں کو رحمت سے پہلے خوشخبری دینے والا بنا کر بھیجا اورہم نے آسمان سے پاک کرنے والا پانی نازل کیا ۔ ۴۹۔تاکہ ہم اس کے ذریعے سے مردہ زمینوں کو زندہ کریں اور اسے اپنی مخلوق جس میں بہت سے چوپائے اور انسان شامل ہیں کے اختیار میں دے دیتے ہیں تاکہ وہ اس سے سیرا ب ہو ں۔ ۵۰۔ ہم نے ان آیات کو طرح طرح سے ان کے درمیان بیان کیا ہے تاکہ وہ نصیحت حاصل کریں لیکن اکثر لوگوں نے انکار اور کفر کے علاوہ کوئی کام ہی نہیں کیا ۔
تفسیر نمونہ - آیت اللہ مکارم شیرازی Commentary
Commentary on Quran 25:45-50
سائے کی حرکت
ان آیات میں نعمت الہٰی کے بہت سے اہم حصوں کو توحید اور خدا شناسی کے اسرار کے عنون سے بیان کیا گیا ہے ۔ایسے امور کا ذکر کیا گیا ہے جن میں غور وفکر ہمیں اپنے خالق سے بیشتر آشنا اور نزدیک تر کردیتا ہے ۔ گزشتہ آیات میںزیادہ تر گفتگو مشرکین کے بارے میں رہی ہے لہٰذا ان آیات کا گزشتہ آیا ت سے تعلق واضح ہو جاتاہے۔ ان آیات میں سایہ کی نعمت ،پھر رات کے اثرات اور بر کات ، نیند اور آرام ،دن کی روشنی ، ہواوٴں کے چلنے ، بارش کے نازل ہوئے، مردہ زمینوں کے زندہ ہونے اور جانوروں اور انسانوں کے سیراب ہونے کی سی نعمتوں کو بیان کیا گیا ہے ۔ سب سے پہلے فرمایا گیا ہے : آیا تونے نہیں دیکھا کہ تیرے پر ور دگار نے سائے کو کیونکر پھیلا یا ہے ( اٴَلَمْ تَرَی إِلَی رَبِّکَ کَیْفَ مَدَّ الظِّلَّ )۔ اگرچاہتا تو اسے روکے رکھتا ( ہمیشہ سایہ ہی سایہ ہوتا)(وَلَوْ شَاءَ لَجَعَلَہُ سَاکِنًا)۔ اس میں شک نہیں کہ آیت کا یہ حصہ متحرک اور پھیلنے والے سایہ جیسی نعمت کی طرف اشارہ ہے ۔ سایہ ہمیشہ ایک حالت پر باقی نہیں رہتا بلکہ متحرک رہتا ہے اور نقل مکانی کرتا رہتا ہے اب یہاں پر یہ سوال پید اہوتا ہے کہ اس سے مراد کون سا سا یہ ہے ؟ مفسرین کے درمیان اس بارے میں اختلاف ہے ۔ بعض مفسرین کہتے ہیں کہ پھیلنے والے اس سائے سے مراد وہ سایہ ہے جو صبح صادق اور طلوع آفتاب کے درمیانی وقت میں ہوتا ہے کیونکہ سب سے زیادہ سرور اس سائے میں ہوتا ہے اور سب سے زیادہ کیف کی وہی گھڑی ہوتی ہے ۔پھیکے رنگ کاسایہ ڈالنے والا یہ نور صبح صادق سے شروع ہوتا ہے اور طلوع آفتاب تک چلا جا تا ہے پھر اس کے بعد دن کی روشنی اس کی جگہ لے لیتی ہے ۔ بعض مفسرین کہتے ہیں کہ اس سے مراد تمام رات کا سایہ ہے جو غروب سے شروع ہوکر طلوع آفتاب پر جا ختم ہو تا ہے کیونکہ ہر شخص جانتا ہے کہ رات در حقیقت زمین کے نصف کُرے کا سایہ ہوتی ہے جو آفتاب کے سامنے آجاتا ہے ۔ یہ سایہ مخروطی شکل کا ہوتا ہے جو فضا کو ڈھانپے رہتا ہے اور ہمیشہ چلتا پھر تا رہتا ہے جو طلوع آفتاب کے ساتھ اگر ایک علاقہ میں ختم ہو تا ہے تو دوسرے علاقہ میں جا ظاہر ہوتا ہے ۔ بعض مفسرین کہتے ہیں اس سے مراد وہ سایہ ہے جو زوال آفتاب کے بعد اشیاء کی طرف سے ظاہر ہوتا ہے اور آہستہ آہستہ بڑھتا رہتا ہے ۔ البتہ اگر بعد والے جملے نہ ہوتے تو ہم اس کا وسیع مفہوم سمجھتے جو تمام معانی کا جامع ہوتا لیکن جو قرائن اس کے بعد ذکر ہوئے ہیں ان سے معلوم ہوتا ہے کہ پہلی تفسیر سب سے زیادہ مناسب ہے کیونکہ ارشاد ہوتاہے : پھر ہم نے سورج کو اس پر دلیل بنایا ہے ( ثُمَّ جَعَلْنَا الشَّمْسَ عَلَیْہِ دَلِیلًا )۔ یہ اس بات کی طرف اشارہ ہے کہ اگرسورج نہ ہوتا ، سائے جا مفہوم کبھی سمجھ میں نہیں آتا۔ اصولی طور پر سایہ، آفتاب کی پرچھائیوں کا نام ہے کیونکہ عموماً پھیکی او رکم رنگ تاریکی کو ”سایہ“ کہتے ہیں جو اجسام سے پیدا ہوتا ہے یہ اس وقت ہوتا ہے جب روشنی ایسے اجسام پر پڑے جن سے عبور نہ کرسکتی ہو تو روشنی کی مقابل طرف کو سایہ کہتے ہیں بنابریں نہ صرف ”تعرف الاشیاء باضدادھا“( ہر چیز اپنی ضد سے پہچانی جاتی ہے ) کے قاعدے کے تحت سائے کو نور سے جدا کیا جا سکتا ہے بلکہ اس کا وجود بھی در حقیقت نور کا مرہون ِمنت ہے ۔ آگے فرمایا گیا ہے : پھر ہم اسے آہستہ آہستہ سمیٹ لیتے ہیں ( ثُمَّ قَبَضْنَاہُ إِلَیْنَا قَبْضًا یَسِیرًا) ۔ ہر ایک کو معلوم ہے کہ جب سورج طلوع ہوتا ہے تو سایہ بھی آہستہ آہستہ سمٹنا شروع ہو جاتا ہے حتیٰ دو پہر کے وقت بعض مقامات پر بالکل معدوم ہی ہو جاتا ہے کیونکہ اس وقت سورج ٹھیک ہر چیز کے سر پر ہوتاہے اور دوسرے مقامات پراپنی کم سے کم مقدار کو جاپہنچتا ہے اس طرح سے سایہ نہ تو ایک ہی مرتبہ ظاہر ہوتا ہے اور نہ ایک ہی دفعہ سمیٹ لیا جاتا ہے یہ کام بجائے خود پر وردگار ِ عالم کی ایک حکمت ہے کیونکہ اگر ایک دم سائے سے روشنی پیدا ہوتی یا روشنی سے سایہ پیدا ہوتا تو موجودات ِ عالم کے لئے نقصان دہ ہوتا۔لیکن حالت ِ انتقالی کا یہ تدریجی نظام اس قدر حکمت پر مبنی ہے کہ کسی چیز کو ضرر پہنچائے بغیر زیادہ سے زیادہ فائدہ پہنچاتا ہے ۔ ”یسیراً“ کی تعبیر سائے کے آہستہ آہستہ سمٹنے کی طرف اشارہ ہے یا اس بات کی طرف اشارہ ہے کہ نور اور ظلمت کا خصوصی نظام خدا وند عالم کی قدرت کے لئے سادہ اور آسان سی بات ہے ” الینا “ بھی اسی قدرت ِ خدا وندی کی تاکید ہے ۔ بات خواہ جو بھی ہو یہ یقینی ہے کہ جس طرح انسان اپنی زندگی کے لئے ”نور“ کا محتاج ہے اسی طرح توازن کر بر قرار رکھنے اور شدت نور کی مدت کے دوران اسے سائے کی بھی ضرورت ہے ۔ نور کی یکساں تابندگی بھی زندگی کو اسی طرح درہم برہم کردیتی ہے جس طرح سایہ کی ہمیشگی موت کا پیغام بن جاتی ہے کیونکہ پہلی صورت میں تمام موجودات جل کر بھسم ہوجائیں جبکہ دوسری صور ت میں کائنات کی ہر چیز منجمد ہو کر رہ جائے ” نور “ اور ” سایہ“ کی باری باری آمد و رفت نے انسان کے لئے زندگی کو آسان اور خوشگوار بنایا ہوا ہے ۔ یہی وجہ ہے کہ قرآن مجید کی دوسری آیات میں رات اور دن کو جو ایک دوسرے کے پیچے آتے رہتے ہیں خدا کی عظیم نعمتوں میں شمار کیا گیا ہے ۔چنانچہ سورہٴ قصص آیہ ۷۱ میں فرمایا گیا ہے : قل اٴرائیتم ان جعل اللہ علیکم اللیل سرمداً الیٰ یوم القیامةمن الہ غیر اللہ یاٴتیکم بضیاء افلا تسمعون اے پیغمبر ! کہہ دیجئے کہ اگر خدا وند ِ عالم رات کو قیامت تک تمہارے لئے باقی رکھنا چاہتا تو سوائے خدا وند عالم کے کوئی اور معبود ہے جو تمہارے لئے نور کی شعاع لے آتا؟ کیا سن نہیں رہے ہو؟اور اس کے ساتھ ہی فوراً کہتا ہے : قل اراٴیتم ان جعل اللہ علیکم النھار سرمداً الیٰ یوم القیامة من الہ غیر اللہ یاٴتیکم بلیل تسکنون فیہ فلاتبصرون کہہ دیجئے !کہ اگر خدا وند عالم دن کو تمہارے لئے قیامت تک باقی رکھنا چاہتا تو سوائے خدا وند ِ متعال کے کوئی معبود ہے جو تمہارے لئے رات لے آتا جس میں تم آرام کر سکتے ؟کیا دیکھ نہیں رہے ہو ؟( قصص۔۷۲) اس کے ساتھ ہی آیت ۷۳ میں نتیجے کے طورپر فرمایا گیاہے : ومن رحمتہ جعل لکم اللیل و النھار لتسکنو فیہ ولتبتغوا من فضلہ و لعلکم تشکرون یہ خدا کی رحمت ہی تو ہے کہ اس نے تمہارے لئے رات و دن بنائے ہین جن میں تم آرام بھی کر سکو اور حصول معاش کے لئے اس سے استفادہ بھی کرسکوشاید کہ اس کا شکر ادا بھی کرو ۔ یہی وجہ ہے کہ خدا وند عالم نے ” ظل ممدود“( پھیلے ہوئے سائے ) کو بہشت کی نعمتوں میں شمار کیا ہے کیونکہ نہ تو اس قدر روشنی ہوتی ہے جس سے آنکھیں خیرہ ہو جائیں اور تھک جائیں اور نہ ہی تاریکی ہوتی ہے جس سے کسی کو وحشت محسوس ہو۔سایہ جیسی نعمت کا ذکر کرنے کے بعد قرآن دو اور نعمتوں کو تفصیل کے ساتھ بیان فرماتا ہے جو اس کے ساتھ مکمل طور پر مناسبت رکھتی ہیں ان دونعمتوں کے ذکر کے ساتھ نظامِ ہستی کے کچھ اور اسرار سے پر دہ اٹھا تا ہے جو وجود خدا پر دلالت کر رہی ہے چنانچہ ارشاد ہوتا ہے : اور خدا تو وہ ہے جس نے رات کو تمہارے لئے لباس بنا یا ہے ( وَھُوَ الَّذِی جَعَلَ لَکُمْ اللَّیْلَ لِبَاسًا )۔ ”رات کو لباس بنایاہے “کیسی دلچسپ تعبیر ہے یہ تاریک پر دہ صرف انسانوں ہی کو نہیں بلکہ روئے زمین پر موجود تمام چیزوں کو اپنے اندر چھپالیتا ہے اور انھیں لباس کی مانند محفوظ کرلیتا ہے جیسا کہ انسان سوتے وقت تاریکی اور آرام و استراحت کے لئے پر دے سے کام لیتا ہے اسی طرح یہ تمام چیزوں کے لئے تاریکی اور پردے کا کام دیتی ہے۔ پھر نیند جیسی نعمت کی طرف اشارہ کرتے ہوئے فرماتا ہے :اس نے نیند کو تمہارے لئے آرام کا ذریعہ بنایا ہے (وَالنَّوْمَ سُبَاتًا )۔ ”سباتاً“” سبت“( بر وزن”وقت“)کے مادہ سے ہے جس کا معنیٰ ہے ” کاٹدینا “ پھر آرام کی غرض سے کام کاج کو روک دینے کے معنی میں استعمال ہونے لگا اور ہفتہ کے دن کو عربی میں ” یوم السبت“کہتے ہیں اس کی وجہ یہ ہے کہ اس نام کا انتخاب یہودیوں کے طرز عمل سے کیا گیا ہے کیونکہ ہفتے کا دن ان کی چھٹی اور آرام کا دن ہوتا ہے ۔ در حقیقت یہی تعبیر اس بات کی طرف اشارہ ہے کہ جب نیند آجاتی ہے تو تمام جسمانی سر گر میاں کم ہو جاتی ہیں تاکہ تھکاوٹ دور ہو جائے اور اعضاء کو از سر نو تازگی مل جائے اور اس دوروزن میں دل کے دھڑکنے اور سانس لینے کا عمل جاری رہتا ہے ۔ بر وقت اور مناسب مقدار کی نیند سے بدن کی طاقتیں بے حال ہو جاتی ہیں جسم کو تازگی مل جاتی ہے صرف شدہ قوت لوٹ آتی ہے نیند اعصاب کے سکون کا بہترین ذریعہ ہے اس کے برعکس نیند کا نہ آنا خاص طور پر ایک لمبے عرصے کی بے خوابی بہت ہی نقصان دہ او رموت کا سبب بن جاتی ہے یہی وجہ ہے کہ جب کسی کو تشدد کا نشانہ بنایا جاتا ہے اور سختی کی جاتی ہے تو جو اہم ترین حربہ اختیار کئے جاتے ہیں ان میں سے ایک یہی بے خوابی ہے جس سے انسان کی قوت مدافعت جواب دے جاتی ہے ۔ آیت کے آخر میں”دن “ جیسی نعمت کی طرف اشارہ کرتے ہوئے فرمایا گیا ہے :۔ اور خدا وندِ عالم نے دن کو تحرک اور زندگی کا سبب بنایا ہے (وَجَعَلَ النَّھَارَ نُشُورًا)۔ ”نشور“ ”نشر“ کے مادہ سے ہے اور کھولنے کے معنی میں ہے جو” لپیٹنے“کے مقابلے میں ہوتا ہے اس تعبیر سے ممکن ہے اس طرف اشارہ ہو کہ بیداری کے وقت روح، تمام بدن میں پھیل جاتی ہے جو تقریباًمرنے کے بعد دوبارہ اٹھنے کے مشابہ ہے ۔ یہ ممکن ہے کہ انسانوں کے پھیل جانے کی طرف اشارہ ہو جب وہ اجتماعی اور انفرادی صورت میں پھیل جاتے ہیں اور زندگی کے مختلف کاموں کے لئے روئے زمین پر ادھر اُدھر چلنے لگ جاتے ہیں ۔ ایک روایت میں ہے کہ حضرت رسالت مآب ہر روز صبح کے وقت یہ جملہ ادا فرمایا کرتے تھے :۔ الحمد للہ الذی احیانا بعد ما اماتنا و الیہ النشور حمد اس خدا کے لئے مخصوص ہے جس نے ہمیں مرنے کے بعد دوبارہ زندہ کیا اور نئی زندگی بخشی اور انجام کار ہم نے اسی کی طرف محشور ہونا ہے(1) ۔ سچی بات تو یہ ہے کہ انسانی جسم اور روح کےلئے دن کی روشنی تحریک بخش ہے جبکہ تاریکی نیند لاتی ہے اور سکون عطا کرتی ہے ۔ اس دنیا کی بھی یہی حالت ہے جب سورج کی پہلی کرن زمین پر پڑتی ہے تو زندہ اور جاندار چیزوں میں عجیب جوش وخروش پیدا ہو جاتا ہے ۔ انھیں ایک نئی زندگی مل جا تی ہے ۔ہر چیز اپنے کام کاج میں مشغول ہوجاتی ہے ۔یہاں تککہ نباتات بھی سورج کی روشنی میں جلدی جلدی سانس لیان ، غذاحاصل کرنا اور نشو ونماپانا شروع کردیتے ہیں جبکہ غروب ِآفتاب کے ساتھ گویا خاموشی کاناقوس بج جاتا ہے جس سے پرندے تک اپنے گھونسلوں میں جاچھپتے ہیں اور ہر جاندار اور نیند کا رخ کرتی ہے حتیٰ کہ نباتات بھی ایک طرح کی نیند کی آغوش میں چلے جاتے ہیں ۔ عظیم نعمتوں کے ذکر کے بعد جو تمام انسانوں کی سب سے بنیاادی اور اہم ضرورت ہیں ایک اور اہم نعمت کو بیان فرماتے ہوئے قرآن کہتا ہے : خدا تو وہ ہے جس سے ہواوٴں کو اپنی رحمت سے پہلے خوشخبری دینے والا بنا کر بھیجا اور ہم نے آسمان سے پاک کرنے والا نازل پانی کیا ( وَھُوَ الَّذِی اٴَرْسَلَ الرِّیَاحَ بُشْرًا بَیْنَ یَدَیْ رَحْمَتِہِ وَاٴَنزَلْنَا مِنْ السَّمَاءِ مَاءً طَھُورًا)۔ رحمت الٰہی کے نزول سے پہلے ہواوٴں کے ” مقدمة الجیش “ کی حیثیت سے ہر شخص آگاہ ہے کیونکہ اگر یہ نہ ہوں تو کسی خشک زمین پر بارش کا ایک قطرہ بھی نہ بر سے ۔ یہ ٹھیک ہے کہ سورج کی گرمی سمندروں کے پانی کو بخارات میں تبدیل کرکے اوپر کو بھیجتی ہے اور یہی بخارات سرد فضا میں جاکر اکھٹنا ہو نا شروع ہو جاتے ہیں اور بارش بر سانے والے بادلوں کی شکل اختیار کرلیتے ہیں ، لیکن اگر یہ ہوائیں ان بھرے ہوئے بادلوں کو سمندروں سے خشک زمینوں کی طرف ہانک کر لے جائیں تو وہی بادل سمندروں پر ہی برسنا شروع کردیں ۔ گویارحمت کی خوشخبری دینے والی ہواوٴں کا وجود جو ہمیشہ زمین کے ایک حصے سے دوسرے حصے کی طرف چلتی رہتی ہیں زمین کی تشنگی دور کرنے کا سبب بن جاتاہے کیونکہ انہی سے حیات بخش بارشوں کانزول ہوتا ہے جس سے دریا اور چشمے وجود میں آتے ہیں ، کنویں پانی سے بھر جاتے ہیں اور مختلف نباتات کی نشو و نما ہوتی ہے ۔ ہمیشہ ایسا ہوتا ہے کہ ان ہواوٴں کا ایک حصہ بادلوں کے آگے آگے چلتا رہتا ہے جن میں ملائم سی نمی کی آمیزش ہو تی ہے اسی حصہ سے نسیم روح افزاء وجود میں آتی ہے ، جس کے اندرسے بارش کی سوندھی سوندھی خوشبو مشام تک پہنچتی ہے ۔ اس کی حیثیت اس شخص کی سی ہوتی ہے جو کسی محبوب مسافر کے آنے کی خوشخبری لاتا ہے ۔ ”ریاح“( ہواوٴں) کی جمع کی صورتمیں بیان کرنے کا مقصدشاید ان کی مختلف انواع کی طر ف اشارہ ہوکیکونکہ کچھ شمالی ہوائیں ہوتی ہیں ، کچھ جنوبی ،کچھ مشرقی ہوتی ہیں اور کچھ مغربی اور طبیعی طور پر روئے زمین کے ہر حسے تک بادلوں کے پھیل جانے کا سبب بن جاتی ہیں (2) ۔ قابل توجہ بات یہ بھی ہے کہ یہاں پر” ماء“ ( پانی ) کی صفت”طہور“ بیان کی گئی ہے جو طہارت ( یعنی پاکیزگی) کا مبالغہ کا صیغہ ہے اور اسی معنی کے لحاظ سے اس سے اس کا مفہوم پاک ہونا بھی ہے اور پاک کرنا بھی۔یعنی پانی ذاتی طورپر بھی پاک ہے اور نجس چیزوں کو بھی پاک کرتا ہے ۔جبکہ پانی کے علاوہ بہت سے چیزیں ذاتی طورپر تو پاک ہیں لیکن نجس چیزوں کو پاک نہیں کرسکتیں ۔ بہر صورت پانی میں زندہ رکھنے کے علاوہ ایک اور اہم خاصیت پائی جاتی ہے اور وہ ہے پاک کرنے کی خاصیت ۔گویا پانی نہ ہوتا تو ہمارا جسم اورجان بلکہ تمام زندگی ایک ہی دن میں غلیظو متعفن ہو کر رہ جاتی اگرچہ وہ بذات ِخود جراثیم کش نہیں ہے لیکن چونکہ اس میں حل کرنے کی زبر دست خاصیت پائی جاتی ہے لہٰذا ان ھیں اپنے اندر حل کرکے دھو ڈالتا ہے اور ہمیشہ کے لئے ختم کردیتا ہے اس لحاظ سے وہ انسان کی سلامتی اور مختلف بیماریوں کے خلاف نبرد آزمائی میں بہت موٴثر طریقے پر ہماری معاونت کرتا ہے ۔ اس کے علاوہ روحانی اور باطنی طہارت جیسے غسل اور وضو وغیرہ میں بھی پانی ہی کام آتا ہے ۔ پس معلوم ہوا کہ پانی صرف ظاہری نجاستوں کو دور نہیں کرتا بلکہ باطنی نجاستوں کو بھی دور کرتا ہے ۔ اگر چہ پاک کرنے کی یہ خاصیت زبر دست اہمیت کی حامل ہے لیکن اسے دوسرا درجہ حاصل ہے لہٰذا بعد والی آیت میں ارشاد فرمایاگیا ہے :ہمارے بارش بر سانے کا مقصد یہ ہے کہ اس کے ذریعے مردہ زمینوں کو زندہ کریں (لِنُحْیِیَ بِہِ بَلْدَةً مَیْتًا ) (3) ۔ نیز ہم اس زندگی بخش پانی کو پینے کے لئے اپنی مخلوق یعنی بہت سے چوپایوں اور انسانوں کے اختیار میں دے دیتے ہیں (وَنُسْقِیَہُ مِمَّا خَلَقْنَا اٴَنْعَامًا وَاٴَنَاسِیَّ کَثِیرًا )۔ 1۔ تفسیر قرطبی جلد ۷ ، ص ۴۴۵۵۔ 2 ۔ متوجہ رہنا چاہئیے کہ ”بُشراً“ (شین کے سکون کے ساتھ ) ”بُشُرا“ ( شین کے ضمہ کے ساتھ ) کامخفف ہے اور ”بشور“( بر وزن”قبول“) کی جمع ہے جو ” مبشر“ یعنی بشارت دینے والے کے معنی میں ہے ۔ 3 ۔توجہ رہے کہ یہاں پر”بلدة“ بیابان اور صحراکے معنی میں ہے ۔اگر چہ موٴنث کا صیغہ ہے لیکن اس کی صفت مذکر کے صیغے” میتاً“ کے ساتھ لائی گئی ہے ۔ کیونکہ ”بلدة“ مکان کے معنی میں ہے اور مکان مذکر ہے