أَلَمْ تَرَ أَنَّ اللَّهَ يُزْجِي سَحَابًا ثُمَّ يُؤَلِّفُ بَيْنَهُ ثُمَّ يَجْعَلُهُ رُكَامًا فَتَرَى الْوَدْقَ يَخْرُجُ مِنْ خِلَالِهِ وَيُنَزِّلُ مِنَ السَّمَاءِ مِن جِبَالٍ فِيهَا مِن بَرَدٍ فَيُصِيبُ بِهِ مَن يَشَاءُ وَيَصْرِفُهُ عَن مَّن يَشَاءُ يَكَادُ سَنَا بَرْقِهِ يَذْهَبُ بِالْأَبْصَارِ
Have you not regarded that Allah drives the clouds, then He composes them, then He piles them up, whereat you see the rain issuing from its midst? And He sends down hail from the sky, out of the mountains that are in it, and He strikes with it whomever He wishes, and turns it away from whomever He wishes. The brilliance of its lightening almost takes away the sight.
Agha Ali Puya Commentary
Commentary on Quran 24:43
[Pooya/Ali Commentary 24:43] Clouds float in the air; and, when they join together in huge mountain like masses, rain comes forth from their midst; then hail storms develop and with it lightning flashes with which the author of nature strikes whom He pleases and keeps it away from whom He pleases.
تفسیر نمونہ - آیت اللہ مکارم شیرازی Commentary
Commentary on Quran 24:43-45
ایک سوال کا جواب
سوال یہ ہے کہ آسمان میں کونسا پہاڑ ہے کہ جس سے کنائے کے طور پر ژالہ باری ہوتی ہے، اس ضمن میں مفسرین نے مختلف باتیں کی ہیں، مثلاً: ۱۔ بعض نے کہا ہے کہ ”جبال“ (متعدد پہاڑ) کنائے کے طور پر ہے، جیسے ہم کہتے ہیں، اناج کا پہاڑ یا علم کا پہاڑ لہٰذا یہاں آیت کا مفہوم یہ ہے کہ آسمان بادلوں میں پہاڑ کی مانند برف کا عظیم تودہ معرض وجود میں آتا ہے ، اولے گویا اس پہاڑ کے ٹکڑے ٹکڑے اور سنگریزے ہیں، کچھ کسی شہر میں جا گرتے ہیں، کچھ بیابان میں جاپڑتے ہیں، یہاں تک کہ کچھ لوگوں کو ان سے نقصان بھی پہنچتا ہے ۔ ۲۔ بعض نے کہا ہے کہ پہاڑوں سے مراد بادل کے بڑے بڑے ٹکڑے ہیں، جو پہاڑوں کی طرح عظیم ہوتے ہیں ۔ ۳۔ تفسیر ”فی ظلال“ کے موٴلف نے اس سلسلے میں ایک بات کی ہے، یہ بات سب سے زیادہ مناسب نظر آتی ہے، وہ یہ کہ آسمان پر بادل کے ٹکڑے سچ مچ پہاڑ کی طرح کے ہوتے ہیں، اگرچہ نیچے زمین سے ہم دیکھیں تو ہموار دکھائی دیتے ہیں، لیکن جن لوگوں نے ہوائی جہاز کے ذریعے بادلوں کے اوپر سے سفر کیا، انھوں نے اپنی آنکھوں سے دیکھا ہے کہ بادل بالکل پہاڑوں کی طرح ہوتے ہیں، ان میں سے درّے، بلندیاں اور پستیاں ہوبہو زمین پر پہاڑوں جیسی ہوتی ہیں، اس لحاظ سے بادل پر پہاڑ کا اطلاق بالکل نامناسب ہے(1) ۔ اس گفتگو کے ساتھ ہم اس نکتے کا اضافہ کرسکتے ہیں کہ سائنسدانوں کی تحقیق کے مطابق اولے پیدا ہوتے ہیں کہ بارش کے قطرے بادل سے الگ ہوتے ہیں، وہ ہوا کے بالائی حصّے میں سردی کی شدید لہروں سے ٹکراکر برف کی گولیوں میں تبدیل ہوجاتے ہیں، اس حصّے میں موجودہ تباہ کن طوفان اور جھکڑ کے باعث بعض اوقات یہ اولے پھر اوپر کی طرف اچھل کر بادل میں داخل ہوجاتے ہیں، اس اثناء میں پانی کی تہہ ان پر چڑھ جاتی ہے، بادلوں سے جدا ہوتے وقت وہ پھر برف کی گولیاں بن جاتے ہیں، کبھی تو ان گولیوں کے گرنے اور طوفان سے ٹکراکر اوپر بادلوں کی طرف اچھلنے کا عمل کئی مرتبہ دہرایا جاتا ہے اور ہر بار ان پر ایک نئی تہہ کا اضافہ ہوجاتا ہے یہاں تک کہ یہ اولے اتے بڑے ہوجاتے ہیں کہ طوفان اور جھکڑ انھیں اب اوپر نہیں اچھال سکتے، لہٰذا وہ زمین پر آپڑتے ہیں، یا پھر طوفان رک جانے کے باعث وہ کسی رکاوٹ کے بغیر زمین پر آپڑتے ہیں(2) ۔ اس بات کی طرف توجہ کرنے سے لفظ ”جبال“ میں جو سائنسی نکتہ پوشیدہ ہے، زیادہ واضح ہوجاتا ہے، کیونکہ بھاری اولے تبھی وجود میں آسکتے ہیں ، جب بادل تہ دار ہوجائیں تاکہ جس وقت طوفان برف کی گولیوں کو ان کے اندر کی طرف اچھالیں تو یہ پانی کی زیادہ مقدار جذب کرسکیں اور یہ صرف اسی صورت میں ممکن ہے جب اوپر کی طرف کے ٹکڑے مرتفع اور بلند پہاڑوں کی طرح ہوں (غور کیجئے گا)(3). بعض موٴلفین نے اس موقع پر ایک اور بحث بھی کی ہے جس کا خلاصہ ہم ذیل میں درج کرتے ہیں: ”زیرِ بحث آیات میں بلند بادل صریحاً برف کے پہاڑوں کی طرف اشارہ ہے اور یا دوسرے الفاظ میں ان سے وہ پہاڑ مراد ہیں کہ جن میں ایک طرح کی برف ہوتی ہے اور یہ بہت جاذب نظر ہے کیونکہ ہوائی جہازوں کے وجود میں آنے کے بعد اور بلند پروازوں کے ممکن ہوجانے کے بعد انسانی علم بہت وسیع ہوگیا ہے، سائنسدانوں نے ایسے بادل دریافت کئے ہیں کہ جو برف کے ذرّات سے بنے ہوئے ہیں اور ان کے نیچے چھپے ہوئے ہیں کہ جن پر برف، موسلا دھار طوفانی بارشوں کے بارے میں بات کرتے ہوئے باربار برف کے پہاڑ یا برف سے بنے ہوئے پہاڑ کے الفاظ استعمال کرتا ہے اور اس سے یہ بات ثابت ہوجاتی ہے کہ واقعاً آسمان میں برف کے پہاڑ موجود ہیں(4) ۔ اگلی آیت میں رات اور دن کی خلقت اور ان کی خصویات کے حوالے سے عظمتِ الٰہی کی ایک اور نشانی بیان کی گئی ہے، ارشاد ہوتا ہے، الله رات اور دن کو الٹ پھیر کرت لاتا ہے، اور اس میں اہل بصیرت کے لئے عبرت ہے (یُقَلِّبُ اللهُ اللَّیْلَ وَالنَّھَارَ إِنَّ فِی ذٰلِکَ لَعِبْرَةً لِاٴُوْلِی الْاٴَبْصَارِ) ۔ یہ کہ اس تعبیر اور الٹ پھیر سے مراد ہے اس سلسلے میں علماء نے مختلف تفسریں کی ہیں، مثلاً: بعض نے کہا کہ اس سے مراد رات اور دن کی آمد ورفت ہے، کیونکہ رات آتی ہے تو دن کو محو کردیتی ہے اور دن آتا ہے تو رات کو محو کردیتا ہے ۔ بعض نے کہا ہے کہ اس سے مراد یہ ہے کہ ان میں سے ایک تدریجی طور پر چھوٹا ہوتا ہے تو دوسرا بڑھ جاتا ہے اور اسی سے مختلف موسم پیدا ہوتے ہیں ۔ بعض نے اسے رات اور دن میں پیدا ہونے والے مختلف تغیرات مثلاً گرمی اور سردی وغیرہ کے معنی لیا ہے (5) ۔ لیکن بغیر کہے واضح ہے کہ یہ تفسیریں باہم ایک دوسرے کے منافی ہیں اور ہوسکتا ہے یہ سب ”یقلب“ کے مفہوم میں جمع ہوں ۔ بلاشبہ سائنس نے ثابت کیا ہے کہ رات اور دن کا آنا جانا اور ان کے تدریجی تغیرات انسانی زندگی سے گہرا تعلق رکھتے ہیں اور ”اولی الابصار“ اور اہل نظر کے لئے درسِ عبرت ہیں، اگر سورج ایک ہی طرح چمکتا رہے اور دھوپ مسلسل پڑتی رہے تو ہوا کا درجہ حرارت بہت بڑھ جائے اور جاندار چیزیں جل جائیں اور اعصاب بہت تھک جائیں لیکن اس تپش اور چمک کے درمیان اگر رات کے تاریک پردے حائل ہوجائیں تو ان چیزوں کو اعتدال میں رکھتے ہیں ۔ شب وروز میں پیدا ہونے والی تدریجی تبدیلیاں چار موسموں کی پیدائش کا باعث بنتی ہے اور یہ نباتات کے بار آور ہونے کے لئے بہت ہی موٴثر ہیں، اس طرح یہ تبدیلیاں جانداروں کی زندگی، بارش برسنے اور زمینوں میں پانی کے ذخائر جمع ہونے کے لئے بہت موٴثر کردار ادا کرتی ہیں(6) ۔ زیرِ نظر آخر آیت چہرہٴ آفرینش کے ایک اور رخ کی طرف اشارہ کرتی ہے اور یہ بھی توحید الٰہی کے لئے ایک واضح دلیل ہے اور یہ ہے مختلف صورتوں میں زندگی کا وجود ، ارشاد ہوتا ہے: الله نے ہر جلنے پھرنے والے کو پانی سے پیدا کیا ہے (وَاللهُ خَلَقَ کُلَّ دَابَّةٍ مِنْ مَاءٍ) ۔ اگرچہ ان سب کو پانی سے پیدا کیا گیا ہے، لیکن پھر بھی عجیب مختلف قسم کے جاندار پیدا ہوتے ہیں ”کچھ ان میں سے پیٹ کے بل چلتے ہیں“ (فَمِنْھُمْ مَنْ یَمْشِی عَلیٰ بَطْنِہِ) اور کچھ ہیں کہ جو چار پاوٴں پر چلتے ہیں (چوپائے) (وَمِنْھُمْ مَنْ یَمْشِی عَلیٰ رِجْلَیْنِ وَمِنْھُمْ مَنْ یَمْشِی عَلیٰ اٴَرْبَعٍ) ۔ اور پھر یہی نہیں، زندگی کے اور بھی مظاہر ہیں، ان میں سے وہ بھی جاندار ہیں کہ جو پانی میں رہتے ہیں، اسی طرح حشرات الارض بھی ہزاروں قسم کے ہیں، اسی لئے آیت کے آخر میں مزید فرمایا گیا ہے: الله جس چیز کا ارادہ کرتا ہے اسے پیدا کرتا ہے (یَخْلُقُ اللهُ مَا یَشَاءُ) ۔ کیونکہ الله ہر چیز پر قادر ہر چیز پر قادر ہے (إِنَّ اللهَ عَلیٰ کُلِّ شَیْءٍ قَدِیرٌ) ۔ 1۔ فی ضلال القرآن، ج۶، ص۱۰۹. 2 ۔ دائرة المعارف فرہنگ نامہ، مادہٴ ”تگرک“۔ 3 ۔ ”وَیُنَزِّلُ مِنَ السَّمَاءِ مِنْ جِبَالٍ فِیھَا مِنْ بَرَدٍ“ میں تین مرتبہ لفظ ”من“ آیا ہے، عربی ادب کے لحاظ سے ان میں سے پہلا ”من“ ”ابتدائیہ“، دوسرا بھی ”ابتدائیہ “ البتہ تیسرے ”من“ کے بارے میں مختلف آراء ہیں، ایک یہ ہے کہ یہ ”بیانیہ“ ہے اور اس لحاظ سے جملے کا مفہوم یہ ہوگا کہ ”الله آسمان سے اولوں کے پہاڑوں سے اولے بھیجتا ہے“ اس قول کی بناء پر ”ینزل“ کا مفعول محذوف ہے ”البرد“ کہ جو قرینہٴ کلام سے سمجھا جاتا ہے، لیکن دوسری اور تیسری تفسیر کے جسے ہم نے انتخاب کیا ہے، کی بناء پر یہ ”من“ ”زائدہ“ ہوگا، جیسا کہ زمخشری نے روح المعانی میں لکھا ہے، یا پھر یہ ”تبعیضیہ“ ہے (غور کیجئے گا) ۔ 4۔ باد باراں در قرآن، ص۱۴۰ و۱۴۱ (مزید توضیح کے لئے مذکورہ کتاب کا مطالعہ فرمائیں ۔ 5۔ تفسیر فخر الدین رازی، تفسیر مجمع البیان اور تفسیر روح المعانی۔ 6 ۔ اس سلسلے میں تفسیر نمونہ جلد۸ میں سورہٴ یونس کی آیت ۶ کے ذیل میں ہم تفصیلی بحث کرچکے ہیں ۔
تفسیر نمونہ - آیت اللہ مکارم شیرازی Commentary
Commentary on Quran 24:43-45
کچھ اور عجائبات کی خلقت
ان آیات میں بھی عجائبات خلقت اور ان میں پوشیدہ علم وحکمت وعظمت کا ایک گوشہ بیان کیا گیا ہے اور ان میں بھی سب اس کی ذات پاک کی توحید کے دلائل ہیں ۔ ایک دفعہ پھر روئے سخن پیغمبر اکرم صلی ا لله علیہ وآلہ وسلّم کی طرف ہے، ارشاد ہوتا ہے: کیا تونے نہیں دیکھا کہ الله بادلوں کو آہستہ آہستہ چلاتا ہے، پھر انھیں ایک دوسرے سے جوڑ دیتا ہے اور انھیں تہ در تہ کردیتا ہے (اٴَلَمْ تَریٰ اٴَنَّ اللهَ یُزْجِی سَحَابًا ثُمَّ یُؤَلِّفُ بَیْنَہُ ثُمَّ یَجْعَلُہُ رُکَامًا) ۔ ”پھر تو دیکھتا ہے کہ ان بادلوں میں سے بارش کے قطرے ٹپکنے لگتے ہیں اور کوہ ودشت اور باغ وصحرا پر برستے ہیں ( فَتَرَی الْوَدْقَ یَخْرُجُ مِنْ خِلَالِہِ) ۔ ”یزجیٰ“ ”ازجاء“ کے مادہ سے ہے، آہستہ آہستہ اور نرمی کے ساتھ منتشر چیزوں کو ایک دوسرے کے ساتھ ملاکر چلانے کے معنیٰ میں ہے، بادلوں کے بارے میں یہ لفظ پوری طرح سے صادق آتا ہے، کیونکہ ان کے مختلف ٹکڑے سمندروں کے مختلف گوشوں سے اٹھتے ہیں، پھر الله کا دستِ قدرت انھیں ایک دوسرے کی طرف چلاتا ہے اور انھیں ایک دوسرے سے جوڑدیتا ہے اور تہ دار بنادیتا ہے ۔ ”رکام“ (بروزن ”غلام“) ایسی چیزوں کے معنی میں ہے جو ایک دوسرے کے اوپر چڑھی ہوئی اور تہ در تہ ہوں ۔ ”ودق“ ، ”شرق“ کے وزن پر ہے، بہت سے مفسرین کے مطابق یہ بارش کے قطروں کے معنیٰ میں ہے کہ جو بادلوں سے برستے ہیں، مفردات راغب کے بقول اس کا ایک اور معنیٰ بھی ہے ۔ اور وہ ہے ”پانی کے بہت ہی چھوٹے ذرّات کہ جو غبار کی صورت میں بارش کے برستے وقت فضا میں بکھر جاتے ہیں“۔ یہاں پہلا معنیٰ زیادہ مناسب معلوم ہوتا ہے کیونکہ جو چیز عظمت پروردگار کی زیادہ اہم نشانی ہے، وہ بارش ہی کے حیات بخش قطرات ہیں نہ کہ وہ قطرات کہ جو غبار کی مانند ہیں، علاوہ ازیں قرآن نے جہاں کہیں بھی بادلوں اور آسمانوں سے نزول کے برکات کا ذکر کیا ہے، وہاں بارش کی طرف ہی اشارہ ہے، جی ہاں! بارش ہی ہے جو مردہ زمینوں کو زندہ کرتی ہے، نباتات کو لباس پہناتی ہے اور انسانوں اور حیوانوں کو سراب کرتی ہے ۔ اس کے بعد آسمان اور بادلوں سے پیدا ہونے والی ایک اور عجیب وغریب چیز کی طرف اشارہ کرتے ہوئے فرمایا گیا ہے ۔ اور آسمانوں سے موجود پہاڑوں سے اوپر برساتا ہے (وَیُنَزِّلُ مِنَ السَّمَاءِ مِنْ جِبَالٍ فِیھَا مِنْ بَرَدٍ) ۔ اور جسے چاہے ان کے ذریعے نقصان پہنچاتا ہے ، درخت ، پھل، کھیت اور بعض اوقات انسان وحیوان بھی ان سے تباہ ہوجاتے ہیں (فَیُصِیبُ بِہِ مَنْ یَشَاءُ) ۔ اور جسے چاہتا ہے اس کے نقصان سے بچا لیتا ہے ( وَیَصْرِفُہُ عَنْ مَنْ یَشَاءُ) ۔ جی ہاں! وہی تو کبھی بادل سے حیات بخش بارش برساتا ہے اور کبھی اسے نقصان رساں ژالہ باری میں بدل دیتا ہے اور ژالہ باری جو کبھی ہلاکت آمیز بھی ہوتی ہے، بلکہ ان چیزوں کو گویا ایک دوسرے کے دل میں رکھ دیا ہے ۔ آیت کے آخر میں آسمان پر ابھرنے والی توحید کی ایک اور نشانی کا ذکر کیا گیا ہے، ارشاد ہوتا ہے: قریب ہے کہ بادلوں سے کوندنے والی بجلی انسان کی آنکھیں اچک لے (یَکَادُ سَنَا بَرْقِہِ یَذْھَبُ بِالْاٴَبْصَارِ) ۔ وہ بادل کہ جو درحقیقت پانی کے ذرّات سے ہی پیدا ہوتے ہیں، جب وہ برقی توانائی کے حامل ہوجاتے ہیں، تو اس کے اندر سے آگ اس طرح لپکتی ہے کہ آنکھیں خیرہ کردیتی ہے اور اس کی گرج کانوں کو گویا پھاڑ دیتی ہے اور کبھی زمین بھی ہل کر رہ جاتی ہے، پانی کے لطیف بخارات کے اجتماع میں ایسی چیز کا پیدا ہونا سچ مچ تعجب انگیز ہے ۔
تفسیر نمونہ - آیت اللہ مکارم شیرازی Commentary
Commentary on Quran 24:43-45
۳۔ زندگی مختلف صورتوں میں
اس میں شک نہیں کہ کائنات میں ظاہر ہونے والے عجیب ترین زندگی ہے، زندگی وہ معمہ ہے جو ابھی تک دانشور اور سائنسدان حل نہیں کرسکے سب کہتے ہیں کہ یہ جاندار اس کائنات کے بے جان مادے سے معرض وجود میں آتے ہیں، لیکن کسی کو معلوم نہیں آسکا کہ کسی لیبارٹی میں کسی بے جان چیز سے زندگی وجود میں آجاتی ہے، اگرچہ اس سلسلے میں ہزار ہا ماہرین اور سائنسدان سالہا سال سے غور وفکر اور تجربات کررہے ہیں، البتہ اس سلسلے میں سائنسدانوں کے سامنے ایک دھندلی سی تصویر ابھری ہے لیکن یہ تصور ابھی بہت خام ہے جو کچھ مسلّم ہے وہ یہ کہ زندگی کے اسرار اس قدر پیچیدہ ہیں کہ انسانی علوم اپنی تمام تر وسعتوں کے باوجود ابھی تک سمجھنے سے عاجز ہے ۔ عالم کے موجودہ حالات میں جاندار صرف جانداری سے ہی وجود میں آتے ہیں اور کوئی جاندار کسی کے جان سے وجود نہیں پاتا لیکن مسلّماً آغازِ حیات میں یوں نہ تھا، دوسرے لفظوں میں کرّہٴ زمین پر حیات کی پیدائش ایک تاریخ رکھتی ہے لیکن تاریخ ابھی تک ایک ایسا معمّہ ہے جو کسی پر واضح نہیں ہے، اور اس سے بھی عجیب تر زندگی کا تنوع اور اختلاف مختلف جانداروں میں زندگی کی صورت مختلف ہے، صرف مائیکروسکوپ سے نظر آنے والے ایک سیل سے پیدا ہونے والے جاندار بھی ہیں، اور کوہ پیکرویل مچھلی بھی کہ جس کی لمبائی بعض اوقات تیس گز سے زیادہ ہوتی ہے اور جو گوشت کا تیرنے والا ایک پہاڑ ہے، حشرات الارض کی لاکھوں قسمیں ہیں اور ہزاروں طرح کے پرندے ہیں اور پھر ان میں سے بھی ہر کسی کے اسرار کی اپنی دینا ہے ۔ بیالوجی کی کتب آج کے دور میں کتب خانوں کا ایک عظیم حصّہ ہیں، یہ کتابیں جانداروں کے اسرار کا صرف ایک گوشہ بیان کرتی ہیں (1)۔ ان جانداروں میں دریائی، جانور تو خصوصاً عجائبات کی ایک دنیائے ہوئے ہیں اور ان کے بارے میں آج بہت معلومات کے باوجود انسان بہت ہی کم جانتا ہے ۔ واقعاً کتنا عظیم ہے وہ الله کہ جس نے ان جانداروں کو اس وسیع تنوع کے ساتھ پیدا کیا ہے اور ہر ایک کو جس چیز کی ضرورت تھی وہ اسے عطا کی ہے اور کتنا عظیم ہے اس کا علم اور کتنی عظیم ہے، اس کی قدرت کہ اس نے ہر ایک کو اس کے حالات اور ضروریات کے مطابق رکھا ہے اور تعجب کی بات یہ ہے کہ سب کی ابتداء ایک ہی ہے اور وہ ہے پانی زمین کا کچھ مادہ۔ 1۔ ادبی لحاظ سے اس نقطے کی طرف بھی توجہ ضروری ہے کہ ”منھم“ کی ضمیر عموماً جمع کے لئے اور ذوی العقول کے لئے استعمال ہوتی ہے، تاہم اس آیت میں ذوی العقول کی طرف بھی اشارہ کررہی ہے اور اسی طرح لفظ ”من“ بھی اور اس کی وجہ یہ ہے کہ بعض اوقات یہ الفاظ غیر ذوی العقول کے لئے بھی استعمال ہوجاتے ہیں ۔
تفسیر نمونہ - آیت اللہ مکارم شیرازی Commentary
Commentary on Quran 24:43-45
۲۔ ایک سوال کا جواب
یہاں ایک سوال پیدا ہوتا ہے کہ یہاں جانوروں کی ان تین قسموں ہی میں کیوں تقسیم کیا گیا ہے: ۱۔ پیٹ کے بل رینگنے والے ۔ ۲۔ دو پاوٴں والے ۳۔ چوپائے جبکہ چلنے پھرنے والے جانور بہت سے ایسے ہیں کہ جو چار سے زیادہ ٹاگیں رکھتے ہیں ۔ اس سوال کا جواب خود آیت میں پوشیدہ ہے کیونکہ اس جملے کے بعد الله تعالیٰ فرماتا ہے: <یَخْلُقُ اللهُ مَا یَشَاءُ ”خدا جو چاہتا ہے خلق کرتا ہے“(1). علاوہ ازیں وہ اہم ترین جانور کہ جن سے زیادہ تر انسان کا واسطہ ہے وہ انہی تین گروہوں پر مشتمل ہیں ۔ بعض کا یہ بھی نظریہ ہے کہ جن جانوروں کی ٹانگیں چار سے زیادہ ہیں ان کا بھی اصل دارومدار چار ٹانگوں پر ہی ہے اور باقی ٹانگیں معاون شمار ہوتی ہیں ۔ 1۔ تفسیر قرطبی اور تفسیر فخر رازی، زیرِ بحث آیت کے ذیل میں ۔
تفسیر نمونہ - آیت اللہ مکارم شیرازی Commentary
Commentary on Quran 24:43-45
سوره نور / آیه 43 - 45
۴۳ اٴَلَمْ تَریٰ اٴَنَّ اللهَ یُزْجِی سَحَابًا ثُمَّ یُؤَلِّفُ بَیْنَہُ ثُمَّ یَجْعَلُہُ رُکَامًا فَتَرَی الْوَدْقَ یَخْرُجُ مِنْ خِلَالِہِ وَیُنَزِّلُ مِنَ السَّمَاءِ مِنْ جِبَالٍ فِیھَا مِنْ بَرَدٍ فَیُصِیبُ بِہِ مَنْ یَشَاءُ وَیَصْرِفُہُ عَنْ مَنْ یَشَاءُ یَکَادُ سَنَا بَرْقِہِ یَذْھَبُ بِالْاٴَبْصَارِ ۴۴ یُقَلِّبُ اللهُ اللَّیْلَ وَالنَّھَارَ إِنَّ فِی ذٰلِکَ لَعِبْرَةً لِاٴُوْلِی الْاٴَبْصَارِ ۴۵ وَاللهُ خَلَقَ کُلَّ دَابَّةٍ مِنْ مَاءٍ فَمِنْھُمْ مَنْ یَمْشِی عَلیٰ بَطْنِہِ وَمِنْھُمْ مَنْ یَمْشِی عَلیٰ رِجْلَیْنِ وَمِنْھُمْ مَنْ یَمْشِی عَلیٰ اٴَرْبَعٍ یَخْلُقُ اللهُ مَا یَشَاءُ إِنَّ اللهَ عَلیٰ کُلِّ شَیْءٍ قَدِیرٌ ترجمہ ۴۳۔ کیا تونے نہیں دیکھا کہ الله بادلوں کو آہستہ آہستہ چلاتا ہے، پھر انھیں باہم جوڑ دیتا ہے، پھر انھیں تہ دار بنادیتا ہے، پھر تو دیکھتا ہے کہ اس سے بارش کے قطرے ٹپکنے لگتے ہیں اور آسمانوں میں جو پہاڑ ہیں، خدا ان سے اولے نازل کرتا ہے، وہ جسے چاہتا ہے اُن کے ذریعے نقصان پہنچاتا ہے اور جسے چاہتا ہے اُن کے نقصان سے بچا لیتا ہے، قریب ہے کہ ان (بادلوں کی) بجلی کی چمک آنکھوں (کی بینائی ہی) کو لے جائے ۔ ۴۴۔ الله رات اور دن کو الٹ پھیر کرلاتا ہے اور اس میں صاحبانِ بصیرت کے لئے عبرت ہے ۔ ۴۵۔ الله نے ہر حرکت کرنے والے کو پانی سے پیدا کیا ہے، ان جانداروں میں سے بعض پیٹ کے بل چلتے ہیں، بعض دو پیروں پر چلتے ہیں اور بعض چار پیروں پر، خدا جس چیز کا ارادہ کرتا ہے اسے پیدا کرتا ہے، کیونکہ الله ہر چیز پر قادر ہے ۔
تفسیر نمونہ - آیت اللہ مکارم شیرازی Commentary
Commentary on Quran 24:43-45
1. آیت میں ”ماء“سے کیا مراد ہے؟
لفظ ”ماء“ (پانی) سے یہاں کونسے پانی کی طرف اشارہ ہے، اس سلسلے میں مفسرین کے آراء مختلف ہیں، ان آراء کو تین تفسیروں میں جمع کیا جاسکتا ہے: ۱۔ اس سے مراد نطفے کا پانی ہے، بہت سے مفسرین نے اس تفسیر کو انتخاب کیا ہے، بعض روایات میں بھی اس کی طرف اشارہ ہوا ہے ۔ اس تفسیر میں یہ مشکل درپیش ہے کہ تمام چلنے والے جاندار نطفے سے پیدا نہیں ہوتے، ایسے بھی جاندار میں کہ جو ایک خلیے سے پیدا ہوتے ہیں، ایسے بھی رینگنے والے جاندار ہیں کہ جو ”دابة“ کا مصداق ہیں اور خلیوں کی تقسیم سے وجود میں آتے ہیں، نہ کہ نطفے سے ۔ ہاں البتہ یہ کہا جائے کہ آیت نوعی پہلو رکھتی ہے، کلی نہیں، پھر بات ٹھیک ہوسکتی ہے ۔ ۲۔ اس سے مراد پہلے موجود کی پیدائش ہے، کیونکہ بعض روایات کے مطابق سب سے پہلے الله نے پانی کو پیدا کیا اور اس کے بعد انسانوں کو پانی سے پیدا کیا، جدید سائنسی مفروضے کی بناء پر زندگی کی پہلی کونپل دریاوٴں میں ظاہر اور پانیوں میں پیدا ہونے والا یہ پہلا موجود سب سے پہلے انہی پانیوں کی گرائیوں پر یا ان کے کناروں پر حکمران ہوا۔ البتہ وہ وقت کہ جس نے ان تمام پیچیدگیوں کے ساتھ پہلے مرحلے میں موجود زندہ کو وجود بخشا اور پھر بعد کے مراحل میں ہدایت کی وہ ایک مافوق طبیعات قوت تھی، یعنی ارادہٴ الٰہی۔ ۳۔ ا س سے مراد یہ ہے کہ موجودہ حالت موجودات کی بقاء کا دارومدار پانی پر ہی ہے اور ان کی ساخت کا اہم حصّہ پانی پر مشتمل ہے اور کوئی جاندار پانے کے بغیر زندہ نہیں رہ سکتا۔ یہ تفاسیر ایک دوسرے کے منافی تو نہیں لیکن پہلی اور دوسری تفسیر زیادہ صحیح معلوم ہوتی ہے(1)۔ 1۔ تکامل انواع کے بعض طرفداروں نے اپنے مفروضے کے لئے اس آیت کا سہارا لیا ہے، لیکن ہم نے جلد نمبر۱۱۔ میں سورہٴ فجر کی آیت ۲۶ کے ذیل میں اس مفروضے کے ثابت نہ ہونے کے بارے میں بات کی ہے، یہ نکتہ بھی قابل توجہ ہے کہ اصولاً آیات قرآن کو مفروضوں پر منطبق نہیں کرنا چاہیے کیونکہ آیاتِ قرآنی حقیقت ثابت رکھتی ہیں جبکہ مفروضے بدلتے رہتے ہیں ۔