وَذَا النُّونِ إِذ ذَّهَبَ مُغَاضِبًا فَظَنَّ أَن لَّن نَّقْدِرَ عَلَيْهِ فَنَادَى فِي الظُّلُمَاتِ أَن لَّا إِلَهَ إِلَّا أَنتَ سُبْحَانَكَ إِنِّي كُنتُ مِنَ الظَّالِمِينَ
And [remember] the Man of the Fish, when he left in a rage, thinking that We would not put him to hardship. Then he cried out in the darkness, ‘There is no god except You! You are immaculate! I have indeed been among the wrongdoers!’
Agha Ali Puya Commentary
Commentary on Quran 21:87
[Pooya/Ali Commentary 21:87] Dhun-nun, "the man of the fish", is the title of prophet Yunus. Refer to the commentary of Saffat: 139 to 148 for the events concerning Yunus. The cause of anger Yunus felt was the disobedience of his people who did not respond to his preaching, so Allah tested him by putting him in the belly of a huge fish. When he was engulfed with the darkness of the night, the sea and the belly of the fish, he cried to his Lord and accepted the fact that he should have not gone away in anger breaking off from his people, though they refused to believe in him and Allah. All the prophets of Allah were aware of the fact that every human being is likely to make mistakes and it is Allah alone who can save him from wrong-doing, so every one of them always prayed to Allah that he might keep himself away from mistakes. The spiritual force of the prayer- "There is no god but Thou. Glory be to Thee. Verily I have been of the wrong-doers"-has been confirmed by the Holy Prophet and the holy Imams. Verse 88 is the sure effect of the prayer.
تفسیر نمونہ - آیت اللہ مکارم شیرازی Commentary
Commentary on Quran 21:87-88
4- کردار ساز سبق
4- کردار ساز سبق : " كذلك ننجي المؤمنین" کا پرمعني جملہ اس بات کی نشاندہی کرتا ہے کہ گرفت اور نجات کے سلسلہ میں جو کچھ حضرت یونس پر گزری ، یہ کوئی ایک خصوصی فیصلہ نہیں تھا۔ بلکہ سلسلہ مراتب کو محفوظ رکھتے ہوئے سب کے لیے ایک عمومی پہلو رکھتا ہے۔ بہت سے غم انگیز حوادث اور سخت مشکلات ، خود ہمارے گناہوں کی پیدا کردہ ہوتی ہیں۔ یہ خوابیده روحوں کو بیدار کرنے کی ایک تازیانہ ہوتی ہیں یا نفس انسانی کی دھات کو صاف کرنے کے لیے ایک کٹھالی کی مانند ہوتی ہیں . ایسے موقع پر انسان ان تین نکات کی طرف توجہ کرے تو نجات ملتی ہے کہ جن کی طرف یونس نے توجہ کی تھی : 1- اس حقیقت توحید کی طرف توجہ اور ہر کوئی معبود اور کوئی سہارا اور پناہ گاہ اللہ کے سوا نہیں ہے۔ 2- خدا کو ہر نقص و ظلم سے پاک و منزہ سمجھنا اور اس کی ذات پاک کے بارے میں کسی طرح کی بدگمانی نہ کرنا۔ 3- اپنے گناہ کا اعتراف کرنا۔ اس بات کی گواہ وہ حدیث ہے کہ جو تفسیر درالمنشور میں پیغمبراسلامؐ سے نقل ہوئی ہے کہ آپ نے فرمایا : خدا کے ناموں میں سے ایک نام کو جس کے ساتھ جو بھی خدا کو پکارےاس کی دعا قبول ہوگی ، اور جس وقت اس کے ذریعے خدا سے کوئی چیز طلب کرے تو خدا سے عطا کرے گا۔ ۔------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------- ؎1 نورالثقلین ج 4 ص 336- ۔------------------------------------------------------------------------------------- وہ یونس کی دعا ہے۔ ایک شخص نے عرض کیا : یا رسول اللہؐ ! کیا وہ یونسؑ کے لیے مخصوص تھی یا مسلمان بھی اس میں شامل ہیں ؟ آپ نے فرمایا : یہ یونسؑ کے ساتھ بھی مربوط تھی اور تمام مومنین سے بھی مربوط ہے ، جب کہ وہ خدا کو پکارتے ہیں" کیا تونے قرآن میں خدا کی گفتگو نہیں سنی: "وكذلك ننجی المؤمنین" یہ اس بات کی دلیل ہے کہ جو شخص اس طرح سے دعاکرے خدا نے اس کو قبول کرنے کی ضمانت دے دی ہے۔ ؎1 یہ بات یاد دلانے کی ضرورت نہیں ہے کہ اس سے مراد صرف الفاظ کا پڑھنا ہی نہیں ہے بلکہ اس کی حقیقت کا نفس انسان میں نقش ہوجانا ہے۔ یعنی ان الفاظ سے پڑھنے کے ساتھ ساتھ اس کا تمام وجود اس کے مفہوم کے ساتھ ہم آہنگ ہوجائے۔ اس نکتے کی یاد دہانی بھی ضروری ہے کہ خدا کی سزائیں اور عذاب دوقسم کے ہوتے ہیں، ان میں سے ایک تو عذاب استیصال ہے۔ یعنی آخری عذاب کہ جو ناقابل اصلاح لوگوں کی تباہی اور نابودی کے لیے آتاہےکہ جس میں کوئی دعا فائدہ مند نہیں ہوتی کیونکہ طوفان بلا کے اتر بجانے کے بعد پھر وہی پر عمل شروع ہو جاتا هے۔ دوسری قسم کی سزائیں اور عذاب تنبیہی ہوتے ہیں کہ جو تربیتی پہلو رکھتے ہیں۔ ایسے موقعوں پر جونہی سزا کا اثر نمایاں ہونے لگتا ہے اور جن کو تنبیہہ کے طور کی سزا دی جا رہی ہے وہ بیدار اور متوجہ نہ ہوجاتا ہے، تو بلا فاصلہ عذاب اور سزاٹل جاتی ہے۔ اس سے واضح ہو جاتا ہے کی آفات و بلیات اور نا گوار حوادث کا ایسے مقصد بیدار کرنا اور تربیت دینا ہے۔ حضرت یونست کا واقعہ راہ حق کے تمام رہبروں کومختلف حدود میں اس بات کی تنبیہہ کر رہا ہے کہ وہ کبھی پیغام رسانی کی اپنی ذمہ داری کو ختم نہ سمجھیں اور اس راستے میں سعی و کوشش کو کم شمار کریں کیونکہ ان کی مسئولیت اور ذمہ داری بڑی سنگین ہے۔ ۔------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------ ؎1 تفسیر درالمنشور، المیزان کی نقل کے مطابق زیر بحث آیت کے ذیل میں المیزان میں زیر بحث آیت کے ذیل میں یہ روایت تفسیر درالمنشور کے حوالے سے لکھی گئی ہے ۔
تفسیر نمونہ - آیت اللہ مکارم شیرازی Commentary
Commentary on Quran 21:87-88
سورہ انبیاء / آیه 87 -88
(87) وَذَا النُّوْنِ اِذْ ذَّهَبَ مُغَاضِبًا فَظَنَّ اَنْ لَّنْ نَّقْدِرَ عَلَيْهِ فَنَادٰى فِى الظُّلُـمَاتِ اَنْ لَّآ اِلٰـهَ اِلَّآ اَنْتَ سُبْحَانَكَۖ اِنِّـىْ كُنْتُ مِنَ الظَّالِمِيْنَ (88) فَاسْتَجَبْنَا لَـهٝ وَنَجَّيْنَاهُ مِنَ الْغَمِّ ۚ وَكَذٰلِكَ نُنْجِى الْمُؤْمِنِيْنَ ترجمہ (87) اور ذوالنون (یونس کو بھی یاد کرو) کہ جب وہ غصے میں آکر (اپنی قوم کے درمیان سے) چلاگیا اور اس کا خیال تھا کہ ہم اس پر کوئی گرفت نہیں کریں گے۔ (لیکن جب وہ مگرمچھ کے منہ میں چلاگیا) تو وہ اس گھٹا ٹوپ اندھیرے میں پکارا : خداوندا ! تیرے سوا کوئی معبود نہیں ہے تو پاک و منزہ ہے، میں ہی قصوروار تھا۔ (88) ہم نے اس کی دعا کو قبول کرلیا اور اسے رنج سے نجات بخشی اور ہم مومنین کو اسی طرح سے نجات عطا کرتے ہیں۔
تفسیر نمونہ - آیت اللہ مکارم شیرازی Commentary
Commentary on Quran 21:87-88
1- یونسؑ کی سرگزشت
چند اہم نکات 1- یونسؑ کی سرگزشت : انشااللہ تفصیل کے ساتھ حضرت یونسؑ کی سرگزشت سورة صافات میں آۓ گی لیکن اس کا خلاصہ یہ ہے۔ وہ سالہا سال تک اپنی قوم کے درمیان (عراق کی سرزمین نینوا میں) دعوت و تبلیغ میں مشغول رہے۔ لیکن انہوں نے جتنی کوشش کی ، ان کے ارشادات اور ہدایت کا ان کے دلوں پر کوئی اثر نہ ہوا ۔ تو آپ نے ان سے خفا ہو کر اس جگہ کو چھوڑ دیا اور دریا کی طرف چلے گئے . وہاں کشتی پر سوار ہوگئے۔ راستے میں دریا میں طوفان آگیا اور سب اہل کشتی کے غرق ہونے میں کوئی کسر باقی نہیں رہ گئی۔ کشتی کے ملاح نے کہا ، میرا خیال یہ ہے کہ تم میں سے کوئی بھاگا ہوا غلام موجود ہے کہ جسے دریا میں پھینک دینا چاہیئے ۔ (یا اس نے یہ کہا کہ کشتی زیادہ بوجھل ہے لہذا ہم ایک شخص کو قرعہ کے ذریعے دریا میں پھینک دیں بہرحال انہوں نے چند بار قرعہ ڈالا اور ہر دفعہ حضرت یونسؑ کا نام نکلا - یونسؑ سمجھ گئے کہ اس کام میں کوئی راز پوشیدہ ہے اور خود کو حوادث کے سپرد کر دیا۔ جس وقت انہیں دریا میں پایا گیا تو ایک مگرمچھ نے نگل لیا لیکن خدا نے انہیں معجزانہ طور پر زندہ رکھا۔ آخرکار وہ متوجہ ہوئے کہ ان سے ترک اولٰی ہوگیا ہے۔ لہذا بارگاہ خدا کا رخ کیا اور اپنی تقصیر اور کوتاہی کا اعتراف کیا۔ خدا نے بھی ان کی دعا کو قبول کرلیا اور اس تنگ و تاریک جگہ سے انہیں نجات دی۔ ؎1 ممکن ہے یہ خیال کیا جائے کہ یہ واقعہ سائنسی لحاظ سے ممکن نہیں ہے لیکن بلا شک وشبہ یہ ایک خلاف معمول واقعہ ہے نہ کہ ۔----------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------- ؎1 تفسیر فخررازی ، مجمع البیان اور نورالثقلین زیر بحث آیہ کے ذیل میں ۔ ۔------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------- ایک محال عقلی - جیسا کہ مردوں کا زندہ ہو جانا کہ جو نہ صرف خلاف معمول ہے لیکن محال نہیں ہے ۔ دوسرے لفظوں میں عام اور مروجہ طریقے سے اس کا انجام پانا ممکن نہیں ہے لیکن پروردگار کی بے پایاں اور لامحدود قدرت کی مدد سے کوئی مشکل نہیں رہتی۔ اس کی مزید تفصیل انشااللہ آپ سوره صافات کی تفسیر میں پڑھیں گے۔
تفسیر نمونہ - آیت اللہ مکارم شیرازی Commentary
Commentary on Quran 21:87-88
2- یہاں ظلمات کے کیا معنی ہیں
2- یہاں ظلمات کے کیا معنی ہیں ؟ ممکن ہے کہ یہ تعبیر دریا اور پانی کی گہرائیوں کی تاریکی اور اس بہت بڑی مچھلی کے پیٹ کی تاریکی اور رات کی تاریکی کی طرف اشارہ ہو اور ایک روایت کہ جو امام باقرعلیہ اسلام سے نقل ہوئی ہے، وہ بھی اس کی تائید کرتی ہے ۔
تفسیر نمونہ - آیت اللہ مکارم شیرازی Commentary
Commentary on Quran 21:87-88
3- یونسؑ نے کونسا ترک اولٰی کیا تھا
3- یونسؑ نے کونسا ترک اولٰی کیا تھا ؟ بلا شک وشبہ "مغاضبًا" کی تعبیر یونسؑ کے بے ایمان قوم سے ناراض ہونے طرف اشارہ ہے اوراس قسم کا غصہ اور ناراضی ایسے حالات میں ،کہ ایک غمگسار و دلسوز پیغمبر سالہا سال تک گمراہ قوم کو ہدایت کرنے کی مشقت اٹھاتا رہے لیکن وہ اس کی ہمدردانہ اور خیر خواہانہ دعوت کا ہرگز مثبت جواب نہ دیں ـــــ کاملا طبعی اور فطری بات ہے۔ دوسری طرف چونکہ حضرت یونسؑ جانتے تھے کہ عنقریب عذاب الٰہی انہیں آلے گا ۔ اس لیے اس شہر کو چھوڑ دینا کوئی گناہ نہیں تھا لیکن یونسؑ جیسے عظیم پیغمبر کے لیے بہتر یہ تھا کہ پھر بھی آخری لمحے تک ــــ وہ لمحہ کہ جس کے بعد عذاب الٰہى نازل ہوجائے گا ـــــــــ انہیں نہ چھوڑتے اسی بنا پر حضرت یونسؑ کا نسبتًا عاجلانہ فیصلہ ترک اولٰی شمار ہوا اور خدا کی طرف سے اس پر مواخذہ کیا گیا۔ یہ وہی چیز ہے کہ جس کی طرف ہم نے داستان آدمؑ میں بھی اشارہ کیا ہے کہ یہ مطلق گناہ نہیں ہے، بلکہ نسبتی گناہ ہے یا دوسرے لفظوں میں "حسنات الابرار سيئات المقربين" کے مصداق ہے۔ مزید وضاحت کے لیے تسيرنمونہ کی چھٹی جلد ص 114 (اردو ترجمہ) کی طرف رجوع کریں۔