أَوْ كَالَّذِي مَرَّ عَلَى قَرْيَةٍ وَهِيَ خَاوِيَةٌ عَلَى عُرُوشِهَا قَالَ أَنَّى يُحْيِي هَذِهِ اللَّهُ بَعْدَ مَوْتِهَا فَأَمَاتَهُ اللَّهُ مِائَةَ عَامٍ ثُمَّ بَعَثَهُ قَالَ كَمْ لَبِثْتَ قَالَ لَبِثْتُ يَوْمًا أَوْ بَعْضَ يَوْمٍ قَالَ بَل لَّبِثْتَ مِائَةَ عَامٍ فَانظُرْ إِلَى طَعَامِكَ وَشَرَابِكَ لَمْ يَتَسَنَّهْ وَانظُرْ إِلَى حِمَارِكَ وَلِنَجْعَلَكَ آيَةً لِّلنَّاسِ وَانظُرْ إِلَى الْعِظَامِ كَيْفَ نُنشِزُهَا ثُمَّ نَكْسُوهَا لَحْمًا فَلَمَّا تَبَيَّنَ لَهُ قَالَ أَعْلَمُ أَنَّ اللَّهَ عَلَى كُلِّ شَيْءٍ قَدِيرٌ
Or him who came upon a township as it lay fallen on its trellises. He said, ‘How will Allah revive this after its death?!’ So Allah made him die for a hundred years, then He resurrected him. He said, ‘How long did you remain?’ Said he, ‘I have remained a day or part of a day.’ He said, ‘No, you have remained a hundred years. Now look at your food and drink which have not rotted! Then look at your ass! [This was done] that We may make you a sign for mankind. And now look at its bones, how We raise them up and clothe them with flesh!’ When it became evident to him, he said, ‘I know that Allah has power over all things.’
Agha Ali Puya Commentary
Commentary on Quran 2:259
[Pooya/Ali Commentary 2:259] Wherever "giving life after death" is used in Quran, the Ahmadi commentator and his like say that it is a metaphorical reference to the revival of the stagnant nations, because the Ahmadis are averse to the fact that Allah and His chosen friends are able to cause miracles. To them the death and revivification of prophet Uzayr, referred to in this verse, was only a vision, not an actual happening. Since their self-made prophet was unable to work any miracle, the Ahmadis have decided not to accept the agency of miracles at all. To show their point of view as the only truth, the Ahmadi commentator says: "it appears that" and then quotes the events connected with Ezekiel from chapter 37 of Ezekiel and misinterprets them to serve his perverted ideas, although there is nothing in common in the event referred to in this verse and the events mentioned in the above noted chapter of the Old Testament. It is not Ezekiel but Ezra (Uzayr) who is referred to in this verse. It refers to the death and revivification of Uzayr and his donkey, whilst the events in chapter 37 of Ezekiel refer to the revival of a town. It was prophet Uzayr who, like Ibrahim in the next verse, prayed and asked Allah to show him how the dead are brought back to life again. The true account of the events that took place is given below: Nebuchadnezzar conquered and destroyed Jerusalem. The corpses of the inhabitants were left to be eaten by the wild beasts and birds of prey. When prophet Uzayr passed by the ruins of the city, he wondered if the people whose desiccated bones were lying on the ground could ever be brought to life again so as to rebuild the devastated town? So Allah caused him and his donkey to die. After seventy years, Cyrus gave permission to rebuild Jerusalem. Within thirty years Jerusalem was an active city again. When Uzayr died, it was morning. After hundred years he was brought to life again. The sun had not yet set. "How long have you tarried?" the angel, who was sent to meet Uzayr, asked him. I have tarried a day, or part of a day," he replied. No! You have tarried a hundred years," the angel informed him. He also asked him to look at his food and drink in his bag. It was as fresh as it was a hundred years ago. He looked at his donkey. There were only its bones lying beside him. As he was looking at his donkey, its scattered bones were joined together and it stood before him, alive and breathing. The purpose of this miracle was to make prophet Uzayr an instructive example to those who either do not know how the dead will be brought to life again on the day of resurrection, or who disbelieve in Allah's warning. So when it became clear to Uzayr, he said: "I know that Allah has power over all things." At home he found his son, born after his departure, one hundred years old; his young maid one hundred and twenty years old, and all his grandchildren older than him. They looked at the fifty year old Uzayr and wondered. Uzayr became a living sign of Allah's omnipotence.
تفسیر نمونہ - آیت اللہ مکارم شیرازی Commentary
Commentary on Quran 2:259
واقعے کی تفصیلات
یہ آیت ایک گذشتہ نبی کا دوسرا واقعہ بیان کرتی ہے یہ واقعہ معاد اور قیامت پر ایک زندہ گواہ ہے ۔در حقیقت گذشتہ آیا ت میں جن حضر ت ابراہیم کی نمرود سے ہونےوالی گفتگوکو بیان کیاگیا تھاتوحید اور خدا شناسی کے بارے میں تھیں اور یہ آیت معاد اور موت کے بعد زندگی کے بارے میں ہے ۔پہلے ہم اجمالی طور پر اس واقعے کو دیکھیں گے اور پھر آیت کی تفسیر کریں گے آیت ایک ایسے شخص کی سر گذشت بیا ن کرہی ہے جو اثنائے سفر میں تھا ،ایک سو اری پر سوا رتھا ۔کھانے پینے کا کچھ سامان اس کے ساتھ تھا اور ایک آبادی سے گذررہاتھا جو وحشت ناک حالت میں گری پڑی تھی اور ویران ہو چکی تھی اور اس کے باسیوں کے جسم اور بوسیدہ ہڈیا نظر آرہی تھی ۔جب اس نے یہ وحشت ناک منظر دیکھا تو کہنے لگا :خدا ان مردو ں کو کس طرح زندہ کرے گا : ہاں البتہ اس کی یہ بات شک اور انکا ر کے طور پر نہ تھی بلکہ از روئے تعجب تھی کیونکہ آیت میں موجو د ق رائن نشان دہی کر تے ہیں کہ وہ ایک بنی تھے ۔جیسا کہ ایک آیت کے مطابق خدا نے اس سے گفتگو کی ۔روایا ت بھی اس حقیقت کی تا ئید کرتی ہیں جس کی طرف ہم بعد میں اشارہ کریں گے خداتعالی نے اسی وقت اس کی روح قبض کرلی اور پھر ایک سو سال کے بعد اسے زندہ کیا۔اب اس سے سوال کیا کہ اس بیابان میں کتنی د یر ٹھہر ے رہے ہو۔۔وہ تو یہ خیا ل کرتا تھا کہ یہاں تھوڑی ہی دیر توقف کیاہے ۔۔فورا جواب دیا ایک دن یا اس سے بھی کم۔اسے خطاب ہو ا ۔تتم ایک سوسال یہاں رہے ہو لیکن اپنے کھانے پینے کی چیزوں کی طرف دیکھو کیسے طویل مدت میں حکم خدا کیوجہ سے ان میں تغیر نہیں آیا ۔اب اس د لیل کے لئے کہ تم جان لو تمہیں سوسا ل موت کے عالم میں گزرگئے ذرا اپنی سواری کی طرف نگاہ کرواور دیکھو کہ کھانے پینے کی چیزو ں کے بر عکس وہ ریزہ ریزہ ہو کر بکھر چکی ہیں اور طبیعت کے عام قوانین اسے اپنی لپیٹ میں لے چکے ہیں اور موت نے اس کے جسم کو منتشر کردیا ہے ۔اب دیکھو کہ ہم اس کے پراگند ہ اجزء کوکیسے جمع کرکے اسے زندہ کرتے ہیں ۔اس نے یہ منظردیکھا تو کہنے لگا میں جانتا ہو کہ خدا ہر چیز پر قدرت رکھنے والا ہے یعنی میں مطمئن ہو چکا ہو اور مردو ں کے دوبا رہ اٹھنے کا معاملہ متشکل ہو کے میرے سامنے آگیا ہے اس بارے میں کی وہ پیغمبر کو ن تھے ،مختلف احتمالات دیئے گئے ہیں ۔بعض نے ”ارمیا “کہا ہے اور بعض ”خضر “سمجھتے ہیںلیکن مشہور یہ ہے کہ وہ ” عزیر “تھے ۔امام صادق علیہ السلام سے منقول ایک حدیث میں بھی حضرت عزیر کے نام کی تائید ہو تی ہے ۔ یہ بھی سوال اٹھتا ہے کہ یہ آبادی کہا ں تھی ۔بعض اسے بیت المقدس سمجھتے ہیں جو بخت النصر کے حملوں کی وجہ سے ویران اور برباد ہوچکا تھا لیکن یہ احتمال بعید نظر آتا ہے۔ اب آیت کی تفسیر کی طرف لوٹتے ہیں ۔”او کا لذی مر علی قریة وھی خاویة علی فروشھا “ جیسا کہ ہم کہ چکے ہیں یہ آیت گذشتہ آیت کی تکمیل کررہی ہے ۔گذشتہ ا ٓیت میں توحید کے بارے میںبحث تھی۔یہ اور اس سے گلی آیت معاد ااور قیامت کے حسی نمونے پیش کررہی ہے ۔ابتدا یوں ہوتی ہے :کیا تونے اس شخص کو نہیں دیکھاجوایک ایسی جگہ سے گذررہاتھا جو بالکل ویران ہوچکی تھی ۔ ”عروش“جمع ہے ”عرش “کی ۔یہا ں ”چھت “کے معنی میں ہے ”خاویة “در اصل ” خالی“کے معنی میں ہے اور یہاں ویران ہونے کے مفہوم کے لئے کنائے کے طور پر آیا ہے کیونکہ گھر عموما سکونتی ہوتے ہیں اور جو گھرخالی ہو تے ہیں ،پہلے سے ویران ہوتے ہیں یا خالی رہنے کی وجہ سے ویران ہو جاتے ہیں ۔اس لئے ”وھی خاویةعلی عروشھا “کا مطلب ہے کہ اس آبادی کے سب گھر ویران ہو چکے ہیں لیکن اس شکل میں کہ پہلے ان کی چھتیں گری تھیں اور اسکے بعد ان کی مدیواقریں زمین بوس ہو گئی تھیں ۔ایسی ویرانی ایک مکمل ویرانی ہو تی ہے کیونکہ کسی عمارت کی تباہی کے وقت عموما پہلے چھت تباہ ہوتی ہے اور ایک مدت تک دیواریں کھڑی رہتی ہیںاور پھر وہ بھی تباہ شدہ چھتوں پر آجاتی ہیں ۔”قال انی یحی ھٰذہ اللہ بعد موتھا “: ظاہرا اس ماجرے میں پیغمبر کے ساتھ اور کوئی نہیں تھا لہذا انہوں نے اپنے آپ سے کہا :خدا ا س بستی کو موت کے بعد کیسے زندہ کرےگا ”قریہ “سے مرا د یہاں بستی والے ہیں ۔ یہ جملہ نشان دہی کرتا ہے کہ وہ ا س حادثہ میں اہل بستی کی بکھری پڑی ہڈیوں کو اپنی آنکھو ں سے دیکھ کر ان کی طرف اشارہ کرکے یہ کہ رہے تھے ۔ ”فاما تہ اللہ عام ثم بعثہ “: اکثرمفسر ین اس جملے سے یہ سجھتے ہیں کہ خدا نے پیغمبر مذکور کو ایک سو سال کے لئے مار دیا تھا ۔پھر انہیں زندہ کیا۔”اماتہ“کالفظ بھی جو ”موت ‘ ‘ کے مادہ سے ہے اسی مفہوم کی طرف اشارہ کرتا ہے لیکن تفسیرالمنار کا موٴلف کہتا ہے :ممکن ہے یہ ایک قسم کی نیند کی طرف اشارہ ہو ، جسے آج کے علما ء ”سبات “کہتے ہیں ،جس کے مطابق موجود زندہ ایک طویل مدت تک گہری نیند میں مستغرق رہتا ہے لیکن اس میں شعلہ حیا ت خاموش نہیں ہو تاجیسا کہ ہم نے اصحاب کہف کے بارے میں پڑھ رکھا ہے،،پھر وہ مزید لکھتا ہے”اس طویل نیند کے بارے اب تک جو اتفاق ہو ا ہے وہ چند سال سے زیادہ نہیں لہذا اس کا سو سال تک طویل ہو جانا خلا ف معمول ہے لیکن یہ مسلم ہے کہ جب چند سال کے لئے ایسا ممکن ہے تو سو سال کے لئے بھی ممکن ہو سکتا ہے خارق عادت امور قبول کر نے کے لئے جو چیز ضروری ہے وہ یہ ہے کام ممکن ہو محال عقلی نہ ہو ۔ اس کے لئے ظاہرا آیت میں کوئی دلیل موجود نہیں بلکہ آیت کاظہور یہ ہے کہ پیغمبر مذکو ر دنیا سے چل بسے اور سو سال کے بعد پھر سے زند ہو ئے ۔ایسی موت البتہ ایک خارق عادت اور غیر معمولی چیز ہے لیکن محال ہر گز نہیں اور پھرخارق عادت واقعات صرف اسی موقع کے لئے منحصر نہیں کہ ہمیںاسکی توجیہ وتاویل کرناپڑے ، بہت سے حیوانا ت ایسے ہیں جو سردوں کے موسم میں سوئے پڑے رہتے ہیں اور جب ہوا گرم ہوتی ہے تو بیدار ہو جا تے ہیں ۔بعض طبیعی طور پرمنجمد ہو جا تے ہیں اور انسا ن بھی جانوروں کو مصنوعی طریقے سے منجمد کر سکتاہے۔ اگر یہا ں چند سال رک کی طویل نیند کے امکا ن کے حوالے سے سوسال تک مر دہ رہنے کے بعدزندہ ہو نے کو بھی ایک ا مر ممکن شمار کیاجائے تو یہ ایک اچھی بات ہوگی ۔اس کا معنی یہ ہوگا کہ وہ خدا جو جانورں کو سالہا سال تک طویل نیند یاحالت ِانجماد میں رکھ کر پھر انہیں بیدار کر دیتاہے اور وہ پہلی حالت پر لوٹ آتے ہیں وہ اس پر بھی قادر ہے کہ مردوں کو موت کے بعد دوبا رہ زندہ کرے ۔ اصولی طور پر معاد ،قیا مت کے دن مردوں کی دوبا رہ زندگی ،خارق عا دت واقعات اور ا نبیا ء کے معجزات تسلیم کر لینے کا فائدہ یہ ہے کہ تمام آیات قر آن کی طبیعی قوانین کی روشنی میں تفسیرکر نے پر اصرار کی کو ئی و جہ باقی نہیں رہتی اور نہ ظاہری مفہو م کے خلاف بیان کرنا پڑتا ہے کیونکہ ایسا کر نہ تو ضروری ہے اور نہ ہی صحیح ہے۔”قال کم لبثت قال لبثت یوما او بعض یوم “اس جملہ میں خداتعالی پیغمبر سے پوچھتاہے :اس جگہ کتنی دیر ٹھہرے رہے ہو۔وہ جواب میں ترددسے کہتے ہیں :ایک دن یا دن کا کچھ حصہ۔جواب میں تردد سے معلو م ہو تاہے کہ ان کے مرنے کا وقت اور زندہ ہو نے کا وقت دن کی کوئی ایک معین گھڑی نہ تھی ۔مثلا َ موت کاوقت ظہر سے پہلے تھا اور زندہ ہو نے کا وقت زوال کے بعدتھا ۔لہذا وہ شک میں پڑ گئے کہ کیا ایک شب وروز گزرگئے ہیں یا دن کے چند گھنٹے گزرے ہیں۔اسی لئے ایک دن کہنے کے بعد پھر تردد کے عالم میں کہا :یا دن کا کچھ حصہ ۔لیکن فورا خطاب ہو کہ انہیں بلکہ تم تو یہا ں ایک سو سال سے ٹھہر ے ہو ئے ہو ۔”بل لبثت مائة عام ِ“”فانظرالی طعامک وشرابک لم یتسنہ “: ”یتسنہ “کا مادہ ہے ”سنة“بمعنی ایک سال ”لم یتسنہ “کا معنی ہے ” اسے ایک سال نہیں گزرا“ ۔یہ اس بات کے لئے کنایہ ہے کہ یہ متغیر اور خراب نہیں ہو ا۔اس طرح جملے کا مجموعی معنی یہ ہوگا کہ اپنے کھانے پینے کی چیزوں کو دیکھو کہ سالہا سال گزرجانے کے بعد یوں لگتا ہے گویا ان پر ایک سال کا عرصہ بھی نہیں گزرا اور ان میں کوئی تغیر بھی نہیں آیا ۔یعنی وہ خداجو تیری کھانے پینے کی چیز وں کوان کی اصل حالت میں محفوظ رکھ سکتا ہے جب کہ قاعدة انہیں بہت جلد فاسد اور خراب ہو جانا چاہیئے اسی خدا کے لئے مردو ں کو زندہ کر نا کیا مشکل ہے ۔کھانے پینے کی چیزوں کو اتنی مدت تک خراب ہو نے سے بچا نا در اصل حیا ت کو باقی رکھنا ہے کیونکہ ایسی چیزوں کی مدت عمر تو بالعموم بہت کم ہو جا تی ہے جو کہ بذات خود مردوں کو زندہ کرنے سے آسان تر نہیں ہے (۱) رہا یہ سوال کہ پیغمبر کے پا س کھانے پینے کی چیزیں کیا تھیںتو آیت میں اس کا کوئی ذکر نہیں ۔بعض کہتے ہیں کہ کھانے کے لئے انجیر اور پینے کے لئے کسی پھل کا جو س تھااور یہ معلوم ہے کہ یہ چیزیں جلدی خراب ہو جا تی ہیں اس لیے ایک طویل مدت تک ان کی بقا ایک اہم امر ہے ۔ ”وانظر الی حمارک “: یعنی۔۔۔۔اپنے گدھے کو دیکھو ۔قرآن نے ان کی سواری کے متعلق اس سے زیادہ نہیں کہا لیکن بعد کے جملوں سے معلوم ہو تاہے کہ ان کی سوا ری وقت گزرنے کے ساتھ گل سڑ چکی تھی کیونکہ اس کے علاوہ سوسال گزرنے پر کوئی دلیل نہ تھی ۔یہ خود ایک عجیب وغریب چیز ہے کہ جانور جس کے لئے طویل عمر کا امکان ہے اس کے اجزاء اس طرح بکھر جا ئیں لیکن پھل اور پھلوں کاجوس جسے بہت جلد خراب ہو نا چا ہیئے اس میں کو ئی تبدیلی نہ آئے یہا ں تک کے اس کا ذائقہ اور بو نہ بدلے ۔یہ خدا تعالی کی انتہائی قدرت نمائی ہے ۔ ”ولنجعلک اٰیةللناس“یعنی یہ واقعہ نہ صرف تمہا رے لئے قیامت میں اٹھا ئے جانے کی دلیل ہے بلکہ تمام لوگوں کے لئے نشانی ہے ”وانظر الی العظام کیف ننشزھا ثم نکسوھا لحماََ:”ننشزھا “کا مادہ ہے ” نشوز“اس کا معنی ہے ”ارتفاع “اور ”بلند ہونا“یہا ںمراد ہے بکھری ہو ئی چیزعں کا جمع ہو کر باہم پیوست ہو نا ۔اس بناء پر اس جملے کا معنی یوں ہوگا :بکھری ہو ئی ہڈیوں کو دیکھو کہ ہم انہیں کیسے اٹھا کر ایک دوسر ے سے پیوست کرتے ہیںاور ان پر گوشت(لباس )پہناتے ہیں اوراسے زیادہ کرتے ہیں ۔ظاہر ہے کہ بوسیدہ ہڈیو ں سے مرا د ان کی سواریوں کے جانوروںکی ہڈیاں ہیںنہ کہ اہل بستی کی بوسیدہ ہڈیاں کیونکہ یہ امر گذشتہ جملوں سے مناسبت نہیں رکھتا ۔ ”فلما تبیں لہ قال اعلم ان اللہ علی کل شیء قدیر“ یہ مسائل جب پیغمبر پر آشکا ر ہو گئے تووہ کہنے لگے۔:میں جانتاہوں کہ خدا ہر چیز پر قدرت رکھنے والا ہے ۔یہ با ت قابل توجہ ہے کہ وہ یہ نہیں کہتے کہ میں نے اب جا ن لیا ہے۔جب کہ زلیخا کی حضرت یو سف سے گفتگومیں اس طرح ہے ”الان حصحص الحق“ یعنی اب حق واضح ہو اہے ۔بلکہ پیغمبر کہتے ہیں:میں جانتا ہوں ۔یعنی اپنی آگاہی کا اعتراف کرتا ہوں۔ ۲۶۰۔واذ قال ابراہیم رب ارنی کیف تحی الموتی ط قال اولم توٴمن قال بلی ولٰکن لیطمئن قلبی ط قال فخذ اربعةمن الطیر فصر ھن الیک ثم اجعل علی کل جبل منھن جزءََ اثم ادعھن یا تینک سعیا واعلم ان اللہ علی عزیز حکیم ترجمہ ۲۶۰۔اور اس وقت (کو یاد کرو)جب ابراہیم نے کہا :خدایا ! مجھے دکھاکہ تو کیسے مردو ں کو زندہ کر تا ہے۔فرمایا :کیا تم ایمان نہیں لائے ۔کہنے لگے :کیوں نہیں میں چاہتا ہوں میرے دل کو اطمینا ن ہوجائے ۔فرمایا:یہ بات ہے تو چار پرند ے انتخاب کرلو(ذبح کرنے کے بعد ) انہیں ٹکڑ ے ٹکڑے کرلو()پھر ان کے گوشت کو آپس میں ملادو )پھر پہاڑ پر ہر ایک حصہ رکھ دو ،پھر انہیں پکارو ،وہ تیزی سے تمہارے پاس آئیں گے اور جا ن لو کہ خدا غالب اور حکیم ہے (وہ مردو ں کے اجزائے بدن کو بھی جا نتاہے اور انہیں جمع کر نے کی طاقت بھی رکھتا ہے )، تفسیر (۱) توجہ رہے کہ لم یتسنہ کی ضمیر مفرد ہے جب کہ اس کا تعلق ”طعام “سے بھی ہے اور ”شراب “سے بھی اس لئے ضمیر بظاہر تثنیہ کی ہو نی چاہیئے تھی لیکن چونکہ یہا ں مراد جنس ہے اور سب ایک چیزمیں شمار ہوتی ہے لہٰذا ضمیر بھی مفرد کی شکل میں ہے
تفسیر نمونہ - آیت اللہ مکارم شیرازی Commentary
Commentary on Quran 2:259
بہت سے مفسرین اور موٴرخین نے اس آیت کے ذیل میں یہ واقعہ لکھا ہے
ایک دن حضرت ابراہیم دریا کے کنارے سے گزر رہے تھے ۔ آپ نے ایک مردار دریا کے کنارے پڑا ہو ا دیکھا ۔اس کا کچھ حصہ دریا کے اند ر اورتکچھ حصہ دریا کے باہرتھا۔دریا اور خشکی کے جا نور دونو ں طرف سے اسے کھارہے تھے بلکہ کھاتے کھاتے ایک دوسر ے سے لڑنے لگتے تھے ۔اس منظر نے حضرت ابراہیم کو ایک ایسے مسئلے کی فکر میں ڈال دیا جس کی کیفیت سب تفصیل سے جا ننا چاہتے ہیں اور وہ ہے موت کے بعد مردوں کے زندہ ہو کی کیفیت ۔ابراہیم سوچنے لگے کہ ا گرایسا ہی انسانی جسم کے ساتھ ہو اور انسا ن کا بدن جانوروں کے بدن کا جزبن جائے تو قیامت میں اٹھنے کا معاملہ کیسے عمل میں آئے گا جب کہ وہا ں انسا ن کواسی بدن کے ساتھ اٹھنا ہے ۔ حضرت ابراہیم نے کہا : خدایا !مجھے دکھا کہ تو مردو ں کو کیسے زندہ کرے گا ۔اللہ تعالی نے فرما یا :کیاتم اس بات پرایمان نہیں رکھتے ۔انہوں نے کہا:ایمان تو رکھتا ہوں لیکن چاہتاہوںایمان کو تسلی ہوجائے ۔ خداتعالی نے حکم دیا: چارپرندے لے لواور ان کا گوشت ایک دوسرے سے ملا دو ۔پھر اس سارے گوشت کے کئی حصے کردو اور ہر حصہ ایک پہاڑپر رکھ دو ۔اس کے بعد ان پرندوں کو پکارو تاکہ میدان حشر کا منظر دیکھ سکو،انہوں نے ایسا ہی کیا توانتہائی حیرت کے ساتھ دیکھا پرندوں کے اجزاء مختلف مقامات سے جمع ہو کر ان کے پاس آگئے ہیں اور ان کی ایک نئی زندگی کا آغاز ہو گیاہے ۔ اس مشہور واقعہ کے مقابلے میں ایک مفسر ابو مسلم نے ایک نظر یہ پیش کیاہے جسے مشہور مفسر فخررازی نے اپنی کتاب میں بیان کیا ہے ۔ابو مسلم کا نظریہ باقی مفسرین کے بر خلا ف ہے لیکن چونکہ ایک معاصر مفسر موٴلف المنا ر نے اس کی تائید کی ہے ،لہذاہم اسے نقل کرتے ہیں ۔ موصوف نے کہا ہے کہ آیت اس بات پر ہر گز دلالت نہیں کرتی کہ حضرت ابراہیم نے پرندوں کو ذبح کیا اور پھر حکم خدا سے انہیںزندہ کیا ۔بلکہ آیت میں تو مسئلہ حشرونشر واضح کرنے کے لئے ایک مثال پیش کی گئی ہے ۔یعنی اے ابراہیم !چارپرندے لے لو اور انہیں اپنے ساتھ ایسے مانوس کر لو کہ جب انہیں پکارو تو تمہارے پاس آجائیں اگرچہ ان میںسے ہر ایک کو پہاڑکی چوٹی پر بٹھا دو تو یہ کا م تمہا رے لئے کتنا آسان ہے ۔اسی طرح مردوں کو زندہ کرنا اور مختلف مقامات عالم سے ان کے پراگند ہ اجزاء جمع کرنا بھی خدا کے لئے آسان ہے ۔ اس لئے خدا نے ابراہیم کو جو پرندوںکے بارے میں حکم دیا تھاوہ یہ نہ تھاکہ وہ ایسا کو ئی کا م کریں صرف ایک مثال اور تشبیہ کے ذریعہ بیان کیاگیا تھا۔یہ بعینہ ایساہے جیسے کوئی دوسرے سے کہے کہ میں فلا ںکام نہایت آسانی اور تیزی کر سکتا ہوں ۔بس تم پانی کا ایک گھونٹ پیو اور میں یہ کام کئے دیتا ہوں ۔یعنی میرے لئے اس قدر آسان ہے اس کا مطلب یہ نہیں کہ دوسر ے پر پانی کا پینا فرض ہو گیا ہے ۔ دوسرے نظریے کے حامی ”صرھن الیک“سے استدلال کرتے ہیں ۔وہ کہتے ہیں کہ جب لفظ ”الی “سے متعدی ہو تو اس کا معنی ہو تاہے ”مائل “کرنا اور ”مانوس بنانا “اس لئے جملے کا مفہوم ہوگا کہ مذکورہ پرندوں کو اپنے ساتھ مانوس کرو۔علاوہ ازینں ”صرھن “ ”منھن “ اور ”ادعھن“ کی ضمیریں پرندو ں کی طرف لوٹتی ہیں اور یہ اسی صورت میں صحیح ہے کہ ہم دوسری تفسیرکو درست مان لیں کیونکہ پہلی تفسیر کے مطابق بعض ضمیریں پرندوں سے متعلق ہیں اور بعض ان کے اجزاء سے متعلق جب کہ یہ مناسب دکھائی نہیں دیتا۔ ا ن ا ستد لال کا جواب ہم آیت کی تفسیر میں بیان کریں گے لیکن جس بات کی طرف یہا ں اشارہ کر نا ضروری ہے وہ یہ کہ آیت یہ حقیقت وضاحت سے پیش کرتی ہے کہ حضرت ابراہیم نے حشر ونشر کے محسوس مشاہدے کا تقاضا کیا تھا تاکہ ان کا دل مطمئن ہو جا ئے اور واضح ہے کہ ایک مثا ل حشر ونشر کی پیش کی منظر کشی نہیں کرسکتی اور نہ ہی دل کے لئے باعث اطمینا ن ہو سکتی ہے۔در حقیقت عقل ومنطق کے ذریعے تو حضرت ابراہیم پہلے ہی حشرو نشر پر ایمان رکھتے تھے لیکن وہ چاہتے تھے کہ وہ اس کا حسی طور پر مشاہدہ کریں ۔ اب ہم آیت کی تفسیر کی لوٹتے ہیں تاکہ واضح ہو جا ئے کہ کونسا نظر یہ تفسیر سے میل کھاتا ہے ۔ ”وازقال ابراہیم رب ارنی کیف تحی الموتی “: جیسا کہ پہلے بھی اشارہ ہوچکا ہے کہ حشر ونشر کے بارے میں یہ آیت گذشتہ آیت کے موضوع کی تکمیل کرتی ہے ”ارنی کیف۔۔۔۔۔۔ “ سے معلوم ہو تا ہے کہ حضرت ابراہیم مشاہدہ ،رویت اور شہود کا تقاضا کر رہے تھے اور وہ بھی اصل معاد کا نہیں بلکہ اس کی کیفیت کا ۔ ”قال اولم توٴمن قال بلی ولٰکن لیطمئن قلبی “: ممکن تھا کہ مذکورہ مطالبے پر لوگ حضرت ابراہیم کے ایمان کے بارے میں تزلزل کا گمان کرتے لہٰذا انہیں وحی ہو ئی :تو کیا تم ایمان نہیں لائے ہو ؟یہ اس لئے تھاتاکہ وضاحت ہو جائے اور اس واقعے سے کسی کو غلط فہمی نہ ہولہٰذا انہو ں نے کہا :جی ہاں ،میرا ایمان تو ہے لیکن چاہتاہوں دل مطمئن ہو جا ئے۔ ضمنا اس جملے سے معلو م ہو تاہے کہ اس با ت کا امکا ن ہو تا ہے کہ مسئلے میں علمی اور منطقی دلائل سے یقین پیدا ہو جائے لیکن اطمینان قلب نہ ہو کیونکہ استد لا ل عقل انسانی کو تو راضی کرلیتاہے لیکن دل اور جزبا ت انسانی کو نہیں۔جو دونو ں کو سیراب کرتاہے وہ شہود عینی اورمشاہدات حسی ہی ہیں ۔یہ ایک اہم بات ہے جس کے بارے میں اس کے مقام پر مزید وضاحت کریں گے ۔ ”قال فخذاربعةمن الطیر فصرھن الیک ثم اجعل علی کل جبل منھن جزء ا“ ” صرھن“کامادہ ہے” صور“ (بروزن ”قول“اس ک امعنی ہے ”ٹکڑے کرنا“”مائل کرنا“اور ”بلند آواز سے پکارنا “یہا ں پہلا معنی ہی مناسب ہے۔یعنی چار پر ندے انتخاب کرلو ،انہیں ذبح کرواور انہی ٹکڑے ٹکڑے کر کے ایک دوسرے سے ملا دو۔ مقصد یہ تھا کہ حضرت ابراہیم حشرونشر اور مردوں کے اجزاء بدن کے بکھر جانے کے بعد زندہ ہو نے کے نمونے کا مشاہدہ کر لیں اور یہ بات پکا رنے اور مایل کرنے کے معانی سے حاصل نہیںہوتی خصوصا جب کہ آیت کا بعد کاحصہ کہتاہے : پھر ” ہر پہاڑ پر ان میں سے ایک حصہ ر کھ د و “آیت کایہ حصہ واضح گواہی دے رہا ہے کہ پہلے پرندوں کو ٹکڑے ٹکڑے کیاگیاہے ا وران کے اجزاء بنے ہیں ۔جولوگ ”صرھن“کاترجمہ” مانوس اور مائل کرنا “کرتے ہیںوہ دراصل ”جزء کے معنی سے غافل ہیں -