وَإِذَا بَدَّلْنَا آيَةً مَّكَانَ آيَةٍ وَاللَّهُ أَعْلَمُ بِمَا يُنَزِّلُ قَالُوا إِنَّمَا أَنتَ مُفْتَرٍ بَلْ أَكْثَرُهُمْ لَا يَعْلَمُونَ
When We change a sign for another in its stead—and Allah knows best what He sends down—they say, ‘You are indeed a fabricator.’ Indeed, most of them do not know.
Agha Ali Puya Commentary
Commentary on Quran 16:101
[Pooya/Ali Commentary 16:101] Aqa Mahdi Puya says: Refer to the commentary of al Baqarah: 106; and Yunus: IS and 16, which deal with the true position of abrogation and changes in the Quran. The doctrine of progressive revelation from age to age and time to time does not mean that Allah's fundamental law changes. It was sheer ignorance of the infidels to charge the messenger of Allah with forgery because the message as revealed to him was in different form from that which was revealed before, when the core of the truth is the same, for it came from Allah. This verse refers to the changes the Quran introduced in the teachings of the previous scriptures because of which the infidels thought that it was a forgery, and asserts that the same holy spirit (Jibra-il) has brought the revelation to the Holy Prophet. The idea of abrogation in the recitation of the Quran is a misconceived theory which has been dealt with by me in my essay "The genuineness of the Holy Quran."
Ali Muhammad Fazil Chinoy Commentary
Commentary on Quran 16:101-110
Ammar’s parents, Yasir and Samy, having refused to apostate, were killed by the infidel Quraish and these are the first martyrs in Islam. Ammar was by heart a faithful and to save his own life, he apparently assumed what he was constraining to and the Prophet permitted him on the above bases. Under such circumstances, man can so behave without affecting faith.
تفسیر نمونہ - آیت اللہ مکارم شیرازی Commentary
Commentary on Quran 16:101-105
رسوا کُن جُھوٹ
تفسیر: رسوا کُن جُھوٹ: گذشتہ آیات میں قرآن اور اس سے استفادہ کرنے کے طریقے کے بارے میں بات تھی۔ زیر بحث آیات بھی قرآن سے مربوط کچھ مسائل بیان کر رہی ہیں۔ خصوصاً ان میں مشرکین کی طرف سے آیاتِ الٰہی پر کیے جانے والے اعتراضات کا ذکر ہے۔ ارشاد ہوتا ہے: جب ہم ایک آیت کی جگہ دوسری آیت لے آتے ہیں یہ تغیر و تبدل حکمت و مصلحت کے تحت ہوتا ہے اور خدا بہتر جانتا ہے کہ اس کی حکمت کیا ہے اور کس طرح سے نازل کرنا چاہیے تو وہ کہتے ہیں کہ تو خدا پر جھوٹ باندھتا ہے لیکن ان میں سے اکثر حقیقت ِ امر کو نہیں جانتے (وَاِذَا بَدَّلْنَـآ اٰيَةً مَّكَانَ اٰيَةٍ ۙ وَّاللّـٰهُ اَعْلَمُ بِمَا يُنَزِّلُ قَالُـوٓا اِنَّمَآ اَنْتَ مُفْتَـرٍ ۚ بَلْ اَكْثَرُهُـمْ لَا يَعْلَمُوْنَ) حقیقت یہ ہے کہ اس بات کا ادراک ہی نہیں کہ قرآن کی ذمہ داری کیا ہے اور کیا پیغام رسانی اس کے ذمہ ہے وہ نہیں جانتے کہ قرآن ایک معاشرے کی تعمیر کے درپے ہے وہ ایک ایسا معاشرہ تعمیر کرنا چاہتا ہے جو ترقی یافتہ ہو آباد ہو، آزاد ہو اور بلند روحانی مقام رکھتا ہو۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ جی ہاں؛ ’’اَكْثَرُهُـمْ لَا يَعْلَمُوْنَ‘‘ (ان میں سے اکثر نہیں جانتے)۔ واضح ہے کہ ان مقاصد کے لیے یہ خدائی نسخہ جو ان بیماروں کی جان بچانے کے لیے لکھا گیا ہے اس میں بعض اوقات تبدیلی کی ضرورت ہوتی ہے ہو سکتا ہے آج ایک نسخہ لکھا جائے کل اس کی کچھ اور تکمیل کی جائے اور آخر میں اصل نسخہ صادر ہو۔ جی ہاں؛ وہ ان حقائق سے بے خبر ہیں انھیں نزولِ قرآن کی شرائط و کوائف کی خبر نہیں ورنہ وہ جانتے کہ کچھ احکام و آیاتِ قرآن کی تبدیلی ایک دقیق اور سوچے سمجھے تربیتی پروگرام کا حصہ ہے۔ اس کے بغیر اصلی مقصد حاصل نہیں ہو سکتا۔ ایسا کرنا کمال و ارتقاء کے حصول کے لیے ضروری ہے۔ اپنی اسی نا سمجھی کی بناء پر ان کا خیال تھا کہ یہ تبدیلی پیغمبر اکرم ﷺ کی تناقص گوئی اور اللہ پر افتراء باندھنے کی دلیل ہے۔ حلانکہ ایک ایسا معاشرہ جو بہت ہی پست ہو اور اسے بلند مراحل کی طرف لے جاتا ہو اس کے لیے نسخ کی حکمتِ عملی ناگزیر ہے کیونکہ اکثر ایسا ہوتا ہے کہ ایک ہی مرحلے میں تمام تر تبدیلی نہیں ہوتی۔ اور اسے مرحلہ بہ مرحلہ حاصل کرنا ہوتا ہے۔ کیا کسی دیرینہ بیماری کا علاج ایک ہی دن میں ہو سکتا ہے۔ ایک شخص کہ جو سالہا سال سے منشیات کا عادی ہو، کیا اس کا ایک ہی دن میں علاج ممکن ہے؟ کیا اس کے لیے مرحلہ دار طریقِ کار اختیار نہیں کرنا پڑےگا؟ کیا مرحلہ وار پروگرام میں جو تبدیلی رونما ہوتی ہے نسخ و منسوخ اس کے علاوہ کوئی اور چیز ہے؟ (نسخ کے بارے میں ہم تفسیر نمونہ جلد اول میں سورہٓ بقرہ کی آیہ ۳۶ کےذیل میں بحث کر چکے ہیں)۔ اگلی آیت میں اسی مسئلے پر گفتگو جاری رکھتے ہوئے پیغمبر اکرم ﷺ کو حکم دیا گیا ہے: کہہ دے! اسے روح القدس نے تیرے رب کی طرف سے حق کے ساتھ نازل کیا ہے (قُلْ نَزَّلَـهٝ رُوْحُ الْقُدُسِ مِنْ رَّبِّكَ بِالْحَقِّ)۔ ’’روح القدس‘‘ یا ’’روح ِ مقدس‘‘ وحی الٰہی کا قاصد جبریلِ امین ہے۔ وہی ہے کہ جو حکمِ خدا سے آیاتِ الٰہی ناسخ ہوں یا منسوخ رسول ﷺ پر لے کر آتا ہے۔ وہ آیات جو سب کی سب حق ہیں اور سب ایک حقیقت کا سلسلہ ہیں۔۔۔۔۔۔۔۔ اور وہ حقیقت ترتیب توعِ انسانی کے علاوہ کچھ نہیں۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ وہ ترتیب کہ جس کے لیے کبھی احکام میں ناسخ و منسوخ کی ضرورت ہوتی ہے۔ اسی بناء پر اس کے بعد فرمایا گیا ہے: مقصد یہ ہے کہ اہلِ ایمان کو اپنے اپنے راستے میں زیادہ ثابت قدم کیا جائے اور یہ تمام مسمانوں کے لیے ہدایت و بشارت ہے (ِيُـثَبِّتَ الَّـذِيْنَ اٰمَنُـوْا وَهُدًى وَبُشْـرٰى لِلْمُسْلِمِيْنَ)۔ مفسر عالی قدر مولف المیزان کے بقول یہ آیت مومنین کے بارے میں کہتی ہے کہ مقصد یہ ہے کہ وہ اپنے راستے میں ثابت قدم ہو جائیں لیکن مسلمانوں کے بارے میں کہتی ہے کہ مقصد، ہدایت و بشارت ہے۔ یہ فرق اسی فرق کی بناء پر ہے جو مومن اور مسلم میں موجود ہے کیونکہ ایمان کا تعلق دل سے ہے اور اسلام کا تعلق ظاہری عمل سے ہے۔ بہر حال قوتِ ایمان کو مضبوط کرنے اور راہِ ہدایت و بشارت کے طے کرنے کے لیے بعض اوقات چھوٹی مدت کے پروگراموں (SHORT - TERM PROGRAMMES) کے علاوہ کوئی چارہ کار نہیں ہوتا اور بعد میں ان کی جگہ آخری اور حتمی پروگرام لے لیتے ہیں آیاتِ الٰہی میں ناسخ و منسوخ کا یہ ہی راز ہے۔ آیاتِ قرآن پر بہانہ ساز مشرکوں نے جو اعتراض کیا تھا یہ اس کا جواب تھا۔ اس کے بعد ان کے دوسرے اعتراض یا زیادہ واضح الفاظ میں پیغمبر اسلام ﷺ پر مخالفین کے افتراء کی طرف اشارہ ہوتا ہے: ہم جانتے ہیں کہ وہ کہتے ہیں کہ یہ آیات اسے ایک انسان سکھاتا ہے (وَلَقَدْ نَعْلَمُ اَنَّـهُـمْ يَقُوْلُوْنَ اِنَّمَا يُعَلِّمُهٝ بَشَـرٌ)۔ اس بارے میں کہ مشرکین کی مراد اس سے کون شخص تھا، اس بارے میں مفسرین کی مختلف آراء ہیں: ابن عباس سے منقول ہے وہ ایک مکہ کا شخص تھا جس کا نام ’’بلعام‘‘ تھا وہ تلواریں بناتا تھا۔ بنیادی طور پر اس کا تعلق روم سے تھا اور وہ عیسائی تھا۔ بعض کا خیال ہے کہ قبیلہ بنی حضرم کا ایک شخص تھا جس کا نام ’’یعیش‘‘ یا ’’عائش‘‘ تھا وہ اسلام لے آیا تھا اور اصحابِ رسول میں شمار ہوتا تھا۔ بعض دیگر سمجھتے ہیں کہ وہ دو عیسائی غلام تھے ان کا نام ’’یسار‘‘ اور ’’جبر‘‘ تھا۔ ان کے پاس ان کی زبان میں ایک کتاب تھی جسے کبھی کبھی وہ بلند آواز سے پڑھتے تھے۔ بعض نے یہ احتمال بھی ظاہر کیا ہے کہ اس سے مراد سلمان فارسی ہیں حالانکہ ہم جانتے ہیں سلمان مدینہ میں بارگاہ رسالت ﷺ میں پہنچے تھے اور وہاں پہنچ کر انھوں نے اسلام قبول کیا تھا۔ سورہٓ نحل کا زیادہ تر حصہ مکی ہے۔ اور مشرکین کی ایسی تہمتوں کا تعلق بھی اسی دور سے ہے۔ بہر حال ان بے بنیاد باتوں پر قرآن نے خطِ بطلان کھینچ دیا ہے انھیں دندان شکن جواب دیتے ہوئے فرمایا گیا ہے: جس شخص کی طرف یہ اس قرآن کی نسبت دیتے ہیں اس کی زبان عجمی ہے۔ حالانکہ یہ قرآن فصیح و واضح عربی میں نازل ہوا ہے۔ لِّسَانُ الَّـذِىْ يُلْحِدُوْنَ اِلَيْهِ اَعْجَـمِىٌّ وَّهٰذَا لِسَانٌ عَرَبِىٌّ مُّبِيْنٌ) اس تہمت سے اگر ان کی مراد یہ ہے کہ یہ الفاظ قرآن رسول اللہ کو ایک ایسا انسان سکھاتا کہ جو عربی زبان سے بیگانہ تھا تو یہ انتہائی پست بات ہے ایسے شخص کی عبارات ایسی فصیح و بلیغ کیسے ہو سکتی ہیں کہ جن کے سامنے خود اہلِ زبان عاجز ہیں ہیاں تک کہ اس جیسی ایک سورت بھی نہیں بنا سکے۔ اگر ان کی مراد یہ ہے کہ قرآن کے مضامین و مفہوم پیغمبر ﷺ نے ایک عجمی معلم سے لیے ہیں تو بھی یہ سوال سامنے آئےگا کہ ان مضامین کو ایسے اعجازآمیز الفاظ و عبارات میں کسی شخص نے ڈھالا ہے جن کے سامنے دنیائے عرب کے تمام فصحاء نے گھٹنے ٹیک دیئے ہیں کیا یہ کام اس شخص کا ہو سکتا ہے جو عربی زبان سے نا واقف ہو یا پھر یہ اس ذات کا کام ہے کہ جس کی قدرت تمام انسانوں کی قدرت سے مافوق ہے یعنی اللہ۔ علاوہ ازیں فلسفے اور قوی منطق کے لحاظ سے، عقائد کے اعتبار سے اور اخلاقی تعلیمات کے لحاظ سے اس قرآن کے مضامین ایسے ہیں کہ جو انسان کے باطن اور روح کی پرورش کرتے ہیں۔ مختلف انسانی ضروریات کے حوالے سے اس کے -------------------------------------------------------- ۱؎ ’’یلحدون‘‘ ’’الحاد‘‘ کے مادہ سے ہے یہ حق سے باطل کی طرف انحراف کے معنی میں ہے اور کبھی یہ ہر قسم کے انحراف کے معنی میں بھی استعمال ہوتا ہے ہیاں اس طرف اشارہ ہے کہ وہ افتراء پرواز چاہتے تھے کہ قرآن کو ایک انسان کی طرف نسبت دیں اور اسے رسول اللہ ﷺ کا استاد قرار دیں۔ ۲؎ ’’اعجام‘‘ اور ’’عجمۃ‘‘ دراصل ’’ابہام‘‘ کے معنی میں ہے اور عجمی اس شخص کو کہا جاتا ہے جس کے بیان میں نقص ہو چاہے وہ عرب ہو یا غیر عرب۔ عربوں کو چونکہ دوسروں کے بارے میں ناقص اطلاعات ملیں لہذا دوسروں کو ’’عجم‘‘ کہتے تھے۔ -------------------------------------------------------- معاشرتی قوانین ایسے ہیں کہ جو انسانی افکار سے مافوق ہیں۔ یہ نشاندہی کرتے ہیں کہ افتراء پروازوں کو بھی اپنی بات پر یقین نہ تھا یہ صرف ان کا شیطانی ہتھکنڈا تھا وہ تو ایسی باتیں کر کے سادہ لوح افراد گمراہ کرنا چاہتے تھے اور ان کے دلوں میں شکوک و شبہات پیدا کرنا چاہتے تھے۔ حقیقت یہ ہے کہ مشرکین عرب کو اپنے میں سے کوئی ایسا شخص نظر نہیں آتا تھا جس کی طرف اس قرآن کی نسبت دے سکیں لہذا کوشش کرتے تھے کہ کوئی ایسا اجنبی شخص کہ جس کی زندگی وہاں کےلوگوں کے لیے مبہم ہو اس کی طرف ان مطالب کی نسبت دے دیں تا کہ ہوسکتا ہے چند دنوں تک وہ سادہ لوح لوگوں کو گمراہ رکھ سکیں۔ ان تمام چیزوں سے قطع نظر خود پیغمبر اکرم ﷺ کی زندگی پر نظر ڈالی جائے تو ایسا کوئی شخص نہیں ملتا حالانکہ اگر واقعاً ایسے افراد ہی اس قرآن کے اصلی موجود ہوتے تو پھر اس قسم کی رابطہ ان سے برقرار رہنا چاہیے تھا۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ لیکن جیسا کہ پرانی مثل ہے کہ: الغریق یتشبث بکل حشیش ڈوبتے کو تنکے کا سہارا۔ وہ بھی اس قسم کی سہارے ڈھونڈتے تھے۔ نزول ِ قرآن کا زمانہ اور عربوں کی جاہلیت کا دور تو معمولی بات ہے آج تمدن ِانسانی کے مختلف میدانوں میں اس قدر پیش رفت ہو چکی ہے بے پناہ کتابوں کے ذریعے انسانی معاشرے میں افکارِ انسانی پھیل چکے ہیں، مختلف نظام ہائے حیات اور قوانین معرضِ وجود میں آچکے ہیں مگر اس کے باوجود موازنہ کیا جائے تو ان سب پر قرآنی تعلیمات کی برتری پوری طرح آشکار ہو جاتی ہے۔ یہاں تک کہ سید قطب نے تفسیر ’’فی ظلال القرآن‘‘ میں لکھا ہے کہ روسی مادہ پرستوں نے ۱۹۵۴ء میں قرآن پر اعتراض کرنے کی غرض سے مستشرقین کا ایک سیمینا منعقد کیا تو انھوں نے کہا: یہ کتاب ایک انسان ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ محمد ﷺ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ کے دماغ کا نتیجہ نہیں ہو سکتی بلکہ یہ ایک بڑی جماعت کی کوشش کا نتیجہ معلوم ہوتی ہے یہاں تک کہ یہ یقین بھی نہیں کیا جاسکتا کہ ساری کی ساری جزیرۃ العرب میں لکھی گئی ہے بلکہ یقینی طور پر اس کے کچھ حصے جزیرۃ العرب سے باہر لکھے گئے ہیں۔۱؎ ان کی منطق کی بنیاد وجودِ خدا اور نزولِ وحی کا انکار تھی وہ ہر چیز کی مادی تفسیر تلاش کرتے تھے دوسری طرف وہ جزیرۃ العرب میں قرآن کو انسانی ذہن کی پیداوار نہیں سمجھ سکتے تھے مجبوراً انھوں نے ایک مضحکہ خیز بات کی اور اسے عرب اور عرب کے باہر کے بہت سے افراد کی پیداوار قرار دیا جبکہ یہ وہ چیز ہے تاریخ جس کا بلکل انکار کرتی ہے۔ ---------------------------------------------------- ۱؎ تفسیر ’’فی ظلال القرآن‘‘ جلد ۵ ص ۲۸۲۔ ---------------------------------------------------- بہر حال اس آیت سے خوب واضح ہو جاتا ہے کہ قرآن کا اعجاز صرف اس کے مضامین کے حوالے سے نہیں بلکہ الفاظِ قرآن بھی معجزہ ہیں۔ ان الفاظ کی خاص کشش، مٹھاس، ہم آہنگی اور جملوں کی بندش ایسی ہے کہ جو انسانی طاقت سے ماوراء ہے۔ (اعجاز قرآن کے سلسلے میں ہم جلد اول سورہٓ بقرہ آیہ ۲۳ کے ذیل میں کافی بحث کر آئے ہیں) ---------------------- اس کے بعد قرآن تنبیہ کے انداز میں یہ حقیقت بیان کرتا ہے کہ ان کے یہ الزامات اور انحرافات سب کے سب ان کی داخلی بے ایمانی کے سبب سے ہیں اور ’’جو لوگ آیاتِ الٰہی پر ایمان نہیں رکھتے خدا انھیں ہدایت نہیں کرتا (نہ صراطِ مستقیم کی ہدایت اور نہ جنت و سعادت جاوداں کے راستے کی ہدایت) اور ان کے لیے درد ناک عذاب ہے‘‘(اِنَّ الَّـذِيْنَ لَا يُؤْمِنُـوْنَ بِاٰيَاتِ اللّـٰهِ لَا يَـهْدِيْـهِـمُ اللّـٰهُ وَلَـهُـمْ عَذَابٌ اَلِيْـمٌ)۔ کیونکہ وہ اس طرح سے تعصب، ہٹ دھرمی اور حق دشمنی میں گرفتار ہیں کہ ہدایت کی اہلیت گنوا بیٹھے ہیں اور اب وہ عذاب ِ الیم کے علاوہ کسی چیز کی اہلیت نہیں رکھتے۔ زیر بحث آخری آیت میں مزید فرمایا گیا ہے اللہ والوں پر صرف وہ لوگ جھوٹ باندھتے ہیں کہ جہ آیاتِ الٰہی پر ایمان نہیں رکھتے اور وہ پکے جھوٹے ہیں (اِنَّمَا يَفْتَـرِى الْكَذِبَ الَّـذِيْنَ لَا يُؤْمِنُـوْنَ بِاٰيَاتِ اللّـٰهِ ۖ وَاُولٰٓئِكَ هُـمُ الْكَاذِبُوْنَ)۔ اے محمد (ﷺ)! جھوٹ وہ بولتے ہیں نہ کہ تم۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ کیونکہ ان آیات، واضح نشانیوں اور دلیلوں کو کہ جن سے میں ہر ایک دوسری سے زیادہ آشکار ہے، دیکھنے کے باوجود وہ افتراء پروازی کا سلسلہ جاری رکھے ہوئے ہیں۔ اس سے بڑا جھوٹ اور کیا ہوگا کہ انسان مردانِ حق پر تہمت باندھے اور اس طرح سے وہ حق کے پیاسے لوگوں اور ان کے درمیان دیوار کھڑی کر دے۔
تفسیر نمونہ - آیت اللہ مکارم شیرازی Commentary
Commentary on Quran 16:101-105
اسلام کی نگاہ مین جھوٹ کی قباحت
اسلام کی نگاہ مین جھوٹ کی قباحت: زیر بحث آخری آیت قرآن کی لرزا دینے والی آیتوں میں سے ہے۔ یہ آیت جھوٹ کی قباحت کے بارے میں گفتگو کر رہی ہے اس آیت نے جھوٹوں کو کافروں اور آیات ِ الٰہی کے منکروں کی صف میں لا کھڑا کیا ہے آیت اگرچہ اللہ اور اس کے رسول ﷺ پر جھوٹ باندھنے کے بارے میں ہے تا ہم جھوٹ کی قباحت اجمالاً اس سے مشخص ہو جاتی ہے اس پیشِ نظر ہم کچھ تفصیل سے جائزہ لیتے ہیں کہ اسلام کی نگاہ میں جھوٹ کی قباحت کس قدر ہے۔ ۱۔ راست گوئی اور امانت ایمان کی دلیل ہیں: راست گوئی اور امانت کی ادائیگی ایمان اور بلندی اور بلندیٓ کردار کی دو واضح نشانیاں ہیں یہاں تک کہ نماز سے بڑھ کر ایمان پر دلالت کرتی ہیں۔ امام صادق عیلہ السلام فرماتے ہیں: لا تنظروا الٰی طول رکوع الرجل و سجود ، فان ذٰلک شئی قد اعتاد ، ولو ترکہ استوحش لذٰلک، ولٰکن انظروا الٰی صدق حدیثہ واداء امانتہ لوگوں کے لمبے لمبے رکوع اور سجدے نہ دیکھو، ہو سکتا ہے اس کی انھیں عادت پڑ گئی ہو۔ اس طرح سے کہ وہ انھیں چھوڑ دے تو پریشان ہو جائے۔ البتہ ان کے قول کی سچائی اور امانت کی ادائیگی کی طرف دیکھو۔ ۱؎ ۲۔ جھوٹ سب گناہوں کی جڑ ہے: اسلامی روایات میں جھوٹ کو ’’گناہوں کی چابی‘‘ کہا گیا ہے۔ حضرت علی علیہ السلام فرماتے ہیں:- الصدق یھدی الی البر، والبر یھدی الی الجنۃ سچائی نیکی کی دعوت دیتی ہے اور نیکی جنت کی طرف ہدایت کرتی ہے۔۲؎ ایک حدیث میں امام باقر علیہ السلام فرماتے ہیں: ان اللہ عزوجل جعل للشرا قفالا، وجعل مفاتیح تلک القفال اشراب، والکذب شر من الشراب۔ اللہ بزرگ و برتی نے برائی کے کچھ قفل قرار دیئے ہیں اور ان کی چابی شراب ہے (کیونکہ یہ عقل ہے کہ جو برائیوں سے روکتی ہے اور شراب عقل کو بیکار کر دیتی ہے۔ اس کے بعد مزید فرمایا: جھوٹ بولنا شراب نوشی سے بھی بدتر ہے۔۳؎ امام عسکری علیہ السلام فرماتے ہیں: جعلت الخبائث کلھا فی بیت وجعل مفتاحھا الکذب تمام خباثتیں ایک کمرے میں بند کر دی گئی ہیں اور اس کمرے کی چابی جھوٹ ہے۔۴؎ جھوٹ اور دوسرے گناہوں کا تعلق یہ ہے کہ گناہ گار شخص ہر گز سچا نہیں ہو سکتا کیونکہ سچائی کی رسوائی کا سبب ہے اور آثارِ گناہ چھپانے کے لیے اسے عموماً جھوٹ کا سہارا لینا پڑتا ہے۔ دوسرے لفظوں میں جھوٹ انسان کو گناہ کی چھوٹ دیتا ہے اور سچائی گناہ پر پابندی لگاتی ہے۔ اتفاق سے یہ حقیقت پیغمبر اکرم ﷺ سے منقول ایک حدیث سے ظاہر ہوتی ہے۔ حدیث یوں ہے: ---------------------------------------------------------- ۱؎ سفینۃ البحار مادہ صدق منقول از کتاب کافی۔ ۲؎ مشکوٰۃ الانوار طبرسی ص ۱۵۷ ۳؎ اصول کافی جلد ۲ ص ۲۵۴ ۴؎ جامع السادات جلد ۲ ص ۲۳۳ ---------------------------------------------------------- ایک شخص رسول اللہ ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوا اس نے عرض کی، میں نماز نہیں پڑھتا اور ایسے کام کرتا ہوں تو عفت و پاکدامنی کے منافی ہیں اور جھوٹ بھی بولتا ہوں۔ ان میں سے کس کو پہلے چھوڑوں؟ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: جھوٹ کو۔ اس نے رسول اللہ ﷺ کے سامنے عہد کیا کہ آئیندہ ہر گز جھوٹ نہیں بولے گا۔ جب وہ آپ کے پاس سے اُٹھ کر چلا گیا تو اس کے دل میں شیطانی وسوسے پیدا ہوئے۔ اور غلط کاری پر ابھارنے لگے۔ فوراً ان کے دل میں خیال پیدا ہوا کہ اگر کل رسول اللہ ﷺ نے اس سلسلے میں پوچھ لیا تو کیا کہوں گا۔ کیا یہ کہوں گا کہ میں نے ایسا کوئی کام نہیں کیا اگر یہ کہا تو یہ جھوٹ ہوگا اور اگر سچ کہہ دیا تو اس پر حد جاری ہوگی۔ اسی طرح دوسرے غلط کاموں کے بارے میں اس کے دل میں یہ خیالات پیدا ہوتے رہے اس وجہ سے وہ گناہوں سے بچتا رہا۔ اس طرح سے جھوٹ ترک کرنا سارے گناہ ترک کرنے کی بنیاد بن گیا۔ ۳۔ جھوٹ نفاق کی بنیاد ہے: جھوٹ نفاق کا سرچشمہ ہے کیونکہ راست گوئی کا مطلب ہے زبان و دل کی ہم آہنگی لہذا جھوٹ ان دونوں کی باہم آہنگی اور نفاق ظاہر و باطن میں اختلاف کے سوا کچھ نہیں۔ سورہٓ توبہ کی آیت ۷۸ میں ہے: فَاَعْقَبَـهُـمْ نِفَاقًا فِىْ قُلُوْبِـهِـمْ اِلٰى يَوْمِ يَلْقَوْنَهٝ بِمَآ اَخْلَفُوا اللّـٰهَ مَا وَعَدُوْهُ وَبِمَا كَانُـوْا يَكْذِبُوْنَ ان کے اعمال نے روز قیامت تک کے لیے ان کے دل میں نفاق پیدا کر دیا کیونکہ انھوں نے عہد ِ الٰہی کو توڑا اور وہ جھوٹ بولتے تھے۔ ۴۔ جھوٹ اور ایمان کا کوئی تعلق نہیں: یہ حقیقت نہ صرف اس آیت سے ظاہر ہوتی ہے بلکہ اصلاحی احادیث میں بھی صراحت سے بیان کیا گیا ہے کہ جھوٹ اور ایمان ایک دوسرے کے ساتھ نہیں رہ سکتے۔ ایک حدیث میں ہے: سئل رسول اللہ (ﷺ): یکون المومن جباناً؟ قالا: نعم قیل: ویکون بخیلاً؟ قال: نعم قیل: یکون کذابا؟ قال: لا رسول اللہ (ﷺ) سے سوال کیا گیا: کیا ایک با ایمان شخص کبھی بزدل ہو سکتا ہے؟ فرمایا: ہاں پھر پوچھا گیا: کیا وہ کبھی بخیل ہو سکتا ہے؟ فرمایا: ہاں پھر پوچھا گیا: کیا وہ کبھی جھوٹا ہو سکتا ہے؟ فرمایا: نہیں۔۱؎ کیونکہ جھوٹ نفاق کی نشانیوں میں سے ہے اور نفاق اور ایمان ایک ساتھ کبھی نہیں رہ سکتے۔ یہ ہی وجہ ہے کہ امیرالمومنین علیہ السلام نے منقول ہے: لا یحد العبد طعم الایمان حتی یترک الکذب ھزلہ وجدہ انسان کبھی بھی ایمان کا ذائقہ نہیں چکھ سکتا جب تک جھوٹ ترک نہ کرے چاہے مزاح میں ہو یا واقعی طور پر۔۲؎ ۵۔ جھوٹ سے اعتماد جاتا رہتا ہے: ہم جانتے ہیں کہ کسی معاشرے کا اہم ترین سرمایہ باہمی اعتماد اور عمومی اطمینان ہے جب کہ خیانت اور دھوکا بازی اس سرمایے کو تباہ کر دیتی ہے اسلامی تعلیمان میں سچائی کو اختیار کرنے اور جھوٹ کو چھوڑ دینے کے لیے ایک اہم دلیل یہ ہی بیان کیا گئی ہے۔ اسلامی احادیث میں ہے کہ ہادیانِ دین نے جب لوگوں سے شدت سے منع کیا ہے ان میں دروغ گو اور جھوٹے بھی ہیں کیونکہ وہ قابلِ اعتماد نہیں ہیں۔ حضرت علی علیہ السلام اپنے کلماتِ قصار میں فرماتے ہیں: ایاک و مصادقۃ اکذاب فانہ کالسراب، یقرب علیک البعید، ویبعد علیک القریب۔ جھوٹے سے دوستی کرنے سے بچو کیونکہ وہ سراب کی مانند ہے بعید کو تجھے قریب کر دکھائے گا اور قریب کو دور کر دےگا۔۳؎ جھوٹ کی قباحتوں کے بارے میں اور بھی بہت گفتگو کی جاسکتی ہے اس کے نفسیاتی علل و اسباب بھی ہیں اور اس کا مقابلہ کرنے کے طریقے بھی بہت ہیں یہ تفصیلات اخلاق کے بارے میں لکھی گئی کتب میں دیکھا چاہیے۔ ------------------------------------------------------ ۱؎ جامع السعادات، جلد ۲ ص ۳۲۲۔ ۲؎ مشکوٰۃ الانوار ص ۱۵۶۔ ۳؎ نہج البلاغہ کلماتِ قصار ص ۳۷۔ ۴؎ ہماری کتاب ’’زندگی پر توِ اخلاق‘‘ کی طرف رجوع فرمائیں۔ ------------------------------------------------------
تفسیر نمونہ - آیت اللہ مکارم شیرازی Commentary
Commentary on Quran 16:101-105
سوره نحل/ آیه 101 تا 105
101) وَاِذَا بَدَّلْنَـآ اٰيَةً مَّكَانَ اٰيَةٍ ۙ وَّاللّـٰهُ اَعْلَمُ بِمَا يُنَزِّلُ قَالُـوٓا اِنَّمَآ اَنْتَ مُفْتَـرٍ ۚ بَلْ اَكْثَرُهُـمْ لَا يَعْلَمُوْنَ 102) قُلْ نَزَّلَـهٝ رُوْحُ الْقُدُسِ مِنْ رَّبِّكَ بِالْحَقِّ لِيُـثَبِّتَ الَّـذِيْنَ اٰمَنُـوْا وَهُدًى وَبُشْـرٰى لِلْمُسْلِمِيْنَ 103) وَلَقَدْ نَعْلَمُ اَنَّـهُـمْ يَقُوْلُوْنَ اِنَّمَا يُعَلِّمُهٝ بَشَـرٌ ۗ لِّسَانُ الَّـذِىْ يُلْحِدُوْنَ اِلَيْهِ اَعْجَـمِىٌّ وَّهٰذَا لِسَانٌ عَرَبِىٌّ مُّبِيْنٌ 104) اِنَّ الَّـذِيْنَ لَا يُؤْمِنُـوْنَ بِاٰيَاتِ اللّـٰهِ لَا يَـهْدِيْـهِـمُ اللّـٰهُ وَلَـهُـمْ عَذَابٌ اَلِيْـمٌ 105) اِنَّمَا يَفْتَـرِى الْكَذِبَ الَّـذِيْنَ لَا يُؤْمِنُـوْنَ بِاٰيَاتِ اللّـٰهِ ۖ وَاُولٰٓئِكَ هُـمُ الْكَاذِبُوْنَ ترجمہ: 101) اور جب (کسی حکم کو منسوخ کرتے ہوئے) ایک آیت کو دوسری آیت سے بدل دیتے ہیں تو اللہ بہتر جانتا ہے کہ کون سا حکم نازل کرے۔ وہ کہتے ہیں کہ تو جُھوٹ بولتا ہے لیکن ان میں سے اکثر (حقیقت کو) نہیں سمجھتے۔ 102) کہہ دے: اسے روح القدس حق کے ساتھ تیرے پروردگار کی طرف سے لایا ہے تا کہ اہلِ ایمان کو ثابت قدم کردے اور یہ تمام مسلمانوں کے لیے ہدایت اور بشارت ہے۔ 103) ہم جانتے ہیں کہ وہ کہتے ہیں کہ یہ آیات اسے ایک بشر سکھاتا ہے حالانکہ جس کی طرف وہ انھیں نسبت دیتے ہیں اس کی زبان عجمی ہے جبکہ یہ (قرآن) واضح عربی زبان ہے۔ 104) جو لوگ آیاتِ الٰہی پر ایمان نہیں رکھتے اللہ انھیں ہدایت نہیں کرتا اور ان کے لیے درد ناک عذاب ہے۔ 105) جُھوٹ صرف وہ لوگ بولتے ہیں جو آیاتِ الٰہی پر ایمان نہیں رکھتے اور وہ واقعاً جھوٹے ہیں۔
تفسیر نمونہ - آیت اللہ مکارم شیرازی Commentary
Commentary on Quran 16:101-105
شانِ نزول
شانِ نزول: ابن عباس کہتے ہیں: کبھی کوئی آیت نازل ہوتی اور اس میں کوئی سخت حکم ہوتا اور اس کے بعد کوئی آیت آتی کہ جس میں نسبتاً سہل حکم ہوتا تو بہانہ ساز مشرکین کہتے: محمد ﷺ اپنے اصحاب سے مذاق کرتا ہے اور یہ اپنے پاس سے کرتا آج ایک چیز کا حکم دیتا ہے اور اس سے منع کر دیتا ہے۔ یہ امور ظاہر کرتے ہیں کہ محمدؐ سب کچھ اپنی طرف سے کہتا ہے نہ کہ خدا کی طرف سے۔ اس سلسلے میں پہلی آیت میں انھیں جواب دیا گیا ہے۔