كَذَلِكَ أَرْسَلْنَاكَ فِي أُمَّةٍ قَدْ خَلَتْ مِن قَبْلِهَا أُمَمٌ لِّتَتْلُوَ عَلَيْهِمُ الَّذِي أَوْحَيْنَا إِلَيْكَ وَهُمْ يَكْفُرُونَ بِالرَّحْمَنِ قُلْ هُوَ رَبِّي لَا إِلَهَ إِلَّا هُوَ عَلَيْهِ تَوَكَّلْتُ وَإِلَيْهِ مَتَابِ
Thus have We sent you to a nation before which many nations have passed away, that you may recite to them what We have revealed to you. Yet they defy the All-beneficent. Say, ‘He is my Lord; there is no god except Him; in Him I have put my trust, and to Him will be my return.’
Agha Ali Puya Commentary
Commentary on Quran 13:30
[Pooya/Ali Commentary 13:30] Abu Jahl and Abdullah bin Umayya asked the Holy Prophet to level the mountains and make rivers flow in their places so that they might cultivate corn. Then these verses were revealed. Aqa Mahdi Puya says: Ya-asi actually means despair, but it is sometimes used figuratively in the sense of knowing, because he who gives up hope knows that what he had hoped will not take place. Despair is here synonymous with knowledge.
تفسیر نمونہ - آیت اللہ مکارم شیرازی Commentary
Commentary on Quran 13:30-32
ہت دھرم ہر گز ایمان نہیں لائیں گے
ان آیات میں ہم پھر نبوت کی بحث کی طرف لوٹتے ہیں ۔ ان میں مشرکین کی گفتگو کا ایک اور حصہ پیش کیا گیا ہے نیز نبوت کے بارے میں ان کی گفتگو کا واضح جواب دیا گیا ہے ۔ پہلے فرمایا گیاہے : جیسے ہم نے گزشتہ انبیاء کو گزشتہ قوموں کی ہدایت کے لئے بھیجا تھا تجھے بھی ایک امت کے درمیان بھیجا ہے کہ جس سے پہلے امتیں آئیں اور چلی گئیں (لتتلو ا علیھم الذی اوحینا الیک)حالانکہ وہ ”رحمن “ (وہ خدا کہ جس کی رحمت اور وسیع و عام فیض مومن و کافر اور یہودو نصاریٰ سب پر محیط ہے ) کا انکار کرتے ہیں (وھم یکفرون بالرحمن ) ۔ ۔کہہ دو : اگر تم انکا رکرتے ہو تو رحمن کہ جن کا فیض و رحمت عام ہے ، میرا پر وردگار ہے ( قل ھو ربی )اس کے سوا کوئی معبود نہیں ہے ، میں اس پر توکل کرتا ہوں اور میری باز گشت اسی طرف ہے ( لاالہ الاھو علیہ توکلت والیہ متاب) ۔ اس کے بع دان بہانہ تراش افراد کے جواب میں کہ جو ہر چیز پر اعتراض کرتے ہیں ، فرماتا ہے : یہاں تک کہ اگر قرآن کے ذریعے پہاڑ چلنے لگ جائیں اور زمین ٹکڑے ٹکڑے ہو جائے اور اس کے ذریعے مردوں سے گفتگو بھی ہو پھر بھی یہ ایمان نہیں لائیں گے ( وَلَوْ اٴَنَّ قُرْآنًا سُیِّرَتْ بِہِ الْجِبَالُ اٴَوْ قُطِّعَتْ بِہِ الْاٴَرْضُ اٴَوْ کُلِّمَ بِہِ الْمَوْتَی ) ۔ لیکن یہ تمام کام خد اکے اختیار میں ہے او روہ جتنا ضروری سمجھتا ہے انجام دیتا ہے (بَلْ لِلَّہِ الْاٴَمْرُ جَمِیعًا ) ۔ مگر تم لوگ حق کے طالب نہیں ہو،گر ہو تے تو جس قدر اعجاز کی نشانیاں اس پیغمبر سے صادر ہوئی ہیں ایمان لانے کے لئے کاملاً کافی ہیں ، یہ تو سب بہانے ہیں ۔ اس کے بعد مزید فرمایا گیا ہے : کیا وہ لوگ جو ایمان لائے ہیں نہیں جانتے کہ اگر خدا چاہے تو تمام لوگوں کو جبراً ہدایت کردے (اٴَفَلَمْ یَیْئَسْ الَّذِینَ آمَنُوا اٴَنْ لَوْ یَشَاءُ اللهُ لَھَدَی النَّاسَ جَمِیعًا) ۔ ۱۔”اٴَفَلَمْ یَیْئَس“”یاٴس“ کے مادہ سے ناامیدی کے معنی میں ہے مگر بہت سے مفسرین نے کہا ہے کہ یہاں علم کے معنی میں ہے لیکن ( فخر رازی کے مطابق )” کچھ لوگوں “ کے بقول کہیں نہیں دیکھا گیا کہ ” یئست“ ” علمت“ کے معنی میں ہو ۔ مفردات میں راغب کی گفتگو سے یہ نتیجہ نکتا ہے کہ ”یاٴس“ یہاں اپنے اسی مشہور معنی میں ہے لیکن ہر مایوسی کے لئے ضروری ہے کہ اس کام کے نہ ہوسکنے کا علم ہو ۔ اس بناء پر ان کے یاٴس کے ہونے کا لازمہ ان کا علم ہے لیکن راغب کی اس گفتگو کا ماحصل یہ ہے کہ یہاں یاٴس وجود علم کے معنی میں نہیں بلکہ عدم کے علم کے معنی میں ہے اور یہ مفہوم آیت کے مفہوم سے مطابقت نہیں رکھتا اس بناء پر حق وہی ہے جو مشہور مفسرین نے کہا ہے اور ا س کے لئے اقوالِ عرب سے بھی شواہد پیش کیے گئے ہیں اور ان کے نمونے فخررازی نے اپنی تفسیر میں پیش کئے ہیں ۔(غور کیجئے) ۔ یہ اس طرف اشارہ ہے کہ خدا تعالیٰ داخلی یا خارجی طور پر جبری طریقے سے منکرین اور ہٹ دھرم افراد تک کو بھی ایمان لانے پر آمادہ کرسکتا ہے کہ کیونکہ وہ ہر چیز پر قادر ہے اور اس کی قدرت کے سامنے کوئی کام مشکل نہیں ہے لیکن وہ ہر گز ایسا نہیں کرے گا کیونکہ ایسا جبری ایمان بے وقعت ہے۔ ایسا ایمان اس معنویت اور کمال سے محروم ہے جس کی انسان کو ضرورت ہے ۔ اس کے بعد مزید فرمایا گیا ہے : اس کے باوجود کفار ہمیشہ اپنے اعمال کے سبب تباہ کن مصائب کے حملے سے دو چار ہیں یہ مصائب مختلف بلاوٴں کی صورت میں نازل ہوتے ہیں اور کبھی ان پر مجاہدین ِ اسلام کے تباہ کن حملوں کی صورت میں آتے ہیں ( وَلاَیَزَالُ الَّذِینَ کَفَرُوا تُصِیبُہُمْ بِمَا صَنَعُوا قَارِعَةٌ) ۔ یہ مصائب اگر ان کے گھروں پر نازل نہ ہوں تو ان کے گھروں کے آس پاس نازل ہو ں گے (اٴَوْ تَحُلُّ قَرِیبًا مِنْ دَارِھِمْ ) تاکہ وہ عبرت حاصل کریں ، حرکت میں آئیں اور خدا کی طرف لوٹ آئیں ۔ یہ تنبیہیں اسی طرح جاری رہیں گی یہاں تک کہ خدا کا آخری حکم آپہنچے(حتَّی یَاٴْتِیَ وَعْدُ اللهِ ) ۔ یہ آخری حکم ہو سکتا ہے موت کی طرف یا روز قیامت کی طرف اشارہ ہو یابقول بعض کے فتح مکہ کی طرف اشارہ ہو کہ جس نے دشمن کی ساری طاقت کو درہم بر ہم کرکے رکھ دیا ۔ بہر حال خد اکاو عدہ حتمی ہے ” خدا کبھی بھی اپنے وعدے کی خلاف ورزی نہیں کرے گا“ ( إِنَّ اللهَ لاَیُخْلِفُ الْمِیعَادَ) ۔ زیر نظر آخری آیت پیغمبر اکرم کی طرف روئے سخن کئے ہوئے کہتی ہے : صرف تمہی نہیں ہو کہ جسے اس کا فر گروہ کے طرح طرح کے تقاضوں اور من پسند معجزوں کی فرمائش کے ذریعے تمسخر اور استہزاء کا سامنا کرنا پڑا ہے بلکہ یہ تو پوری تاریخ انبیاء میں ہوتا رہا ہے ”اور تجھسے پہلے بھی بہت سے رسولوں کا تمسخر اڑایا گیا ہے “( وَلَقَدْ اسْتُھْزِءَ بِرُسُلٍ مِنْ قَبْلِکَ ) ۔ لیکن ہم نے ان کافروں کو فوراً عذاب نہیں کیا بلکہ ” ہم نے انہیں مہلت دی “ (فَاٴَمْلَیْتُ لِلَّذِینَ کَفَرُوا ) ۔ اس لئے کہ شاید بیدار ہوجائیں اور شاید راہ حق کی طرف پلٹ آئیں یا کم از کم ان پر کافی اتمام حجت ہو جائے کیونکہ اگر وہ بد کار اور گنہگار ہیں تو خدا کی مہربانی اور اس کا لطف و کرم اور حکمت بھی تو موجود ہے ۔ بہر حال یہ مہلت اور تاخیر اس معنی میں نہیں کہ ان کی سزا اور کیفر کردار کو فراموش کردیا جائے لہٰذا” اس مہلت کے بعد ہم نے انہیں گرفت کی اور تونے دیکھا کہ ہم نے انہیں کس طرح سزا دی “ یہ انجام تیری ہٹ دھرم قوم کے بھی انتظار میں ہے (ثُمَّ اٴَخَذْتُھُمْ فَکَیْفَ کَانَ عِقَابِ) ۔
تفسیر نمونہ - آیت اللہ مکارم شیرازی Commentary
Commentary on Quran 13:30-32
چند اہم نکات
۱۔ لفظ” رحمن “ کیوں استعمال کیا گیا ہے ؟ مندرجہ بالا آیات اور ان کے بارے میں مذکورہ شان نزول نشاندہی کرتی ہیں کہ قریش کو لفظ”رحمن “کہ قریش کو لفظ ”رحمن“ سے خدا کی توصیف و تعریف پسند نہیں تھی کیونکہ ایسی کوئی چیز ان کے درمیان رائج نہ تھی لہٰذا وہ اس کا مذاق اراتے تھے حالانکہ مندرجہ بالا آیا ت میں اس کی تاکید کی گئی ہے کیونکہ اس لفظ میں ایک خاص لطف پوشیدہ ہے کیونکہ ہم جانتے ہیں کہ خدا کی صفت ِ رحمانیت اس کے لطف ِ عام کی طرف اشارہ ہے کہ جو دوست اور دشمن سب پر محیط ہے اور مومن اور کافر سب کے شامل ِ حال ہے جب کہ اس کے مقابلے میں صفت ِ رحیمیت خداکی صفتِ خا ص ہے اور صالح او رمون بندوں کے بارے میں ہے ۔ یعنی تم کس طرح اس خدا پر ایمان لاتے ہو کہ ج ومنبع لطف و کرم ہے یہاں تک کہ اپنے دشمنوں کو بی اپنے لطف و رحمت سے نوازتا ہے ۔ یہ تمہاری انتہائی نادانی ہے ۔ ۲۔ پیغمبر اکرم نے معجزات کا تقاضاکیوں پورا نہ کیا یہاں ہمیں پھر ان لوگون کی گفتگو کا سامنا کرنا پڑرہاہے کہ جو یہ خیال کرتے ہیں پیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم سوائے قرآن کے اور کوئی معجزہ رکھتے تھے ۔ یہ لوگ زیر نظر آیات اور اس قسم کی دیگر آیات سے مدد لیتے ہیں کیونکہ ان آیات کا ظہور یہ بتاتا ہے کہ نبی اکرم نے مختلف معجزات کی فرمائش کو ٹھکرادیا ۔ وہ لوگ پہاڑوں کو ان کی جگہ سے پیچھے ہٹا نے کا ، وہاں کی زمین میں شگاف کرکے چشمے اور نہریں جاری کرنے کا اور مردوں کے زندہ ہوکر گفتگو کرنے کا تقاضا کررہے تھے لیکن آپ نے ان کی درخواست رد کردی۔ لیکن ہم بار ہا کہہ چکے ہیں کہ معجزہ ان لوگوں کو کہ جو حقیقت طلب ہیں صرف حقیقت کاچہرہ دکھانے کے لئے ہے نہ یہ کہ پیغمبر ایک معجزہ گر بن جائے اور جو شخص جس عمل فرمائش کرے وہ اسے انجام دیتا جائے چاہے وہ اسے قبول کرنے کے لئے بھی تیار نہ ہو۔ من پسند کے معجزات کی ایسی فرمائش صرف ایسے ہٹ دھرم اور کوتاہ فکر افراد کی طرف سے کی جاتی ہے کہ جو کسی حق کو قبول کرنے کے لئے تیار نہیں ہوتے اور اتفاق کی بات ہے کہ اس امر کی نشانیاں مندر جہ بالا آیات مندرجہ بالا آیات میں واضح طور پر دکھائی دیتی ہیں ۔ آخری زیر بحث آیت میں ہم نے دیکھا ہے کہ گفتگو ان کی طرف سے پیغمبر کا مذاق اڑانے کے سلسلے میں آئی ہے یعنی وہ لوگ حق کا چہرہ نہیں دیکھناچاہتے تھے بلکہ ایسی فرمائشوں سے ان کا مقصود پیغمبر اکرم کا تمسخر اڑانا تھا۔ علاوہ از یںان آیات کے بارے میں جو شان ہائے نزول ہم نے پڑھی ہیں ان سے معلوم ہوتاہے کہ انہوں نے پیغمبر اکرم سے تقاضا کیا تھا کہ وہ گزشتہ بزرگوں میں سے کسی ایک کو زندہ کردیں تاکہ وہ ان سے پوچھیں کہ کیا آپ حق پر ہیں یاباطل پر حالانکہ اگر پیغمبر اس قسم کا معجزہ (مردوں کو زندہ کرنا) پیش کردیں تو پھر اس بات کے پوچھنے کی گنجائش نہیں رہتی کہ پیغمبر حق پر ہیں یا باطل پر ۔ یہی با ت نشاندہی کرتی ہے کہ وہ متعصب ، ہٹ دھرم اور معاند افراد تھے اور ان کا مقصد حق کی جستجو نہ تھا۔ وہ ہمیشہ عجیب و غریب فرمائشیں کرتے رہتے تھے اور آخر کار وہ ایمان بھی نہیں لاتے تھے ۔ سورہ ٴبنی اسرائیل کی آیہ ۹۰ کے ذیل میں ہم انشاء اللہ دوبارہ اس مسئلے کی وضاحت کریں گے ۔ ۳۔ ” قارعة“ کیا ہے ؟ ’قارعة“ ” قرع“ کے مادہ سے ہے جو کہ کھٹکھٹانے کے معنی میںہے ۔ اس بناء پر ” قارعة“ کامعنی ہے ” کھٹکھٹانے والی “ یہاںایسے امو ر کی طرف کی طرف اشارہ ہے جو انسان کا دروازہ کھٹکھٹاتے ہیں اور اسے تنبیہ کرتے ہیں اور اگر بیدار ہونے کے لئے آمادہ ہو تو اسے بیدارکرتے ہیں ۔ در حقیقت ” قارعة“ کا ایک وسیع معنی ہے کہ جس میں ہر قسم کی انفرادی یا اجتماعی مصیبتوں ، مشکلات اور دردناک حوادث کا مفہوم شامل ہے ۔ اسی لئے بعض مفسرین اسے جنگوں ، خشک سالیوں ، قتل ہونے اور قید ہونے کے معنی میں سمجھتے ہیں کہ جب دوسرے اسے صرف ان جنگوں کی طرف اشارہ سمجھتے ہیں جو صدر اسلام میں ” سریہ“ کے عنوان سے ہوئیں ۔ ”سریہ“ ان جنگوں کو کہا جاتا ہے جن میں پیغمبر اسلام خود شریک نہیں ہوئے بلکہ ان میں آپ نے اپنے اصھاب و انصار کو مامور فرمایا لیکن مسلم ہے کہ ” قارعة“ ان امور میںسے کسی ایک کے لئے مختص نہیں اور ا س کے مفہوم میں یہ تمام امور شامل ہیں ۔ یہ بات جاذب نظر ہے کہ زیر بحث آیات میں ہے کہ یہ تباہ کن حوادث خود انہیں پہنچتے تھے یا ان کے گھر کے آس پاس رونما ہوتے تھے یعنی اگر وہ خود ان بیدار کرنے والے اور تنبیہ کرنے والے حوادث میں مبتلا نہ ہوں تو بھی یہ ان کے اوس پڑوس یا ان کے نزدیک رونما ہوتے ہیں ۔ کیا یہ ان کی بیداری کے لئے کافی نہیں ۔ ۳۳۔ اٴَفَمَنْ ھوقَائِمٌ عَلَی کُلِّ نَفْسٍ بِمَا کَسَبَتْ وَجَعَلُوا لِلَّہِ شُرَکَاءَ قُلْ سَمُّوھُمْ اٴَمْ تُنَبِّئُونَہُ بِمَا لاَیَعْلَمُ فِی الْاٴَرْضِ اٴَمْ بِظَاہِرٍ مِنْ الْقَوْلِ بَلْ زُیِّنَ لِلَّذِینَ کَفَرُوا مَکْرُھُمْ وَصُدُّوا عَنْ السَّبِیلِ وَمَنْ یُضْلِلْ اللهُ فَمَا لَہُ مِنْ ھَادٍ ۔ ۳۴۔ لَھُمْ عَذَابٌ فِی الْحَیَاةِ الدُّنْیَا وَلَعَذَابُ الْآخِرَةِ اٴَشَقُّ وَمَا لَھُمْ مِنْ اللهِ مِنْ وَاقٍ۔ ترجمہ ۳۳۔کیاوہ کہ جو سب کے سروں پر موجود ہے ( اور سب کانگران اور نگہبان ہے )اور سب کے اعمال دیکھتا ہے ( اس کی مانند ہے کہ جو ان میں سے کوئی صفت نہیں رکھتا) ۔انہوں نے خدا کے لئے شریک قرار دیے ہیں ۔ کہہ دو: ان کے نام لو، کیا اسے ایسی چیز کی خبردیتے ہوئے کہ روئے زمین میں جس کے وجود سے وہ بے خبر ہے یاظاہری اور کھوکھلی باتیں کرتے ہو( نہیں خدا کا کوئی شریک نہیں ہے )بلکہ کافروں کے سامنے ان کے جھوٹ مزین کئے گئے ہیں ( اور اندرونی ناپاکی کی بناء پر ان کا خیال ہے کہ یہ حقیقت پر مبنی ہیں ) اور وہ( خداکی )راہ سے روک دیئے گئے ہیں اور جسے خدا گمراہ کردے اس کے لئے کوئی راہنما نہیں ہوگا ۔ ۳۴۔ ان کے لئے دنیا میں ( دردناک ) عذاب ہے اور آخرت کا عذاب زیادہ سخت ہے اور خدا کے مقابلے میں کوئی ان کا دفاع نہیں کرسکتا۔