أَلَا إِنَّهُمْ يَثْنُونَ صُدُورَهُمْ لِيَسْتَخْفُوا مِنْهُ أَلَا حِينَ يَسْتَغْشُونَ ثِيَابَهُمْ يَعْلَمُ مَا يُسِرُّونَ وَمَا يُعْلِنُونَ إِنَّهُ عَلِيمٌ بِذَاتِ الصُّدُورِ
Look! They fold up their breasts to hide [their secret feelings] from Him. Look! When they draw their cloaks over their heads, He knows whatever they keep secret and whatever they disclose. Indeed, He knows best whatever is in the breasts.
Agha Ali Puya Commentary
Commentary on Quran 11:5
[Pooya/Ali Commentary 11:5] "Folding the breast" means to conceal hostility. Ayyashi reports on the authority of Jabir bin Abdullah that whenever the idolaters saw the Holy Prophet, they used to lower their heads, covered with scarfs, in front of their chests, so as not to look at him. Ibn Abbas reports that this verse refers to the hypocrites who concealed their envy and hostility towards Ali, which, the Holy Prophet said, they will openly declare and put into effect after his departure from this world. As stated in verse 119 of Ali Imran Allah knows well the inmost secrets of the hearts.
تفسیر نمونہ - آیت اللہ مکارم شیرازی Commentary
Commentary on Quran 11:5
شان نزول
بعض مفسّرین نے اس آیت کے لئے کئی شانِ نزول ذکر کی ہیں جن میں سے ایک یہ ہے کہ یہ آیت اخنس بن شریق منافق کے بارے میں نازل ہوئی ہے جو نہایت شیرین زبان تھا اور پیغمبر اکرم صلی الله علیہ وآلہ وسلّم کے سامنے دوستی اور محبّت کا اظہار کرتا مگر باطن میں دشمنی اور عداوت رکھتا تھا ۔ نیز جابر بن عبد الله نے امام باقر علیہ السلام سے نقل کیا ہے کہ مشرکین کا ایک گروہ جب پیغمبر اکرم صلی الله علیہ وآلہ وسلّم کے سامنے سے گزرتا تو اپنے سروں کو نیچے کرلیتا یہاں تک کہ اپنے سر کو لباس سے چھپالیتا تاکہ پیغمبر انھیں دیکھ نہ لیں، یہ آیت ان کے بارے میں نازل ہوئی ۔ تفسیر یہ آیت بطور کلی اسلام اور پیغمبر اسلام صلی الله علیہ وآلہ وسلّم کے دشمنوں کے احمقانہ فعل کی طرف اشارہ کرتی ہے جو اپنی نفاق آمیز اور حق سے گریزاں روش سے چاہتے تھے کہ اپنی ذات کو دوسرےں کے نظروں سے پنہاں رکھیں تاکہ کہیں حق کی آواز نہ سُن لیں، لہٰذا فرمایا گیا ہے: آگاہ رہو کہ وہ پیغمبر کی دشمنی کو دلوں میں پوشیدہ رکھتے ہیں اور سروں کو نیچے کئے ہوئے سینوں کو آگے سے خم کرتے ہیں تاکہ خود کو آنحضرت کی نظر سے پوشیدہ رکھیں (اٴَلَاإِنَّھُمْ یَثْنُونَ صُدُورَھُمْ لِیَسْتَخْفُوا مِنْہُ) ۔ اس آیت کے معنی کوطور پر سمجنے کے لئے ضروری ہے کہ لفظ ”یَثْنُون“کا مفہوم پورے طور پر واضح ہو، ”یَثْنُون“کا مادہ ”ثنی“ (بروزنِ سنگ) ہے جو در اصل کسی چیز کے مختلف حصّوں کو ایک دوسرے کے نزدیک کرنے کے معنی میں آیا ہے مثلاً لباس تہ کرنے کے لئے ”ثنی ثوبہ“کہا جاتا ہے اور یہ افراد کو ”اثنان“کہا جاتا ہے اس بناء پر ہے کہ ہم ان میں سے ایک کو دوسرے کے پہلو میں قرار دیتے ہیں، مداحی اور قصیدہ گوئی کو ”ثناخوانی“ بھی اس بنیاد پر کہا جاتا ہے کہ ممدوح کی صفاتِ برجستہ یکے بعد دیگرے شمار کی جاتی ہیں، نیز یہ مادّہ خم ہونے اور جھکنے کے معنی میں بھی آیا ہے اس کے انسان اس کام سے اپنے بدن کے کچھ حصّوں کو ایک دوسرے کے قریب کردیتا ہے، اسی طرح کینہ وعداوت رکھنے کے معنی میں بھی بیان کیا گیا ہے کیونکہ اس طرح انسان کبھی کسی شخص یا چیز کی دشمنی کو دل کے نزدیک کرلیتا ہے، یہ تعبیر بھی عربی ادب میں ملتی ہے ۔ ”اثنونی صدرہ علی البغضاء“ اس نے میرا کینہ دل میں رکھا ۔ جو کچھ ذکر کیا گیا ہے اس پر توجہ دینے سے یہ بات سامنے آتی ہے کہ ممکن ہے مندرجہ بالا تفسیر دشمنانِ پیغمبر کی ظاہری وباطنی مخالفت اور ہر قسم کی خفیہ یاسازشوں کی طرف اشارہ ہو، اس لئے کہ ایک طرف تو دل میں بغض وکینہ اور دشمنی رکھنے کے باوجود ظاہراٍ شیرین زبان سے اظہارِ دوستی کرتے تھے اور دوسری جانب گفتگو کرتے وقت سروں کو ایک دوسرے کے قریب اور سینوں کو پیچھے کی طرف کئے ہوئے یہاں تک کہ اپنے لباسوں کو بھی سر پر لے لیتے ہیں، تاکہ اشارہ وکنایہ میں بدگوئیاں اور سازشیں کرسکیں اور کوئی شخص ان کے رازوں سے آگاہ نہ ہو، لہٰذا قرآن بلافاصلہ آگاہ کرتا ہے کہ ”آگاہ رہو جس وقت وہ اپنے آپ کو اپنے لباسوں میں چھپالیتے ہیں (اٴَلَاحِینَ یَسْتَغْشُونَ ثِیَابَھُمْ یَعْلَمُ مَا یُسِرُّونَ وَمَا یُعْلِنُونَ) ۔ پروردگار ان کے ظاہر وپنہان سب کو جانتا ہے اس لئے کہ وہ ان کے سینوں (اندر) کے بھیدوں سے واقف ہے (إِنَّہُ عَلِیمٌ بِذَاتِ الصُّدُورِ) ۔ ۶ وَمَا مِنْ دَابَّةٍ فِی الْاٴَرْضِ إِلاَّ عَلَی اللهِ رِزْقُھَا وَیَعْلَمُ مُسْتَقَرَّھَا وَمُسْتَوْدَعَھَا کُلٌّ فِی کِتَابٍ مُبِینٍ ترجمہ ۶۔ اور زمین میں حرکت کرنے والی چیز نہیں مگر یہ کہ اس کی روزی خدا کے ذمہ ہے اور وہ اس کی جائے قیام اور نقل وحرکت کے مقام کو جانتا ہے یہ سب کچھ واضح کتاب (علمِ خدا کی لوح محفوظ) میںثبت شدہ ہے ۔