وَكُلًّا نَّقُصُّ عَلَيْكَ مِنْ أَنبَاءِ الرُّسُلِ مَا نُثَبِّتُ بِهِ فُؤَادَكَ وَجَاءَكَ فِي هَذِهِ الْحَقُّ وَمَوْعِظَةٌ وَذِكْرَى لِلْمُؤْمِنِينَ
Whatever We relate to you of the accounts of the apostles are those by which We strengthen your heart, and there has come to you in this [surah] the truth and an advice and admonition for the faithful.
Agha Ali Puya Commentary
Commentary on Quran 11:120
[Pooya/Ali Commentary 11:120] See commentary of al-Baqarah: 2. The Quran is a guidance for the pious but a recitation or statement for the ordinary people.
تفسیر نمونہ - آیت اللہ مکارم شیرازی Commentary
Commentary on Quran 11:120-123
چند قابل توجّہ نکات
۱۔ علمِ غیب خدا سے مخصوص ہے: جیسا کہ ہم ساتویں جلد میں سورہٴ اعراف کی آیہ ۱۸۸ اور پانچویں جلد میں سورہٴ انعام کی آیہ۵۰ کے ذیل میں تفصیل سے بیان کرچکے ہیں کہ اس میں شک وشبہ کی گنجائش نہیں کہ اسرارِ نہاں اور اسرارِ گزشتہ وآئندہ پر آگاہی اور ان کا علم خدا کے ساتھ مخصوص ہے، قرآن مجید کی مختلف آیات بھی اس حقیقت پر شاہد ہیں کہ وہ اس صفت میں اکیلا ہے اور اور کوئی شخص اس کی مانند نہیں ہے ۔ یہ جو ہم دیکھتے ہیں کہ بعض آیاتِ قرآن میں علمِ غیب کے کچھ حصّوں کی نسبت انبیاء کی طرف دی گئی ہے یا بہت سی آیات ورمایات میں پیغمبر اکرم صلی الله علیہ وآلہ وسلّم، حضرت علی علیہ السلام اور دیگر آئمہ معصومین علیہم السلام کے بارے میں ہم پڑھتے ہیں کہ وہ حضرات بعض اوقات آنے والے واقعات اور اسرارِ نہاں کی خبر دیتے تھے تو یہ جاننا چاہیے کہ یہ بھی خدائی تعلیم سے ہوتا ہے ۔ وہی ہے کہ جب مصلحت دیکھتا ہے تو اسرارِ غیب کا کچھ علم اپنے خاص بندوں کو تعلیم دیتا ہے لیکن یہ علم ذاتی ہے اور لامحدود بلکہ تعلیمِ الٰہی کے ذریعے سے ہے اور اتنا ہی ہوتا ہے جتنا وہ اپنے ارادے سے عطا کرتا ہے ۔ اس وضاحت سے ان تمام بدگوئی کرنے والوں کا جواب واضح ہوجاتا ہے کہ جو شیعہ عقیدے پر اعتراض کرتے ہیں کہ یہ انبیاء اور آئمہ کو عالم الغیب جانتے ہیں ۔ خدا نہ صرف انبیاء اور آئمہ کو مناسب موقع اور محل پر اسرارِ غیب تعلیم کرتا ہے بلکہ بعض اوقات ان کے علاوہ افراد کو بھی اس قسم کی تعلیم دیتا ہے جیسا کہ حضرت موسیٰ علیہ السلام کی والدہٴ گرامی کے بارے میں قرآنِ حکیم میں ہے کہ خدا تعالیٰ نے ان سے کہا: ڈرو نہیں ہم یہ بچہ تمھاری طرف پلٹادیں گے اور اسے انبیاء میں سے قرار دیں گے ۔ قرآنی الفاظ میں: <وَلَاتَخَافِی وَلَاتَحْزَنِی إِنَّا رَادُّوہُ إِلَیْکِ وَجَاعِلُوہُ مِنَ الْمُرْسَلِینَ یہاں تک کہ پرندے اور دوسرے جانور ضروریاتِ زندگی کے ماتحت مخفی اسرار سے آگاہی حاصل کرلیتے ہیں، حتّیٰ کہ نسبتاً مستقبل بعید کے واقعات سے بھی آگاہ ہوجاتے ہیں کہ جس کا تصور ہمارے لئے مشکل اور پیچیدہ ہے اور یوں بعض مسائل جو ہمارے لئے غیب شمار ہوتے ہیں ان کے لئے غیب نہیں ہیں ۔ ۲۔ عبادت خدا کے لئے مخصوص ہے: مندرجہ بالا آیت میں عبادت خدا کے لئے مخصوص ہونے کے بارے میں ایک لطیف دلیل بیان ہوئی ہے اور وہ یہ کہ اگر پرستش عظمت اور صفاتِ جمال وجلال کی بناء پر ہے تو یہ صفات سب سے بڑھ کر خدا میں موجود ہیں اور دوسرے اس کے مقابلے میں ناچیز وحقیر ہیں، عظمت کی سب سے بڑی نشانی علمِ لامحدود اور قدرت بے پایاں ہے کہ جن کے بارے میں زیرِ نظر آیت کہتی ہے کہ یہ دونوں اس کے ساتھ مخصوص ہیں اور اگر پرستش مشکلات کے موقع پر معبود کی پناہ لینے کی خاطر ہے تو یہ اہلیت اس میں ہے کہ جو بندوں کی تمام ضروریات، حاجات اور اسرارِ غیب سیے باخبر ہو اور ان کی دعا قبول کرنے اور ان کی آرزووٴںکو پورا کرنے کی قدرت رکھتا ہو، اسی بناء پر توحیدِ صفات توحیدِ عبادت کا سبب بن جاتی ہے ۔ (غور کیجیے گا) ۔ ۳۔ تمام تر سیر وسلوک کا خلاصہ: بعض مفسّرین نے کہا ہے کہ پروردگار کی عبودیت کے ذریعے انسان کی تمام تر سیر وسلوک کا خلاصہ زیرِ بحث آیت کے دو لفظوں میں بیان کردیا گیا ہے، یعنی ”فَاعْبُدْہُ وَتَوَکَّلْ عَلَیْہِ“ کیونکہ عبادت چاہے عام عبادات کی طرح جسمانی ہو یا روحانی، مثلاً عالمِ آفرینش اور نظامِ اسرارِ ہستی میں غور وفکر، وہ اس سیر وسلوک کا آغاز ہے اور توکل یعنی طور تمام امور کو خدا کے سپرد کرنا کہ جو ایک طرح سے ”فَنَا فِی اللّٰہ“ ہے اس سیر کا آخری نقطہ ہے ۔ اس تمام راستے میں ابتداء سے لے لے انتہا تک توحیدِ صفات کی طرف توجہ راہرو کی مدد کرتی ہے اور کوشش وعشق سے ملی ہوئی جستجو پر ابھارتی ہے ۔ پروردگار! ایسا کر کہ ہم تجھے تیری صفاتِ جمال وجلال کے پہچانیں اور ایسا کر کہ ہم آگاہی اور علم کے ساتھ تیری طرف حرکت کریں ۔ پروردگار! ہمیں توفیق دے کہ ہم خلوص کے ساتھ تیری عبادت کریں اور عشق کے ساتھ تجھ پر توکّل کریں ۔ پروردگار! اس سختی کے زمانے میں جبکہ ہمارے عظیم الشان اسلامی انقلاب کے بعد روز افزوں مشکلات نے ہر طرف سے ہمیں گھیر رکھا ہے اور دشمن اس انقلاب کے نور کو بجھادینے کے درپے ہیں، ہماری امید صرف تو ہے اور ان مشکلات کے حل کے لئے ہمارا سہارا تیری ذاتِ پاک ہے ۔ پروردگار! یہاں تک کا راستہ ہم نے طے نہیں کہ بلکہ تیری آشکار اور مخفی تائیدیں تھیں کہ جنھوں اس مرحلے تک پہنچنے کے لئے ہر جگہ ہمیں توانائی بخشی، جو راستہ باقی رہ گیا ہے اس میں بھی ہمیں اس عظیم نعمت سے محروم نہ فرما، اپنا لطفِ خاص ہم سے دُور نہ کر اور ہمیں اس کی بھی توفیق دے کہ ہم اس تفسیر کو کہ جو تیری عظیم آسمانی کتاب کی طرف ایک نیا دریچہ کھولتی ہے تکمیل تک پہنچائیں ۔ ۱۔ جو کچھ کہا گیا ہے اس سے معلوم ہوتا ہے کہ ”ھٰذہ“ ضمیر کا مرجع ”ابناء الرسل“ ہیں یہ مرجع ضمیر کے قریب بھی ہے، عبارت میں اس کا ذکر بھی ہے اور آیت میں موجودمباحث سے مناسبت بھی رکھتا ہے، اس امر کی طرف توجہ کرتے ہوئے ضمیر کا ایسے مرجع کی طرف لوٹنا بالکل واضح ہے ۔ سورہٴ ہود کی تفسیر اختتام کو پہنچی
تفسیر نمونہ - آیت اللہ مکارم شیرازی Commentary
Commentary on Quran 11:120-123
گزشتگان کے واقعات کے مطالعہ کے چار اثرات
ان آیات کے ساتھ ہی سورہٴ ہود اختتام پذیر ہوتی ہے، ان آیات میں اس سورہ کی تمام مباحث کا کلّی نتیجہ بیان ہوا ہے، اس سورہ کا چونکہ زیادہ حصّہ انبیاء کے بارے میں اور گزشتہ اقوام کے عبرتناک واقعات کے بارے میں ہے لہٰذا یہاں ان داستانوں کے گراں بہا نتائج کو چار عنوانات کے تحت بطور خلاصہ بیان کیا گیا ہے ۔ پہلے ارشاد ہوتا ہے: ہم نے انبیاء کے مختلف واقعات تجھ سے بیان کئے ہیں تاکہ تیرے دل کو مضبوط کریں اور تیرے ارادے کو تقویت دیں (وَکُلًّا نَقُصُّ عَلَیْکَ مِنْ اٴَنْبَاءِ الرُّسُلِ مَا نُثَبِّتُ بِہِ فُؤَادَکَ) ۔ لفظ ”کلا “ان سرگزشتوں کے تنوع اور ان کی مختلف اقسام کی طرف اشارہ ہے، ان میں سے ہر ایک میں انبیاء سے ایک قسم کی روگرانی، ایک قسم کے انحرافات اور ایک قسم کے عذاب کی طرف اشارہ ہے، یہ تنوع انسانی زندگی کے مختلف زاویوں اور گوشوں پر کئی طرح سے واضح روشنی ڈالتا ہے ۔ پیغمبر اکرم صلی الله علیہ والہ وسلّم کے لئے تثبیتِ قلب اور ان کے ارادے کو تقویت بخشنا (کہ جس کی طرف اس آیت میں اشارہ ہوا ہے)بلکہ ایک فطری امر ہے کیونکہ سخت ہٹ دھرم اور نہایت بے رحم دشمنوں کی مخالفتیں خواہ نہ خواہ پیغمبر اکرم صلی الله علیہ والہ وسلّم کے دل پر اثر ڈالتی تھیں کیونکہ آپ بھی انسان اور بشر تھے لیکن اس بناء پر کہ ناامیدی اور یاس کی تھوڑی سی گرد بھی آپ کے قلبِ پاک پر نہ پڑے اور آپ کا آہنی ارادہ ان مخالفتوں اور کارشکنیوں سے کمزور نہ ہو خدا تعالیٰ آپ سے انبیاء کے واقعات، ان کے کام کی مشکلات، ہٹ دھرم قوموں کے مقابلے میں ان کی استقامت وپامردی اور بالآخر کامیابی کے واعات یکے بعد دیگرے بیان کرتا ہے تاکہ رسول الله کا قلب وروح اور اسی طرح مومنین کے جو اس عظیم جنگ اور معرکے میں آپ کے دوش بدوش شریک تھے اور روز قوی تر ہوتے رہیں ۔ اس کے بعد ان واقعات کا بیان کرنے کے دوسرے نتیجے کی طرف اشارہ کرتے ہوئے قرآن کہتا ہے: ان واقعاتِ انبیاء میں زندگی سے مربوط حقائق ہیں، ان میں کامیابی اور ناکامی کے عوامل تمام تر تجھے بیان کردیئے گئے ہیں (وَجَائَکَ فِی ھٰذِہِ الْحَقُّ) ۔ (۱) ان واقعات کے بیان کا تیسرا اور چوتھا نتیجہ جو واضح ہوکر سامنے آتا ے یہ ہے کہ ”مومنین کے لئے وعظ ونصیحت اور تذکر ویاد دہانی ہے“ (وَمَوْعِظَةٌ وَذِکْریٰ لِلْمُؤْمِنِینَ) ۔ یہ جاذبِ نظر ہے کہ موٴلف المنار نے اس آیت کے ذیل میں کہا ہے کہ اس آیت میں ایجاز واختصار کا ایسا معجزہ ہے کہ گویا گزشتہ تمام واقعات کا اعجاز اس نے اپنے اند رسمولیا ہے اور چند مختصر سے الفاظ کے ذریعے اس میں اس کے تمام فوائد بیان کردیئے گئے ہیں ۔ بہرحال یہ آیت دوبارہ تاکید کرتی ہے کہ قرآن کے تاریخی واقعات کو معمولی نہ سمجھا جائے اور ان سے سننے والوں کی ضیافتِ طبع کے لئے استفادہ نہیں کرنا چاہیے کیونکہ یہ زندگی کے ہترین دروس کا مجموعہ ہیں، ان میں انسانوں کے آج اور کل کے تمام زاویوں اور پہلووٴں سے راہ گشائی کی گئی ہے ۔ اس کے بعد حضرت پیغمبر کو حکم دیا گیا ہے کہ تم بھی دشمن کی طرف سختیوں اور ہٹ دھرمیوں کے مقابلے میں وہی کچھ کہو جو بعض پیغمبر اُن کے جواب میں کہتے تھے، فرمایا: وہ کہ جو ایمان لائیں گے ان سے کہہ دو کہ جو کچھ تمھارے بس میں ہے وہ انجام دو اور گنجائش نہ چھوڑاور جو کچھ ہماری طاقت ہوگی ہم بھی انجام دیں گے (وَقُلْ لِلَّذِینَ لَایُؤْمِنُونَ اعْمَلُوا عَلیٰ مَکَانَتِکُمْ إِنَّا عَامِلُونَ) ۔ تم انتظار میں رہو اور ہم بھی انتظار کرتے ہیں تاکہ دیکھیں کون کامیاب ہوتا ہے اور کون ہزیمت اٹھاتا ہے (وَانتَظِرُوا إِنَّا مُنتَظِرُونَ) ۔ تم ہماری شکست کے خیالِ خام میں رہو اور ہم تمھارے لئے خدا کے واقعی عذاب کے انتظار میں ہیں کہ جو یا ہمارے ہاتھوں تمھیں پہنچے گا یا براہِ راست خدا کی طرف سے ۔ ایسی دھمکیاں جو ”امر“ کی صورت میں ذکر ہوئی ہیں قرآن کے دیگر مقامات پر بھی ہیں ۔ مثلاً: <اِعْمَلُوا مَا شِئْتُمْ إِنَّہُ بِمَا تَعْمَلُونَ بَصِیرٌ جوچاہو کرو خدا تمھارے اعمال سے آگاہ ہے ۔ (حم سجدہ/۴۰) نیز یہ بہت سے مفسّرین نے کہا ہے کہ مشار الیہ سورہ ہے، ہم نے جو کچھ کہا ہے اس سے مطابقت رکھتا ہے کیونکہ سورہ کا زیادہ تر حصّہ جو گزرچکا ہے گزشتہ انبیاء کے حالات کے بارے میں ہی تھا ۔ شیطان کے بارے میں ہے: <وَاسْتَفْزِزْ مَنْ اسْتَطَعْتَ مِنْھُمْ بِصَوْتِکَ وَاٴَجْلِبْ عَلَیْھِمْ بِخَیْلِکَ وَرَجِلِکَ اپنی آواز سے انھیں حرکت میں لے آوٴ اور اپنا سوار اور پیدا لشکر ان کی طرف بھیجو۔ (بنی اسرائیل/۶۴) واضح رہے کہ امر کے یہ تمام صیغے کسی کام پر ابھارنے کے لئے بلکہ وہ سب کے سب دھمکی کا پہلو رکھتے ہیں ۔ اس سورہ کی آخری آیت توحید (توحیدِ علم ، توحیدِ افعالی اور تح۔وحیدِ عبادت) بیان کررہی ہے جیسا کہ اس سورہ کی ابتدائی آیات علم ِ توحید کے بارے میں تھیں ۔ درحقیقت اس آیت میں توحید کے تین پہلووٴں کی نشاندہی کی گئی ہے: پہلا: پروردگار کی توحیدِ علمی، آسمانوں اور زمینوں کے غیبی اسرار کے ساتھ مخصوص ہیں اور وہی ہے جو تمام آشکار ونہاں بھیدوں سے باخبر ہے (وَلِلّٰہِ غَیْبُ السَّمَاوَاتِ وَالْاٴَرْضِ) ۔ اور اس کے غیر کا علم محدود علم اور زمین وآسمان کے طول وعرض میں موجود تمام چیزوں کے بارے میں وہ علم ذاتی پروردگار کی ذاتِ پاک کے ساتھ مخصوص ہے ۔ دوسرا: یہ کہ تمام امور کی باگ ڈور اس کے قبضہٴ قدرت میں ہے اور تمام چیزوں کی بازگشت بھی اسی کی طرف ہے (وَإِلَیْہِ یُرْجَعُ الْاٴَمْرُ کُلُّہُ) ۔ اور یہ توحیدِ افعالی کا مرحلہ ہے ۔ تیسرا: یہ کہ اب جبکہ لامحدود اوربے پایاں قدرت اس کی ذات پاک سے مخصوص ہے اور ہر چیز کی بازگشت اس کی طرف ہے لہٰذا صرف اس کی پرستش کرو (فَاعْبُدْہُ) ۔ اور اس پر توکل کرو (وَتَوَکَّلْ عَلَیْہِ) ۔ اور یہ توحیدِ عبادت کا پہلو ہے ۔ اور چونکہ نافرمانی وسرکشی گناہ ہے لہٰذا اس سے بچو کیونکہ ”جو کچھ تم انجام دیتے ہو خدا اس سے غافل نہیں ہے (وَمَا رَبُّکَ بِغَافِلٍ عَمَّا تَعْمَلُونَ) ۔