فَلَعَلَّكَ تَارِكٌ بَعْضَ مَا يُوحَى إِلَيْكَ وَضَائِقٌ بِهِ صَدْرُكَ أَن يَقُولُوا لَوْلَا أُنزِلَ عَلَيْهِ كَنزٌ أَوْ جَاءَ مَعَهُ مَلَكٌ إِنَّمَا أَنتَ نَذِيرٌ وَاللَّهُ عَلَى كُلِّ شَيْءٍ وَكِيلٌ
[Look out] lest you should disregard aught of what has been revealed to you, and be upset because they say, ‘Why has not a treasure been sent down to him, or [why does] not an angel accompany him?’ You are only a warner, and Allah watches over all things.
Agha Ali Puya Commentary
Commentary on Quran 11:12
[Pooya/Ali Commentary 11:12] Ayyashi, in his commentary, narrates on the authority of Zayd bin Arqam, that Jibra-il came to the Holy Prophet on the eve of Arafat to convey the message of Allah about the appointment of Ali as his successor. The Holy Prophet at once called to mind the obstinate and violent opposition he encountered when he announced his mission of prophethood, and was sure that announcement of the wilayah of Ali would generate harsher and more severe persecution of him and his Ahl ul Bayt. In the meantime Jibra-il reappeared with this verse. In Ma-idah: 67 "that which has been already sent down to you" clearly indicates that the command relating to the waliyah of Ali had been received before it was announced on Dhilhajj 18, 10 Hijra. Aqa Mahdi Puya says: The Holy Prophet never felt inclined to give up any part of what was revealed to him nor his heart ever felt strained on account of people's persistent hostility or their unreasonable demand for miracles, which was contrary to the purpose of the final religion of Allah, based upon reason and facts. It is just a warning to those who desire to give up or forget those verses which do not serve their purpose.
تفسیر نمونہ - آیت اللہ مکارم شیرازی Commentary
Commentary on Quran 11:12-14
۲۔ آیات الٰہی کی تبلیغ میں تاخیر؟
یہاں ایک سوال سامنے آتا ہے کہ کیونکر ممکن ہے کہ پیغمبر آیات الٰہی کی تبلیغ میں تاخیر کریں یا ان کی تبلیغ سے بالکل ہی رُک جائیں حالانکہ ہم جانتے ہیں کہ نبی سے کوئی گناہ یا خطا سرزد نہیںہوسکتی ۔ اس کا جواب یہ ہے کہ جس وقت پیغمبر کسی حکم کی فوری تبلیغ پر مامور ہوں تو یقیناً بغیر کسی شک وشبہ کے وہ اس کی تبلیغ کریں گے لیکن کبھی ایسا ہوسکتا ہے کہ تبلیغ کا وقت وسیع ہوتا ہے اور پیغمبر بعض وجوہات کے پیش نظر جو خود ا ن کی اپنی طرف سے نہیں ہوتیں بلکہ مکتب کے دفاع کی اور حمایت ہی کے حوالے سے ہوتی ہیں ان کی تبلیغ میں تاخیر کردیتے ہیں، مسلّم ہے کہ یہ گناہ نہیں جیسا کہ اس کی نظیر سورہٴ مائدہ کی آیت ۶۷ میں ہے کہ خدا اپنے پیغمبر کو تاکید کرتا ہے کہ آیاتِ الٰہی کی تبلیغ کریں اور لوگوں کو دھمکیوں سے نہ ڈریں اور خدا ان کی حفاظت کرے گا، قرآن کے الفاظ ہیں: <یَااٴَیُّھَا الرَّسُولُ بَلِّغْ مَا اٴُنزِلَ إِلَیْکَ مِنْ رَبِّکَ وَإِنْ لَمْ تَفْعَلْ فَمَا بَلَّغْتَ رِسَالَتَہُ وَاللهُ یَعْصِمُکَ مِنَ النَّاسِ درحقیقت یہاں تبلیغ میں تاخیر ممنوع نہ تھی، تاہم قاطعیت کے اظہار کے طور پر اس میں جلدی کرنا بہتر تھا، اس طریقے سے خدا اپنے پیغمبر کی نفسیاتی حوالے سے تقویت چاہتا ہے اور مخالفین کے سامنے ان کی قاطعیت اور اٹل فیصلے کو استقامت دینا چاہتا ہے تاکہ وہ ان کے شور وشرابے، بے بنیاد تقاضوں، بہانہ سازیوں اور تمسخر سے پریشان نہ ہوں ۔
تفسیر نمونہ - آیت اللہ مکارم شیرازی Commentary
Commentary on Quran 11:12-14
۳۔ آیت میں ”اَم“ کا معنی:
زیرِ نظر دوسری آیت ”اَم یقولون افتراہ....“ کی ابتداء میں لفظ ”اَم“ کے بارے میں دواحتمالات ذکر کئے ہی، ایک یہ کہ یہ ”او“ (یا) کے معنی میں ہے اور دوسرا یہ کہ یہ ”بل“ کے معنی میں ہے ۔ پہلی صورت میں آیت کا معنیٰ یہ ہوگا: شاید تو نے ہماری آیات کو مخالفین کی بہانہ سازیوں کے خوف سے انھیں نہیں سنایا ”یا یہ کہ“ تُونے تو آیات الٰہی پڑھی ہیں لیکن انھوں نے انھیں خداپر افتراء سمجھا ہے ۔ دوسری صورت میں آیت کا معنی اس طرح ہوگا: آیات الٰہی کی تبلیغ میں ان کی بہانہ سازیوں کی وجہ سے تاخیر نہ کرو۔ اس کے بعد مزید کہتا ہے کہ یہ لوگ تو بنیادی طور پر وحی اور نبوت کے منکر ہیں اور کہتے ہیں کہ پیغمبر نے خدا پر افتراء باندھا ہے ۔ درحقیقت اس بیان کے ذریعے خدا اپنے پیغمبر کو خبر دیتا ہے کہ من پسند کے معجزات کے بارے میں ان کے تقاضے تلاشِ حقیقت کی بناپر نہیں بلکہ اس لئے ہیں کہ وہ اصولی طور پر نبوّت کے منکر ہیں اور یہ سب ان کے بہانے ہیں ۔ بہرحال مندرجہ بالا آیات کے مفہوم میں غور وخوض سے اور خصوصاًادبی لحاظ سے ان کے الفاظ دقتِ نظر سے ظاہر ہوتا ہے کہ دوسرا معنی آیات کے مفہوم سے زیادہ نزدیک ہے (غور کیجئے گا) ۔
تفسیر نمونہ - آیت اللہ مکارم شیرازی Commentary
Commentary on Quran 11:12-14
۴۔ معجزہ طلبی کا جواب:
اس میں شک نہیں کہ پیغمبر کے لئے ضروری ہے کہ متلاشیانِ حق کے لئے اپنی حقانیت کے سند کے طور پر معجزہ پیش کرے اور کوئی پیغمبر بھی ضرف اپنے دعویٰ کو کافی نہیں سمجھ سکتا لیکن اس میں شک نہیں کہ جن مخالفین کا مندرجہ بالا آیات میں ذکر آیا ہے وہ حقیقت کی تلاش میں نہیں تھے وہ جن معجزات کا مطالبہ کرتے تھے وہ ان کے من پسند کے معجزات تھے ۔ مسلّم ہے کہ ایسے لوگ بہانہ جو ہوتے ہیں نہ کہ حقیقت کے متلاشی، کیا حتماً ضروری ہے کہ پیغمبر کے پاس بڑا خزانہ ہو جیسا کہ مشرکین کا خیال تھا یا کیا ضروری ہے کہ فرشتہ اس کے ہمراہ تبلیغِ رسالت کرے علاوہ ازیںکیا خود قرآن معجزہ سے برتر اور بالاتر نہیں تھا، اگر واقعاً ان کا مقصود بہانہ تراشی نہ تھاتوپھر قرآن کی اس بات پر کان کیوں نہیں دھرتے کہ اگر تمھارا خیال ہے کہ یہ آیات پیغمبر اپنی طرف سے لے آتا ہے تو جاوٴ اس کے مثل لے آوٴ اور دنیا کے تمام لوگوں کی مدد بھی حاصل کرلو۔
تفسیر نمونہ - آیت اللہ مکارم شیرازی Commentary
Commentary on Quran 11:12-14
۵۔ قرآن کا چیلنج
مندرجہ بالا آیات میں دوبارہ اعجازِ قرآن کے بارے میں تاکید کی گئی ہے کہ یہ کوئی عام سی گفتگو نہیں ہے اور نہ یہ انسانی ذہن کی اختراع ہے بلکہ آسمانی وحی ہے جس کا سرچشمہ خدا کا بے پایاں اور لامتناہی علم اور قدرت ہے اسی بناپر پوری دنیا کوچیلنج کیا گیا ہے جس اور مقابلے کی دعوت دی گئی ہے اور اس طرف توجہ کرتے ہوئے کہ رسول الله کے ہمعصر بلکہ وہ قومیں جو آج تک اس کام میں لگی ہوئی ہیں ایسا کرنے سے عاجز ہیں، یہ قومیں دیگر تمام تر مشکلات تو جھیلنے کو تیار ہیں لیکن آیاتِ قرآن کامقابلہ کرنے کی طرف نہیں آتیں، اس سے واضح ہوجاتا ہے کہ ایسا کام انسان کے بس میں نہ تھا ور نہ ہوسکتا ہے، تو کیا معجزہ اس کے علاوہ کسی چیز کا نام ہے ۔ قرآن میں یہ آواز آج بھی ہمارے کانوں میں گونج رہی ہے، یہ معجزہٴ جاوید آج بھی اسی طرح عالمین اور ساری کائنات کو اپنی طرف دعوت دے رہا ہے اور دنیا کے تمام علمی مراکز کو چیلنج کررہا ہے، اس کا یہ چیلنج نہ صرف فضاحت وبلاغت یعنی عبارات کی شیرینی وجاذیب اور مفاہیم کی رسائی کے لحاظ سے ہے بلکہ : ، اس کے مضامین کے اعتبار سے بھی, ، ان علوم کے لحاظ بھی جو اُس زمانے کے انسانوں سے پنہاں تھے، ، قوانین واحکام کے حوالے سے بھی جو بشریت کی سعادت ونجات کے ضامن ہیں، ، بیانات کے حوالے سے بھی جو ہر قسم کے تناقض اور پراگندگی سے پاک ہیں، ، تواریخ کے اعتبار سے سے جو خرافات سے مبرّا ہیں اور ، اسی طرح تمام حوالوں سے اس کا یہ چیلنج ہے ۔ تفسیر نمونہ جلد اوّل سورہٴ بقرہ کی آیات ۲۳ اور ۲۴ کی تفسیر کے ذیل میں ہم اعجاز قرآن کے بارے میں تفصیل سے بحث کرچکے ہیں ۔
تفسیر نمونہ - آیت اللہ مکارم شیرازی Commentary
Commentary on Quran 11:12-14
۶۔ پورا قرآن، دس سورتیں یا ایک سورت :
جیسا کہ ہم جانتے ہیں ، قرآن مجید نے ایک جگہ مخالفین کو قرآن کی مثلا لانے کی دعوت دی ہے (بنی اسرائیل/۸۸) اور دوسری جگہ قران جیسی سورتیں لانے کے لئے کہا ہے (مثلاً محلِ بحث آیات ) اور ایک اور جگہ قرآن کی ایک سورت جیسی سورت لانے کا کہا ہے (بقرہ/۲۳) اس بناء پر بعض مفسّرین نے یہ بحث کی ہے کہ چیلنج اور مقابلے کی اس دعوت میں اتنا فرق کیوں ہے؟ اس سوال کا جواب میں مختلف راستے اختیار کئے گئے ہیں: الف) بعض کا نظریہ ہے کہ یہ فرق اوپر کے مرحلہ سے نیچے کی طرف تنزل کی مانند ہ، جیسے ایک شخص دوسرے سے کہتا ہے کہ تم بھی اگر میری طرح فنِ تحریر اور شعر گوئی میں مہارت رکھتے ہو تو میری کتاب جیسی کتاب لکھ کر دکھاوٴ، پھر کہتا ہے اس کے ایک باب جیسی تحریر پیش کردو حتّی کہ ایک صفحہ ہی لکھ کر دکھا دو ۔ البتہ یہ جواب اس صورت میں صحیح ہے کہ سورہٴ بنی اسرائیل ، سورہٴ ہود، سورہٴ یونس اور سورہٴ بقرہ اسی ترتیب سے نازل ہوئی ہوں اور ”تاریخ القرآن“ میں فہرست ”ابنِ ندیم “ سے جو ترتیب نقل ہوئی ہے یہ بات اس سے مناسبت رکھتی ہے کیونکہ اس کے مطابق رسول الله پر نزول کے اعتبار سے سورہٴ بنی اسرائیل کا نمبر ۴۸ ہے ، ہود کا نمبر۵۹، یونس کا نمبر ۵۱ اور بقرہ کا نمبر ۹۹ ہے ۔ لیکن افسوس سے کہنا پڑتا ہے کہ یہ بات مشہور ترتیب سے مناسبت نہیں رکھتی جو مندرجہ بالا سورتوں کے متعلق اسلامی تفاسیر میں بیان کی گئی ہے ب) بعض نے کہا ہے کہ اگرچہ یہ سورتیں ترتیبِ نزول کے اعتبار سے نیچے کی طرف تنزل کے معاملے پر منطبق نہیں ہوتیں لیکن ہم جانتے ہیں کہ ایک سورت کی تمام آیتیں ایک ہی مرتبہ نازل نہیں ہوجاتی تھیں، بلکہ بہت سی آیات ایسی ہوتیں جو بعد میں نازل ہوتیں اور رسول الله کے حکم سے پانی مناسبات کی وجہ سے قبل کی سورت میں قرار پاتیں، زیرِ بحث معاملے میں بھی ممکن ہے ایسا ہی ہُوا ہو لہٰذا مندرجہ بالا سورتوں کی تاریخِ نزول اس بات کے منافی نہیں ہے کہ یہاں اوپر سے نیچے کی طرف تنزل کا معاملہ ہو۔ ج) اس سوال کے جواب میں ایک اور احتمال بھی ہے اور وہ یہ کہ اصولاً ”قرآن“ ایک ایسا لفظ ہے جو پورے قرآن کے لئے بھی بولا جاتا ہے اور قرآن کے کچھ حصّے پر بھی، مثلاً سورہٴ جن کی ابتدا میں ہے: <اِنَّا سَمعْنَا قُرْآناً عَجَباً ہم نے عجیب قرآن سنا ہے ۔ واضح رہے انھوں نے قرآن کا کچھ حصّہ ہی سنا تا ۔ اصول طور پر قرآن مادہ ”قرائت“ سے ہے اور ہم جانتے ہیں کہ قرائت وتلاوت پور ے قرآن پر بھی صادق آتی ہے اور جزوِ قرآن پر بھی لہٰذا مثلِ قرآن لانے کے چیلنج کا مفہوم تمام قرآن نہیں ہے بلکہ یہ دس سورتوں کے لئے بھی ٹھیک ہے اور ایک سورت کے لئے بھی درست ہے ۔ دوسری طرف ”سورہ“ بھی ”مجموعہ“ اور ”محدودہ“ کے معنی میں ہے اور یہ لفظ آیات کے کسی بھی مجموعہ پر منطبق ہوجاتا ہے اگر عام اصطلاح میں جسے مکمل سورہ کہتے ہی یہ اس کے برابر بھی نہ ہو۔ دوسرے لفظوں میں ”سورہ“ دومعنوں میں استعمال ہوتاہے ، ایک معنی آیات کاوہ مجموعہ ہے جس کا ایک معیّن مقصد ہو اور دوسرا معنی ایک مکمل سورہ ہے جو بسم الله سے شروع ہوکر بعد والی سورت کی بسم الله سے پہلے ختم ہوجائے، اس بات کی شاہد ”توبہ “ کی آیت ۸۶ ہے جس میں فرمایا گیا ہے: <وَإِذَا اٴُنزِلَتْ سُورَةٌ اٴَنْ آمِنُوا بِاللهِ وَجَاھِدُوا مَعَ رَسُولِہِ.... جس وقت کوئی سورت نازل ہوتی ہے کہ خدا پر ایمان لاوٴ اور اس کے رسول کے ساتھ مل کر جہاد کرو.... واضح ہے کہ یہاں سورہ سے مراد وہ آیات ہیں جو خدا پر ایمان اور جہادکے مذکورہ مقصد کے بارے میں ہیں اگرچہ وہ ایک مکمل سورت کا ایک حصّہ ہی ہوں ۔ مفردات میں راغب نے بھی سورہ نور کی پہلی آیت ”سورة انزلناھ...“ کی تفسیر میں کہا ہے: اٴیّ جملة من الاحکام والحکم.... جیسا کہ ہم دیکھ رہے یہاں سورت کو احکام کا ایک مجموعہ قرار دیا گیا ہے ۔ اس گفتگو کے پیش نظر قرآن، سورت اور دس سورتوں میں لغوی مفہوم کے لحاظ سے کوئی خاص فرق نہیں رہتا یعنی ان تمام الفاظ کا اطلاق قرآن مجیدکی چند آیتوں پر ہوسکتا ہے اس کا مطلب یہ ہے کہ قرآن چیلنج ایک لفظ اور ایک جملے کے لئے نہیں کہ کوئی دعویٰ کرے کہ مَیں آیہٴ ”والضحیٰ“ اور آیہٴ ”مدھامتان“ یا قرآن کے کسی سادہ جملے کی مثل لاسکتا ہوں بلکہ تمام جگہوں پر آیات کے ایک ایسے مجموعے کے بارے میں جس کا ایک خاص ہدف اور مقصد ہو (غور کیجئے گا)
تفسیر نمونہ - آیت اللہ مکارم شیرازی Commentary
Commentary on Quran 11:12-14
۷۔ ”إِنْ لَّمْ یَسْتَجِیبُوا لَکُمْ“ کے مخاطب:
اس سلسلے میں مفسّرین میں اختلاف ہے کہ ”إِنْ لَّمْ یَسْتَجِیبُوا لَکُمْ“ میں مخاطب کون ہیں ۔ بعض کہتے ہیں کہ مخاطب مسلمان ہیں، یعنی اگر منکرین نے تمھاری دعوت پر لبیک نہ کہا اور قرآن کی دس سورتوں کی مثل نہ لائے تو جان لو کہ یہ قرآن کی طرف سے ہے اور یہی خود اعجاز قرآن کی دلیل ہے ۔ بعض دوسروں نے کہا کہ مخاطب منکرین ہیں یعنی اے منکرین! اگر باقی انسان اور جو کچھ غیر از خدا ہے انھوں نے مثلِ قرآن لانے میں مدد کے لئے تمھاری دعوت پر لبیک نہ کہا اور وہ عاجز وناتواں رہ گئے تو پھر جان لو کہ یہ قرآن خدا کی طرف سے ہے ۔ نتیجہ کے لحاظ سے دونوں تفاسیر میں کوئی فرق نہیں ہے تاہم پہلا احتمال زیادہ نزدیک معلوم ہوتا ہے ۔ ۱۵ مَنْ کَانَ یُرِیدُ الْحَیَاةَ الدُّنْیَا وَزِینَتَھَا نُوَفِّ إِلَیْھِمْ اٴَعْمَالَھُمْ فِیھَا وَھُمْ فِیھَا لَایُبْخَسُونَ ۱۶ اٴُوْلٰئِکَ الَّذِینَ لَیْسَ لَھُمْ فِی الْآخِرَةِ إِلاَّ النَّارُ وَحَبِطَ مَا صَنَعُوا فِیھَا وَبَاطِلٌ مَا کَانُوا یَعْمَلُونَ ترجمہ ۱۵۔ جو لوگ دُنیا اور اس کی زینت کو چاہتے ہیں ہم ان کے اعمال انھیں بے کم وکاست اسی جہان میں دے دیں گے ۔ ۱۶۔ (لیکن) آخرت میں (جہنم کی) آگ سے سوا ان کا (کچھ حصّہ) نہیں ہوگا اور جو کچھ انھوں نے دنیا میں (مادّی مقاصد اور غیرخدا کے لئے) انجام دیا ہے وہ برباد ہوگا اور ان کے اعمال باطل ہوجائیں گے ۔
تفسیر نمونہ - آیت اللہ مکارم شیرازی Commentary
Commentary on Quran 11:12-14
تفسیر
گزشتہ آیات نے اعجاز قرآن کے دلائل پیش کرکے مشرکین اور منکرین پر حجت تمام کردی ہے اور چونکہ حق واضح ہوجانے کے باوجود ایک گروہ نے صرف اپنے مادی منافع کی خاطر سرِتسلیم خم نہیں کیا لہٰذا محلِ بحث آیات میں ایسے دنیا پرست افراد کے انجام کی طرف اشارہ کرتے ہوئے فرمایا گیا ہے ”جس کا مقصد صرف دنیاوی زندگی کی رنگینیاں اور اس کی زنیت ہو وہ اس جہان میں اپنے اعمال کا نتیجہ پالے گا بغیر اس کے کہ کوئی چیز اس میں کم ہے“ (مَنْ کَانَ یُرِیدُ الْحَیَاةَ الدُّنْیَا وَزِینَتَھَا نُوَفِّ إِلَیْھِمْ اٴَعْمَالَھُمْ فِیھَا وَھُمْ فِیھَا لَایُبْخَسُونَ) ۔ ”بخس“لغت میں حق کے نقصان کے معنی میں آیا ہے اور ”وَھُمْ فِیھَا لَایُبْخَسُونَ“ اس طرح اشارہ ہے کہ وہ اپنے اعمال کا نتیجہ بغیر تھوڑے سے بھی نقصان کے پالیں گے ۔ یہ آیت خداتعالیٰ کی ایک دائمی سنّت کو بیان کررہی ہے اور وہ یہ کہ مثبت اعمال اور موٴثر نتائج ختم نہیں ہوتے، فرق یہ ہے کہ اگر اعمال کا اصلی مقصد اس جہاں کی مادّی زندگی کا حصول ہے تو نتیجہ بھی مادّی ہی ہوگا لیکن اگر مقصد خدا اور اس کی رضا کا حصول ہو تو وہ اس جہان میں بھی ثمر بخش ہوں گے اور دوسرے جہاں میں بھی پُربار نتائج پیدا کریں گے ۔ درحقیقت پہلی قسم کے اعمال ایسی غیر مستقل اور کم عمر عمارت کی طرح ہیں جسے وقتی ضرورت کے لئے بنایا جاتا ہے اور اس سے استفادہ کیا جاتا ہے اور اس کے بعد وہ ویران ہوجاتی ہے لیکن دوسری قسم کی مثال ایسی محکم اور مضبوط بنیادوں والی عمارت کی سی ہے جو صدیوں تک برقرار رہتی ہے اور قالِ استفادہ ہوتی ہے، اس امر کا نمونہ آج کل ہم اپنے گردو پیش دیکھتے ہیں، مغربی دنیا نے اپنی مسلسل اور منظم کوشش سے بہت سے علوم کے اسرار معلوم کئے ہیں نیز مغربی دنیا نے مادہ کی مختلف طاقتوں پر تصرف حاصل کرلیا ہے اور مسلسل کوشش اور مشکلات کے مقابلے میں استقامت، اتحاد اور ہم بستگی ہے انھوںنے بہت سی نعمات حاصل ہیں ۔ اس بناء پر اس میں کوئی شک نہیں کہ وہ اپنے اعمال اور کوشش کے نتائج حاصل کریں گے اور درخشاں اور واضح کامیابیوں سے ہمکنار ہوں گے لیکن دوسری طرف سے چونکہ ان کا مقصد صرف دنیاوی زندگی ہے لہٰذا ان اعمال کا طبعی وفطری اثر سوائے ان کے لئے مادی وسائل فراہم ہونے کے اور کوئی نہیں ہوگیا یہاں تک کہ ان کے انسانی اور بڑے کام مثلاً ہسپتال بنانا، شفاخانے قائم کرنا، علمی مراکز قائم کرنا، غریب اقوام کی مدد کرنا اور اس قسم کے دیگر فلاحی کام، اگر ان کے استعمار واستثمار کی قیمت نہ ہو تو چونکہ بہرحال مادّی ہدف کے تحت اور مادّی منافع کے لئے ہوتے ہیں لہٰذا ان کا صرف مادی اثر ہوگا ، اسی طرح وہ لوگ جو ریاکارانہ کام کرتے ہیں ان کے علاوہ جو انسانی حوالوں سے ہوتے ہیں ان کے صرف مادی اثرات مرتب ہوتے ہیں ۔ اسی لئے بعد والی آیت میں صراحت سے فرمایا گیا ہے: ایسے افراد کے لئے آخرت میں (جہنم کی) آگ کے سوا کوئی فائدہ نہیں ہے (اٴُوْلٰئِکَ الَّذِینَ لَیْسَ لَھُمْ فِی الْآخِرَةِ إِلاَّ النَّارُ) ۔ ”اور جو کچھ انھوں نے اس جہان میں انجام دیا ہے وہ دوسرے جہاں میں محو ونابود ہوجائے گا اور اس کے بدلے میں انھیں کوئی جزا نہیں ملے گی“ (وَحَبِطَ مَا صَنَعُوا فِیھَا) ۔ ”اور وہ تمام اعمال جو انھوں نے غیر خدا کے لئے انجام دیئے ہیں باطل ونابود ہوجائیں گے (وَبَاطِلٌ مَا کَانُوا یَعْمَلُونَ) ۔ ”حبط“ (بروزن ”وقت“) کا معنی در اصل ایسا حیوان ہے جو نامناسب گھاس پھوس میں اتنا زیادہ کھالے کہ اس کے پیٹ ہَوا بھرجائے اور اس کا اوجھڑی بیمار اور ضائع ہوجائے، اس عالم میں یہ جانور ظاہراً تو چاق وچوبند نظر آتا ہے حالانکہ باطناً مریض ہوتات ہے ۔ یہ ایسے اعمال کے لئے نہایت موثر اور عمدہ تعبیر ہے جو ظاہراً مفید اور نسانی ہیں لیکن باطن میں آلودہ اور پست نیّت سے انجام دیئے گئے ہیں ۔
تفسیر نمونہ - آیت اللہ مکارم شیرازی Commentary
Commentary on Quran 11:12-14
قرآن ایک معجزہٴ جادواں
ان آیات سے یہ ظاہر ہوتا ہے کہ پیغمبر اکرم بعض اوقات دشمنوں کی شدید مخالفت اور ہٹ دھرمی کی بناء پر بعض آیات کی تبلیغ کسی موقع کے لئے ملتوی رکھتے تھے ۔ لہٰذا زیرِ بحث پہلی آیت میں خداوندِعالم اس بیان کے ساتھ اپنے پیغمبر کو اس کام سے منع فرماتا ہے: گویا بعض آیات کی تبلیغ کہ جن کی وحی ہوتی ہے، ترک کردیتے ہو اور اس لحاظ سے تمھارا دل تنگ اور مضطرب ہوجاتا ہے (فَلَعَلَّکَ تَارِکٌ بَعْضَ مَا یُوحیٰ إِلَیْکَ وَضَائِقٌ بِہِ صَدْرُکَ) ۔ اور اس بات سے ناراحت ہوجاتے ہو کہ شاید وہ تجھ سے من پسند معجزات کی خواہش کریں اور ”کہتے ہیں کیوں اس پر خزانہ نازل نہیں ہوا یا کیوں اس کے ہمراہ فرشتہ نہیں آیا (اٴَنْ یَقُولُوا لَوْلَااٴُنزِلَ عَلَیْہِ کَنزٌ اٴَوْ جَاءَ مَعَہُ مَلَکٌ) البتہ جیسا کہ قرآن کی دوسری آیات سے مثلاً سورہٴ بنی اسرائیل کی آیت ۹۰ تا ۹۳ سے معلوم ہوتا ہے کہ ان کا تقاضا اس بناء پر نہ تھا کہ وہ قبولِ حق کے لئے اور دعوت کی صداقت کے لئے معجزہ دیکھیں بلکہ وہ یہ تقاضا بہانہ جوئی، ہٹ دھرمی اور عناد کے باعث کرتے تھے لہٰذا قرآن بلافاصلہ کہتا ہے: تو صرف خوف دلانے اور ڈرانے والا ہے (إِنَّمَا اٴَنْتَ نَذِیرٌ) ۔یعنی چاہے قبول کریں یا نہ کریں، تمسخر اڑائیں اور ہٹ دھرمی سے کام لیں ۔ آیت کے آخر میں فرمایا گیا ہے: خدا ہر چیز ا حافظ، نگہبان اور ناظر ہے (وَاللهُ عَلیٰ کُلِّ شَیْءٍ وَکِیلٌ) یعنی ان کے ایمان وکفر کی پرواہ نہ کرو اور یہ معاملہ تمھارے ساتھ مربوط نہیں ہے ، تمھاری ذمہ داری ابلاغ اور پیغام پہنچانا ہے، خدا خود جانتا ہے کہ ان کے کس طرح سلوک کرے اور وہی ان کے ہر کام کا حساب کتاب رکھنے والا ہے ۔ یہ بہانہ جوئی اور اعتراض تراشی چونکہ اس بناء پر تھی کہ وہ اصولی طور پر وحی الٰہی کے منکر تھے اور کہتے تھے کہ یہ آیات خدا کی طرف سے نہیں ہیں، یہ جملے محمد نے خود جھوٹ موٹ خداپر باندھے ہیں، اسی لئے بعد والی آیت اس بات کا جواب جتنی صراحت سے ہوسکتا تھا دیتے ہوئے کہتی ہے: وہ کہتے ہیں کہ اس (پیغمبر) نے یہ (آیات) خدا پر افتراء باندھی ہیں (اٴَمْ یَقُولُونَ افْتَرَاہُ) ۔”ان سے کہہ دو اگر سچ کہتے ہو کہ یہ انسانی دماغ کی تخلیق ہیں تو تم بھی اس قسم کی دس جھوٹی سورتیں بناکر لاوٴ اور خدا کو چھوڑکر جس سے ہوسکتا ہے اس میں مدد کی دعوت دو (قُلْ فَاٴْتُوا بِعَشْرِ سُوَرٍ مِثْلِہِ مُفْتَرَیَاتٍ وَادْعُوا مَنْ اسْتَطَعْتُمْ مِنْ دُونِ اللهِ إِنْ کُنتُمْ صَادِقِینَ) ۔ لیکن اگر انھوں نے تم مسلمانوں کی دعوت قبول نہ کی اور کم از کم ایسی دس سورتیں بھی نہ لانے تو پھر جان لو کہ یہ کمزوری اور ناتوانی اس بات کی نشانی ہے کہ ان آیات کا سرچشمہ علمِ الٰہی ہے ورنہ اگر یہ فکر بشر ہی ہیں (فَإِلَّمْ یَسْتَجِیبُوا لَکُمْ فَاعْلَمُوا اٴَنَّمَا اٴُنزِلَ بِعِلْمِ اللهِ) ۔ نیز جان لو کہ خدا کے علاوہ کوئی معبود نہیں ہے اور ان آیاتِ پُر اعجاز کا نزول اس حقیقت کی دلیل ہے (وَاٴَنْ لَاإِلَہَ إِلاَّ ھُوَ) ۔ اے مخالفین! کیا اس حالت میں تم فرمانِ الٰہی کے سامنے سرتسلیم خم کروگے (فَھَلْ اٴَنْتُمْ مُسْلِمُونَ) ۔ باوجودیکہ ہم نے تمھیں مقابلے کی دعوت دی ہے اور اس دعوت پر تمھارا عجز ثابت ہوگیا ہے کیا اس کے باوجود کوئی شک کی کی گنجائش باقی ہے کہ یہ آیات خدا کی طرف سے ہیں، اس واضح معجزہ کے ہوتے ہوئے کیا پھر بھی تم ان کی راہ پر چلوگے یا سرِ تسلیم خم کرلوگے ۔
تفسیر نمونہ - آیت اللہ مکارم شیرازی Commentary
Commentary on Quran 11:12-14
۱۔ آیت ”لعلّ“ کا مفہوم:
۔ آیت ”لعلّ“ کا مفہوم: جیسا کہ ہم جانتے ہیں کہ ”لعلّ“ عام طور پر کسی چیز کے بارے میں توقع کا اظہار کے لئے آتا ہے، البتہ یہاں یہ لفظ نہیں کے معنی میں آیا ہے، یہ بالکل اسی طرح ہے جیسے ایک باپ اپنے بیٹے کو کسی چیز سے روکنا چاہے تو کہے: شاید تیری دوستی اس شخص سے جو اپنے کاموں میں زیادہ پختہ کار نہیں ہے، یعنی اس سے دوستی نہ رکھ کیونکہ اس کی دوستی تجھے سُست اور بیکار بنادے گی، لہٰذا ایسے مواقع پر ”لعلّ“ اگرچہ ”شاید“ کے معنی میں استعمال ہوتا ہے تاہم اس کا التزامی مفہوم کسی کام کے کرنے سے روکنا ہے ۔ زیرِ بحث آیات میں بھی خداتعالیٰ اپنے پیغمبر کو تاکید کرتا ہے کہ آیات الٰہی کی تبلیغ مخالفین کی تکذیب کے ڈرسے یا دل خواہ معجزات کے تقاضے کی وجہ سے تاخیر میں نہ ڈالیں ۔